نقد امدادی رقم کی تقسیم: شندور ویلفیئر ٹرسٹ چترال کراچی کے زیر اہتمام جغور (لوئر چترال) کے سیلاب سے متاثرہ 29 خاندانوں میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 60 ہزار روپے کی نقد امداد تقسیم کی گئی۔متاثرین کی درجہ بندی: سیلاب سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے 11 مکانات کے مالکان کو فی کس 1 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان اٹھانے والے 18 خاندانوں کو فی کس 20 ہزار روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔مذہبی و سماجی قیادت کی شرکت: تقریب میں سیاسی، مذہبی اور علاقائی عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کراچی کے مخیر حضرات و ٹرسٹ کی قیادت کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔حکومتی و فلاحی اداروں سے اپیل: شرکاء نے حکومت اور مخیر تنظیموں سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، آبپاشی نظام اور پینے کے پانی کی اسکیموں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔چترال (نذیر حسین شاہ سے) — لوئر چترال کے علاقے جغور میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور فوری مالی معاونت کے سلسلے میں شندور ویلفیئر ٹرسٹ چترال کراچی کے زیر اہتمام ایک پروقار اور اثر انگیز تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد قدرتی آفت کی زد میں آنے والے نادار اور متاثرہ گھرانوں کی عملی مدد کرنا تھا تا کہ وہ اپنے بنیادی ڈھانچے اور زندگی کی معمولات کو دوبارہ بحال کر سکیں۔تقریب میں سیاسی و مذہبی شخصیات، علاقائی عمائدین، معروف سماجی کارکنان اور سیلاب متاثرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر ٹرسٹ کی جانب سے آفت زدہ خاندانوں میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 60 ہزار روپے کی نقد امدادی رقم شفاف انداز میں تقسیم کی گئی۔امداد کی تفصیلات اور متاثرہ خاندانوں کا ڈیٹاشندور ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے آفت زدہ علاقے جغور کے جائزہ سروے کے بعد امداد کی تقسیم کا باقاعدہ و شفاف طریقہ کار وضع کیا گیا۔ امدادی رقوم کا خلاصہ درج ذیل ہے:امداد کی نوعیتمتاثرہ خاندانوں کی تعدادفی خاندان رقم (روپے)مجموعی رقم (روپے)مکمل تباہ شدہ مکانات11 خاندان1,00,00011,00,000جزوی متاثرہ مکانات18 خاندان20,0003,60,000کل مجموعی امداد29 خاندان—14,60,000شندور ویلفیئر ٹرسٹ کا انسانی و فلاحی کردارتقریب سے خطاب کرتے ہوئے شندور ویلفیئر ٹرسٹ چترال کے ناظم اور سابق ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور نے ادارے کی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ شندور ویلفیئر ٹرسٹ کراچی طویل عرصے سے چترال کے دور افتادہ اور غریب طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہے۔مولانا عبدالشکور نے کہا:“شندور ویلفیئر ٹرسٹ محض آفت کے وقت ہی نہیں بلکہ تعلیمی میدان میں کمزور طلبہ کی سرپرستی، نادار اور مستحق خاندانوں کی کفالت اور قدرتی آفات کے مواقع پر انسانی جانوں کی بچاؤ اور بحالی کے لیے ہمہ وقت متحرک رہتا ہے۔ حالیہ سیلاب نے چترال کے کئی علاقوں کو لپیٹ میں لے کر درجنوں خاندانوں کو بے گھر اور ان کا ذریعہ معاش تباہ کر دیا، ایسے میں ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم فوری طور پر ان کے زخموں پر مرہم رکھیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ جغور میں نقد رقم کی فراہمی کا مقصد متاثرین کو فوری ریلیف دینا ہے تاکہ وہ اپنے چھت کی جزوی مرمت اور روزمرہ کی ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقیم مخیر حضرات پر زور دیا کہ وہ آفت کے اس دور میں متاثرین کو تنہا نہ چھوڑیں۔علاقائی قیادت اور علماء کا خراجِ تحسینتقریب کے دوران مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شندور ویلفیئر ٹرسٹ کراچی کے ممبران اور کراچی میں مقیم چترالی اور غیر چترالی مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا۔خطاب کرنے والے سرفہرست رہنماؤں میں شامل تھے:مولانا عبدالرحمن (امیر جمعیت علماء اسلام لوئر چترال)مولانا خلیق الزمان کاکاخیل (شاہی خطیب، شاہی مسجد چترال)حاجی عبدالمجید (جنرل سیکرٹری جے یو آئی لوئر چترال)مولانا حبیب اللہ (سابق صدر دارالعلوم چترال)مقررین نے بالخصوص ٹرسٹ کے مرکزی چیئرمین قاری حبیب الرحمن، نائب چیئرمین مفتی عبداللہ، نائب چیئرمین مولانا محمد انیس الرحمن اور مولانا حافظ الرحمن کی مسلسل محنت اور اخلاص کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے دور دراز اور مصروف شہر میں بیٹھ کر اپنے آبائی علاقے چترال کے لوگوں کے درد کو محسوس کرنا اور فوری مالی وسائل فراہم کرنا ایک اعلیٰ انسانی مثال ہے۔چترال میں قدرتی آفات اور جغرافیائی چیلنجز کا پس منظرسلسلہ ہندوکش اور قراقرم کے دامن میں واقع ضلع چترال جغرافیائی اعتبار سے قدرتی آفات بالخصوص گلیشیر پگھلنے، طغیانی، ناگہانی سیلاب (Flash Floods) اور زمین کھسکنے (Landslides) کے شدید خطرات کی زد میں رہتا ہے۔انفراسٹرکچر کی نازک صورتحال: چترال کے اکثر ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب واقع آبادیوں کو سیلابی ریلوں سے شدید نقصان پہنچتا ہے جہاں پکے حفاظتی بند نہ ہونے کے باعث سڑکیں، پل اور مکانات بہہ جاتے ہیں۔آبپاشی و پینے کے پانی کا بحران: سیلاب کے بعد سب سے بڑا مسئلہ زراعت کے لیے آبپاشی کے نالوں اور پینے کے پانی کی اسکیموں کی تباہی سے جنم لیتا ہے، جس سے مقامی زراعت اور لائیو اسٹاک شدید متاثر ہوتے ہیں۔سرکاری و غیر سرکاری اداروں کا اشتراک: قدرتی آفات کی شدت اور وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصانات کے پیش نظر محض سرکاری امداد کافی نہیں ہوتی، جس کے لیے شندور ویلفیئر ٹرسٹ جیسے فلاحی اداروں کا کردار انتہائی اہم اور امدادی ثابت ہوتا ہے۔متاثرہ خاندانوں کا ردِعمل اور حکومتی اداروں سے مطالباتتقریب کے اختتام پر جغور کے عمائدین، معززین اور امداد حاصل کرنے والے سیلاب متاثرین نے ٹرسٹ کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چھت چھن جانے کے بعد مالی مشکلات نے ان کا جینا دو بھر کر دیا تھا، ایسے وقت میں بغیر کسی پیچیدہ کارروائی کے بروقت نقد رقم ملنا ان کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ہے۔تقریب میں موجود دیگر معززین جن میں مولانا محمد ایوب، سابق تحصیل ناظم مولانا محمد، تحصیلدار ریاض احمد، قاری گل فراز، مولانا محب اللہ، مفتی شفیق، قاری وزیر اور ارباب مسیح الملک شامل تھے، نے متفقہ طور پر حکومتی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) سے مطالبہ کیا کہ:متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور رسائی کے راستوں کی فوری بحالی کی جائے۔تباہ شدہ آبپاشی نظام اور پینے کے پانی کی پائپ لائنز کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے۔دریا برد ہونے والی زمینوں اور حفاظتی بندوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ فنڈز جاری کیے جائیں تا کہ آئندہ ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک تمام متاثرہ خاندان اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑے نہیں ہو جاتے، باہمی مدد اور فلاحی کاموں کا یہ سلسلہ بلا تفریق جاری رکھا جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationخیبر پختونخوا میں بین المذاہب ہم آہنگی کا نیا باب: مسیحی وفد کی جامعہ اشرفیہ آمد، مولانا طیب قریشی سے ملاقات، جبری تبدیلی مذہب کی سخت مخالفت اور اقلیتوں کی تحفظ کا عزم صوابی: ٹوپی کے علاقے آزاد خیل میں مکان کی چھت گرنے سے باپ اور بیٹی جاں بحق، ماں اور بیٹا شدید زخمی