تعلیمی و طبی شراکت داری: ویمن یونیورسٹی مردان (WUM) نے شعبہ ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹکس کی طالبات کے لیے اسد ضیاء ہسپتال اور احسان میڈیکل سینٹر کے ساتھ دو الگ الگ معاہدوں (MoUs) پر دستخط کیے۔کلینیکل انٹرنشپ اور عملی تجربہ: بی ایس کے آخری سمسٹر کے اہل طلباء کو متعلقہ طبی مراکز میں 4 سے 6 ہفتوں کی زیرِ نگرانی عملی تربیت اور کلینیکل انٹرنشپ کا موقع فراہم کیا جائے گا۔تحقیق اور اخلاقی ضوابط: معاہدوں کے تحت مشترکہ تحقیقی منصوبوں، ورکشاپس، ڈیٹا کی رازداری اور سپروژن کے مربوط نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔معاہدے کی مدت: دفتر برائے ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کی سہولت کاری سے طے پانے والے یہ دونوں معاہدے ابتدائی طور پر تین سال کی مدت کے لیے نافذ العمل ہوں گے۔مردان (خاص رپورٹ) خیبر پختونخوا میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ بالادستی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ویمن یونیورسٹی مردان (WUM) نے اپنے شعبہ ‘ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹکس’ (Human Nutrition & Dietetics) کی طالبات کو جدید کلینیکل ٹریننگ، عملی تجربے اور معری تحقیق سے آراستہ کرنے کے لیے پشاور اور مردان کے نامور طبی اداروں — اسد ضیاء ہسپتال اور احسان میڈیکل سینٹر — کے ساتھ دو اہم اور الگ الگ مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں۔اس پیش رفت کا بنیادی مقصد تھیوریٹیکل (نظریاتی) تعلیم اور حقیقی دنیا کے طبی تجربے کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنا ہے تاکہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد طالبات صحت عامہ کے شعبے میں بطور ماہر غذائیات (Dietitians & Nutritionists) فوری اور موثر خدمات انجام دے سکیں۔معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم شخصیاتاس اہم تعلیمی و طبی شراکت داری کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں یونیورسٹی کی انتظامیہ اور طبی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ویمن یونیورسٹی مردان کی نمائندگی: دونوں تاریخی معاہدوں پر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ احمد نے دستخط کیے۔اسد ضیاء ہسپتال کی نمائندگی: ہسپتال کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ڈاکٹر ایمن ضیاء نے ایم او یو پر دستخط کیے۔احسان میڈیکل سینٹر کی نمائندگی: سینٹر کی جانب سے ان کے سی ای او مسٹر بلند خان نے معاہدے کی توثیق کی۔معاہدے کی تیاری اور کوآرڈینیشن میں ویمن یونیورسٹی مردان کے ‘دفتر برائے ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن’ (ORIC) نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ORIC کی ڈائریکٹر محترمہ حلیمہ اکرام اور شعبہ ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹکس کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ بی بی نے تعلیمی و انتظامی ضوابط کی ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کیا۔معاہدے کے بنیادی نکات اور عملی خدوخالطے پانے والے معاہدوں کے تحت ویمن یونیورسٹی مردان کی طالبات کو پیشہ ورانہ تربیت اور تحقیق کے حوالے سے متعدد سہولیات حاصل ہوں گی:شعبہ / پہلوتفصیلات و شرائطاہلیت اور ہدفBS ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹکس کے اہل طلباء، بالخصوص آخری سمسٹر کے طلباءتربیت کا دورانیہ4 سے 6 ہفتوں کی زیرِ نگرانی کلینیکل انٹرنشپ اور عملی تربیتتحقیقی تعاونمشترکہ تحقیقی منصوبے، قومی و بین الاقوامی سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقادشفافیت و ضوابطسپروژن، ڈیٹا کی رازداری (Data Privacy) اور اخلاقی تعمیل (Ethical Compliance) کا مکمل نظاممعاہدے کی مدت3 سال (قابلِ تجدید باہمی رضامندی سے)تعلیمی اور معاشی پس منظر: ہیومن نیوٹریشن کی بڑھتی ہوئی اہمیتپاکستان میں حالیہ چند دہائیوں کے دوران غذائیت اور خوراک سے وابستہ امراض کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک طرف جہاں ملک کا ایک بڑا حصہ غذائی قلت (Malnutrition) اور بچوں میں سٹنٹنگ (Stunting) جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے، وہیں دوسری طرف ٹاؤنز اور شہری علاقوں میں فاسٹ فوڈ کی مقبولیت کی وجہ سے موٹاپا، ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ان حالات میں ‘ہیومن نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹکس’ صرف ایک ڈگری نہیں بلکہ معاشی و معاشرتی ضرورت بن چکی ہے۔کلینیکل سیٹنگز کی ضرورت: نیوٹریشن کے طلباء کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں ہوتا۔ انہیں ہسپتالوں میں مریضوں کی چارٹنگ، مختلف بیماریوں (مثلاً گردے کے امراض، ذیابیطس، آئی سی یو مریضوں) کے لیے مخصوص ‘ڈائیٹ پلانز’ ترتیب دینے کا عملی تجربہ درکار ہوتا ہے۔مردان میں مواقع کا فقدان: خیبر پختونخوا کے ثانوی شہروں میں طالبات کے لیے معیاری ہسپتالوں میں کلینیکل انٹرنشپ کا حصول ایک چیلنج رہا ہے۔ ویمن یونیورسٹی مردان کی اس کاوش سے مقامی سطح پر ہی طالبات کو اعلیٰ درجے کے طبی مراکز میں سیکھنے کا موقع ملے گا۔طالبات کی پیشہ ورانہ ترقی اور علاقائی صحت پر اثراتاس شراکت داری کے دور رس اثرات نہ صرف ویمن یونیورسٹی مردان کی طالبات پر مرتب ہوں گے بلکہ یہ مردان اور ملحقہ اضلاع کے شعبہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔عملی صلاحیتوں میں اضافہ: 4 سے 6 ہفتوں کی مسلسل کلینیکل ٹریننگ طالبات میں سیلف کانفیڈنس اور عملی مہارت پیدا کرے گی، جس سے وہ ڈگری کے بعد فوری طور پر جاب مارکیٹ میں جگہ بنا سکیں گی۔مقامی ہسپتالوں کو باصلاحیت افرادی قوت کی فراہمی: اسد ضیاء ہسپتال اور احسان میڈیکل سینٹر جیسے اداروں کو تازہ ترین تعلیمی رجحانات سے آراستہ محققین اور طلباء کی مدد حاصل ہوگی، جو مریضوں کی کونسلنگ میں معاون ثابت ہوں گے۔خواتین کی بااختیاری (Women Empowerment): خیبر پختونخوا جیسے روایتی معاشرے میں خواتین کی یونیورسٹی کا اعلیٰ طبی اداروں سے رابطہ قائم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ خواتین کو صحت اور تحقیق کے میدان میں آگے لایا جا رہا ہے۔تحقیقی پیش رفت: مشترکہ تحقیقی منصوبوں سے مقامی سطح پر غذائی امراض کے ڈیٹا بیس کی تیاری میں مدد ملے گی، جو مستقبل کی ہیلتھ پالیسیوں کے لیے کارآمد ہوگا۔یونیورسٹی انتظامیہ اور ماہرین کا مؤقفمعاہدے کی تقریب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ احمد نے کہا کہ “جامعہ کا مقصد محض ڈگریاں تقسیم کرنا نہیں بلکہ اپنی طالبات کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ عملی میدان میں جا کر معاشرے کا مفید عنصر بن سکیں۔ یہ دوہرے معاہدے ویمن یونیورسٹی مردان کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت ہم نظریاتی تعلیم اور صنعتی و طبی عملی تجربے کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کر رہے ہیں۔”اسی طرح اسد ضیاء ہسپتال اور احسان میڈیکل سینٹر کے سربراہان نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یونیورسٹی کی طالبات کو بہترین تعلیمی و طبی ماحول فراہم کریں گے تاکہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کلینیکل پریکٹس سیکھ سکیں۔تجزیہ: پائیدار شراکت داری کی سمت ایک مثبت قدمتعلیمی ماہرین کے مطابق، پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کا انڈسٹری اور ہیلتھ کیئر سیکٹر کے ساتھ کمزور رابطہ ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ ویمن یونیورسٹی مردان کا ORIC سیل کے ذریعے اس قسم کے شفاف، 3 سالہ اور منظم معاہدے کرنا دیگر علاقائی جامعات کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔اگر ان معاہدوں پر روح کے مطابق عملدرآمد جاری رہا تو ان سے نہ صرف سو سے زائد طالبات سالانہ بنیادوں پر مستفید ہوں گی بلکہ مردان میں صحتِ عامہ اور غذائیت سے متعلق آگاہی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ: گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے جماعت اسلامی کا دھرنا نویں روز بھی جاری، اسلام آباد مارچ کی دھمکی کراچی میں بڑھتے جرائم، منشیات اور بدامنی کا نفاذ، علاقہ مکینوں کا اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ