Increasing crime rates in Karachi
  • جرائم کے اڈے: تھانہ ڈاکس کے مختلف علاقوں بالخصوص گرم گلی اور اسکولوں کے قریب منشیات، گٹکا ماوا، سٹا، اور جعلی ائل کی فروخت کے مبینہ بااثر شبکوں کا انکشاف۔
  • سٹریٹ کرائم میں اضافہ: چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی بڑھتی وارداتوں نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا؛ سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش۔
  • پولیس گٹھ جوڑ کے الزامات: علاقہ مکینوں اور مقامی ذرائع کی جانب سے ایس ایچ او وقار قیصر اور پولیس اہلکاروں پر جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی اور مبینہ رشوت کے سنگین الزامات۔
  • عوامی ردعمل: شہریوں نے آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری طور پر بااثر مافیا اور غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف یکسر اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی (کرائم رپورٹر) عروس البلاد کراچی کا ساحلی علاقہ اور تھانہ ڈاکس کی حدود اس وقت امن و امان کی دگرگوں صورتحال اور مبینہ طور پر جرائم کے فروغ کے باعث شدید انتظامی و سیکیورٹی بحران کا شکار ہے۔ مقامی ذرائع اور علاقہ مکینوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، تھانہ ڈاکس کی حدود میں گٹکا ماوا، کھلے عام منشیات کی فروخت، جوئے کے اڈے، ڈبہ پیٹرول، اور جعلی آئل کی فروخت کا کالا دھندہ خوف کے بغیر عروج پر پہنچ چکا ہے۔

علاقے میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ دوسری جانب تھانہ ڈاکس کے ایس ایچ او وقار قیصر اور ان کے دیگر اہلکاروں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اس تمام صورتحال سے یا تو مکمل طور پر ناواقف بنے ہوئے ہیں یا پھر مبینہ طور پر سہولت کاری کے مرتکب ہو رہے ہیں، جس سے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے مزید بلند ہو چکے ہیں۔

گرم گلی اور تعلیمی اداروں کے گرد منشیات کی کھلے عام فروخت

ذرائع اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تھانہ ڈاکس کے علاقے میں واقع “گرم گلی” اور اس کے اطراف کے مقامات غیر قانونی سرگرمیوں کے اہم مرکز بن چکے ہیں۔ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ تعلیمی اداروں جیسے ٹی سی ایف (TCF) اسکول کے قریبی علاقوں میں منشیات اور گٹکا ماوا کی فروخت کے نیٹ ورک قائم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماما یعقوب اور وقاص شوٹر نامی ملزمان اور ان کا گروہ مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار کو چلا رہا ہے۔ بارہا نشاندہی اور شکایت کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک کو ختم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال نے کم عمر بچوں اور سکول جانے والے نوجوانوں کی صحت، سیکیورٹی اور مستقبل پر انتہائی مہلک اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔

تھانہ ڈاکس کی حدود میں قائم غیر قانونی نیٹ ورک کی فہرست

مقامی ذرائع اور کرائم رپورٹرز کی جمع کردہ معلومات کے مطابق اس وقت تھانہ ڈاکس کے مختلف حصوں میں درج ذیل غیر قانونی سرگرمیاں منظم انداز میں جاری ہیں:

  • منشیات و گٹکا ماوا: زہریلے گٹکے اور مختلف اقسام کی منشیات کی بلاروک ٹوک سپلائی اور فروخت۔
  • جوا اور سٹا: جوئے کے اڈے، گھوڑی اور ڈبہ سٹا کے غیر قانونی نیٹ ورکس کا فعال ہونا۔
  • جعلی ائل و ڈبہ پیٹرول: خطرناک اور غیر قانونی طریقوں سے جعلی پیٹرول اور ائل کی فروخت جو حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
  • سٹریٹ کرائم و ڈکیتی: راہگیروں، تاجروں اور عام شہریوں سے موبائل، نقدی اور قیمتی سامان چھیننے کی مسلسل وارداتیں۔

پولیس کا کردار اور عدم کارروائی کے الزامات

مقامی رہائشیوں کا موقف ہے کہ اسپیشل برانچ اور مختلف ٹاسک فورسز کی موجودگی کے باوجود علاقے میں جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔ علاقے میں یہ تاثر عام ہے کہ قانون نافذ کرنے والی مقامی پولیس بالخصوص تھانہ ڈاکس کا عملہ ان مافیاز کے خلاف سخت اور پائیدار قدم اٹھانے سے گریزاں ہے۔

عوام کا الزام ہے کہ پولیس کی مبینہ سرپرستی اور باقاعدہ وصولیوں کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد گرفتار ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ جب تک پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں اور جرائم کے سہولت کاروں کے خلاف اندرونی احتساب شروع نہیں کیا جاتا، تب تک کسی بھی ظاہری کارروائی کے نتائج دیرپا ثابت نہیں ہو سکتے۔

معاشرتی اور معاشی اثرات: عام شہریوں کی زندگی اجیرن

کراچی کا علاقہ ڈاکس تجارتی اور رہائشی لحاظ سے ایک حساس اور اہم علاقہ شمار ہوتا ہے۔ یہاں صنعتی اور ساحلی سرگرمیوں کے باعث روزانہ ہزاروں محنت کشوں اور کاروباری افراد کی آمدورفت رہتی ہے۔ تاہم بدامنی اور جرائم کی حالیہ لہر سے نہ صرف مقامی رہائشی بلکہ تاجر برادری بھی شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

  1. نوجوان نسل کی تبا ہی: گٹکا، ماوا اور منشیات کی آسان دستیابی کی وجہ سے نوجوان طبقہ موذی بیماریوں جیسے منہ کے کینسر اور نشے کی لت میں مبتلا ہو رہا ہے۔
  2. غیر یقینی معاشی صورتحال: تاجروں اور دکانداروں کو شام کے اوقات میں ڈکیتی کا خوف لاحق رہتا ہے جس سے مقامی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
  3. خوف کا ماحول: خواتین اور بچوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو چکا ہے اور ہر گلی محلے میں غیر محفوظ ہونے کا احساس غالب ہے۔

اعلیٰ حکام سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ

تھانہ ڈاکس کی حدود کے مکینوں، سماجی رہنماؤں اور تاجروں نے آئی جی پولیس سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر ڈاکس تھانے کے انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی کی جائے، غیر جانبدار اور ایماندار افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے، اور گرم گلی سمیت تمام معروف اڈوں پر گرینڈ آپریشن کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس سنگین صورتحال کا بروقت تدارک نہ کیا تو یہ علاقہ مکمل طور پر ایک “مافیا ہب” بن جائے گا جس کے اثرات پورے شہر کی امن و امان کی صورتحال پر مرتب ہوں گے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025