Tree plantation in Multan
  • خصوصی تقریب کا انعقاد: آئی سی ایم اے (ICMA) ملتان کیمپس میں شجرکاری مہم کے سلسلے میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔
  • ماحولیاتی چیلنجز پر تشویش: جوائنٹ ڈائریکٹر ثمینہ خان کیانی نے موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اور ماحولیاتی آلودگی کو موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور پودوں کی حفاظت پر زور دیا۔
  • نوجوانوں کا کردار: طلبہ اور نوجوان نسل کو ماحول دوست رویوں کے فروغ اور تعلیمی اداروں کو سرسبز بنانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کی تاکید کی گئی۔
  • دعائیہ تقریب: جوائنٹ ڈائریکٹر، اساتذہ اور طلبہ نے پودے لگا کر ملک و قوم کی سلامتی اور سرسبزی کے لیے اجتماعی دعا مانگی۔

ملتان (خاص رپورٹ): انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICMA) ملتان کیمپس میں قومی شجرکاری مہم کے سلسلہ میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں کے طلبہ اور معاشرے میں درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ تقریب میں جوائنٹ ڈائریکٹر آئی سی ایم اے ملتان کیمپس ثمینہ خان کیانی، ایڈمن آفیسر عمر اعوان، مسز فوزیہ، مسز عبیرہ، دیگر اساتذہ، انتظامی عملے اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز کیمپس کے سبزہ زار میں پودا لگا کر کیا گیا، جس کے بعد ملک کی خوشحالی، سرسبزی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اجتماعی دعا مانگی گئی۔ اس موقع پر مقررین نے شجرکاری کو موجودہ دور میں ایک قومی و اخلاقی فریضہ قرار دیا۔

تقریب کی تفصیلا ت اور مقررین کا خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ ڈائریکٹر آئی سی ایم اے ملتان کیمپس ثمینہ خان کیانی نے شجرکاری کی اہمیت اور ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ درخت قدرت کا ایک انمول اور قیمتی تحفہ ہیں جو نا صرف ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ہوا سے آلودگی کا خاتمہ کر کے انسانی صحت کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف پودا لگا دینا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد تب حاصل ہوتا ہے جب اس کی باقاعدہ دیکھ بھال اور حفاظت کی جائے تاکہ وہ ایک تناور درخت بن کر آنے والی نسلوں کو سایہ، آکسیجن اور بہتر ماحول فراہم کر سکے۔

جوائنٹ ڈائریکٹر ثمینہ خان کیانی کے خطاب کے اہم نکات:

  • قدرت کا تحفہ: درخت ماحول کو خوشگوار بنانے اور بیماریوں سے بچاؤ کا قدرتی ذریعہ ہیں۔
  • حفاظت پر توجہ: پودا لگانے کے بعد اس کی دیکھ بھال اور آبیاری کرنا ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔
  • نوجوانوں کی تربیت: طلبہ شجرکاری میں حصہ لے کر تعلیمی اداروں اور اپنے محلے کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔
  • مستقبل کی ضمانت: پاکستان کا محفوظ اور سرسبز مستقبل زیادہ سے زیادہ درخت لگانے میں مضمر ہے۔

تعلیمی اداروں اور طلبہ کا محولیاتی کردار

تقریب کے دوران اس بات پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا کہ تعلیمی ادارے کس طرح ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کا بہترین پلیٹ فارم بن سکتے ہیں۔ جوائنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک کا حقیقی اثاثہ اور مستقبل ہوتی ہے۔ جب طلبہ عملی طور پر شجرکاری کی مہمات میں حصہ لیتے ہیں تو ان کے اندر فطرت سے محبت اور ماحول دوست رویوں کو فروغ ملتا ہے۔

آئی سی ایم اے کے اساتذہ ایڈمن آفیسر عمر اعوان، مسز فوزیہ اور مسز عبیرہ نے بھی کیمپس میں اپنے اپنے ہاتھوں سے پودے لگائے اور طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے گھروں اور ارد گرد کے علاقوں میں بھی کم از کم ایک پودا لازمی لگائیں۔ اساتذہ نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہیں۔

پس منظر اور تجزیہ: جنوبی پنجاب اور ملتان میں شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات

ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع پچھلے کچھ سالوں سے شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔ سمر سیزن میں ہیٹ ویو (Heatwave) کی شدت اور مون سون کے پیٹرن میں تبدیلی کے باعث خطے میں سبزے کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق صنعتی آلودگی، گاڑیوں کے دھوئیں، اور شہری پھیلاؤ کے لیے درختوں کی بے دریغ کٹائی (Deforestation) نے نہ صرف جنوبی پنجاب کے درجہ حرارت میں اضافہ کیا ہے بلکہ فضا میں آکسیجن کے تناسب کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں میں شجرکاری کی مہمات کا انعقاد انتہائی خوش آئند اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

پاکستان میں شجرکاری اور ماحولیاتی صورتحال پر ایک نظر (ڈیٹا و حقائق):

  1. جنگلات کا تناسب: عالمی معیارات کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا کم از کم 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 5 فیصد سے بھی کم ہے۔
  2. درجہ حرارت پر اثرات: درختوں کی موجودگی سے مقامی درجہ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
  3. آلودگی میں کمی: ایک مکمل تناور درخت سالانہ اوسطاً 21 کلوگرام سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ جذ ب کرتا ہے اور صاف آکسیجن فراہم کرتا ہے۔
  4. سیلاب اور کٹاؤ سے بچاؤ: درختوں کی جڑیں مٹی کے کٹاؤ کو روکتی ہیں اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

پودوں کی نگہداشت کا چیلنج اور آئندہ کا لائحہ عمل

شجرکاری مہمات کے حوالے سے پاکستان میں ایک بڑا چیلنج یہ رہا ہے کہ پودے تو بڑی تعداد میں لگا دیے جاتے ہیں، لیکن بعد میں ان کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اکثر پودے سوکھ جاتے ہیں۔ آئی سی ایم اے ملتان کیمپس کی تقریب میں اس نقطے کو خصوصیت کے ساتھ اٹھایا گیا۔

انتظامیہ نے یہ عزم ظاہر کیا کہ کیمپس میں لگائے جانے والے تمام پودوں کی باقاعدہ آبیاری، کھاد اور تحفظ کے لیے عملے کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں تاکہ ہر پودا ایک صحت مند درخت بن سکے۔

معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت: صحافتی اور ماحولیاتی نقطہ نظر سے، آئی سی ایم اے کی یہ کاوش دیگر تعلیمی اور تجارتی اداروں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ اگر ہر تعلیمی ادارہ، سرکاری و نجی دفتر اپنے احاطے میں شجرکاری کو مستقل پالیسی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف شہروں کا درجہ حرارت کم ہوگا بلکہ زہریلی دھند (Smog) اور ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے مسائل سے بھی نجات ممکن ہو سکے گی۔

تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ نہ صرف آئی سی ایم اے ملتان کو سرسبز بنائیں گے بلکہ اپنے روزمرہ کے رویوں میں بھی ماحول دوست اقدامات کو ترجیح دیں گے تاکہ ملک کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025