پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے جماعت اسلامی کا غیر معینہ مدت کا دھرنا نویں روز میں داخل۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع کا اعلان: امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن کے اشارے پر گورنر ہاؤس کا مرکزی گیٹ بند کرنے یا اسلام آباد کی طرف مارچ کا آپشن موجود۔دھرنے کو صوبے کے تمام اضلاع اور بڑے شہروں تک پھیلانے کے لیے حکمت عملی تیار۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا مؤقف: تحریک کا تمام تر مالی بوجھ کارکنان خود چندوں سے اٹھا رہے ہیں، حکومت فوری طور پر لیوی ٹیکسز ختم کر کے عوام کو ریلیف دے۔پشاور (خاص رپورٹ) ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بھاری ٹیکسز کے خلاف عوامی بے چینی اب ایک منظم اور شدید احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے جماعت اسلامی کا غیر معینہ مدت کا دھرنا مسلسل نویں روز بھی جاری رہا۔ دھرنے میں صوبے بھر سے آئے ہوئے ہزاروں پرعزم کارکنان، تاجر برادری اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو شدید گرمی اور موسم کی سختیوں کے باوجود اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔نویں روز دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے حکومت کو سخت متنبہ کیا کہ اگر عوامی مطالبات پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو دھرنے کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کے حتمی حکم کے منتظر ہیں، جس کے ملتے ہی احتجاج کی نوعیت میں شدید تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔مرکزی گیٹ کا گھیراؤ اور اسلام آباد مارچ کا انتباہدھرنے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالواسع نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس احتجاج کے کئی آئینی و جمہوری اختیارات موجود ہیں۔ اگر مرکزی قیادت کی جانب سے اشارہ ملا تو کارکنان گورنر ہاؤس کے سامنے سے ہٹ کر اس کے مرکزی دروازے پر منتقل ہو جائیں گے جس سے صوبائی انتظامیہ کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا حکم دیا گیا تو خیبر پختونخوا کے کونے کونے سے کارکنان اپنے گھروں کو جانے کے بجائے براہ راست وفاقی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ عبدالواسع کا کہنا تھا کہ “ہماری تحریک کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ۲۵ کروڑ عوام کے معاشی حقوق کی جنگ ہے۔ حکومت کو اب ضد چھوڑ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی اور پیٹرولیم لیوی ٹیکسز کا ڈرامائی خاتمہ کرنا ہو گا۔”خود کفیل تحریک: کارکنان کے ذاتی چندوں سے اخراجات کی تمویلصحافتی نقطہ نظر سے اس دھرنے کی ایک اہم اور منفرد خصوصیت اس کا مالیاتی ڈھانچہ ہے۔ عام طور پر سیاسی دھرنوں اور مظاہروں پر کسی خاص پارٹی فنڈ یا سرمایہ داروں کا اثر و رسوخ نظر آتا ہے، تاہم جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس احتجاج کے تمام تر اخراجات کا بوجھ کارکنان خود اٹھا رہے ہیں۔عبدالواسع نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ دھرنے کے لیے کسی کی طرف نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ کارکنان اور ہمدرد اپنی جیبوں سے چندہ جمع کر کے کھانے پینے، خیموں اور دیگر ترسیلات کے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی تبدیلی، معاشی انصاف اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے جانی و مالی قربانی دینا جماعت اسلامی کے ہر کارکن کے لیے سعادت کا باعث ہے۔دھرنے سے صوبائی و مقامی قیادت کے اہم خطاباتنویں روز دھرنے کے اسٹیج سے جماعت اسلامی اور ذیلی تنظیموں کے متعدد جید رہنماؤں نے خطاب کیا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ خطباء میں درج ذیل اہم شخصیات شامل تھیں:میاں صہیب الدین کاکاخیل (صوبائی نائب امیر، جماعت اسلامی)سہیل بابر راہی (صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری)شکیل احمد (سابق ناظم اعلیٰ و نائب امیر ہزارہ)حافظ حمید اللہ ایڈوکیٹ (امیر جماعت اسلامی پشاور سٹی)خورشید ربانی (نائب امیر ملاکنڈ)کاشف اعظم خلیل (سابق صوبائی وزیر و صدر حق دو پشاور تحریک)طارق متین (ضلعی ترجمان)میاں نادر شاہ (سابق رکن صوبائی اسمبلی)غلام رسول (امیر جماعت اسلامی مردان)شاہ فیصل آفریدی (امیر ضلع خیبر)عبدالغنی مغل (نائب امیر مانسہرہ)مفتی عرفان اللہ (امیر ضلع بنوں)کلیم اللہ (نائب قیم شمالی پختونخوا)عبدالودود مہمند اور ایوب قریشی (سابق بلدیاتی چیئرمین پشاور)ملک گل شرف (صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پشاور)مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گرا کر غریب، متوسط طبقے اور تاجروں کی کمر توڑ دی ہے۔ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے اشیائے خورونوش، کرایوں اور پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔پس منظر: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور عوام پر معاشی بوجھپاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتھل پتھل اور ملکی سطح پر آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے تحت لگائے گئے بھاری ٹیکسوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) اور دیگر سیلز ٹیکسز کی شرح میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔ اس معاشی دباؤ کا براہ راست اثر ملک کی مجموعی مہنگائی (CPI) پر پڑا ہے:ٹرانسپورٹ کے کرائے: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ۲۰ سے ۳۰ فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔زرعی و صنعتی پیداوار: ٹیوب ویلوں اور زرعی مشینری کے اخراجات بڑھنے سے کسانوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے، جبکہ صنعتی یونٹس کی بجلی و ایندھن کی لاگت میں اضافے سے اشیاء کے دام بڑھ گئے ہیں۔اشیاۓ خورونوش: سبزیوں، دالوں، دودھ اور گوشت جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔حکومت پر اثرات اور سیاسی تناظرجماعت اسلامی کے اس نو روزہ دھرنے نے خیبر پختونخوا کی صوبائی اور بالخصوص وفاقی حکومت کے لیے سیاسی و انتظامی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ گورنر ہاؤس پشاور وفاق کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے وہاں مسلسل دھرنا دینے کا بنیادی مقصد مرکز پر دباؤ بڑھانا ہے۔اگر جماعت اسلامی اپنے اعلان کے مطابق دھرنے کو صوبے کے تمام اضلاع (جیسے مردان، سوات، ایبٹ آباد، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان) تک پھیلاتی ہے تو اس سے ملک کی شاہراہوں اور انتظامی امور پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت اسلامی اس وقت اپوزیشن کی سب سے متحرک جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے جو سیاسی نعروں کے بجائے براہ راست عوامی و معاشی مسائل کو اپنا ایجنڈا بنائے ہوئے ہے۔تجزیہ اور ممکنہ مستقبل کا لائحہ عملجماعت اسلامی پشاور کا یہ دھرنا صرف ایک مقامی مظاہرہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ملک گیر عوامی بے چینی کا اشاریہ بن چکا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز کی مد میں کچھ نرمی کر کے عوام کو ریلیف نہ دیا تو یہ احتجاجی تحریک اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کر سکتی ہے، جس سے حکومت کے لیے سیاسی اور انتظامی بحران مزید شدید ہو جائے گا۔عوام کی نظریں اس وقت جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے اگلے فیصلے اور حکومت کے ممکنہ مذاکراتی ردعمل پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر پیش رفت نہ کی تو ان دھرنوں کا دائرہ کار وفاقی دارالحکومت کے گھیراؤ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپشاور میں پائپ لائن کی مرمت کے باعث گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی: ایس این جی پی ایل کا نوٹس جاری ویمن یونیورسٹی مردان کی اعلیٰ طبی اداروں سے شراکت داری: طالبات کی عملی تربیت اور جدید تحقيق کے لیے تاریخی پیش رفت