پولیس کارروائی: پشاور کے علاقے چمکنی میں پولیس مقابلے کے دوران 90 لاکھ روپے کی خونی راہزنی کا مرکزی ملزم سلمان عرف کٹوخے ہلاک ہو گیا۔واقعے کا پس منظر: ہلاک ملزم نے 15 اگست کو فروٹ منڈی کے قریب مویشیوں کے بیوپاری کو قتل کر کے 90 لاکھ روپے لوٹے تھے۔موقع سے فرار: اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم کے دیگر مسلح ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔سیکیورٹی اقدامات: پشاور پولیس نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے اور ناکہ بندی سخت کر دی ہے۔خبر کی تفصیلات: پشاور میں پولیس کی بڑی کارروائیپشاور (خاص رپورٹ): کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے صوبائی دارالحکومت کے علاقے چمکنی میں ایک اہم اور کامیاب کارروائی کے دوران 90 لاکھ روپے کی سنگین راہزنی اور تاجر کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو نکیل ڈال دی ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز اور ذرائع کے مطابق، تھانہ چمکنی کی حدود میں پیش آنے والے پولیس مقابلے کے دوران بدنام زمانہ ملزم سلمان عرف کٹوخے ہلاک ہو گیا ہے، جبکہ اس کے دیگر مسلح ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا ملزم چند روز قبل فروٹ منڈی کے قریب مویشی تاجر کے قتل اور کروڑوں روپے کے ڈاکے کی واردات میں ملوث تھا اور پولیس کو مختلف سنگین مقدمات میں درکار تھا۔پولیس مقابلہ کیسے پیش آیا؟مورخہ 25 اگست 2026 کو تھانہ چمکنی پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی کہ چند دن قبل ہونے والی 90 لاکھ روپے کی خونی راہزنی میں ملوث خطرناک ملزمان جی ٹی روڈ پر بطرف نوشہرہ موجود ہیں اور کسی نئی واردات یا فرار کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی ایس پی چمکنی سرکل اشفاق خان کی خصوصی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ چمکنی فواد خان کی قیادت میں پولیس ٹیم نے فوری حکمت عملی ترتیب دی اور بتائے گئے مقام کی طرف پیش قدمی کی۔ پولیس ٹیم جب موقع پر پہنچی اور ملزمان کو گھیر کر گرفتاری کی کوشش کی تو ملزمان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس پر براہ راست فائرنگ شروع کر دی۔پولیس کی جانب سے اپنے دفاع اور حقِ خود اختیاری کے تحت جوابی فائرنگ کی گئی۔ طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر مرکزی ملزم سلمان عرف کٹوخے موقع پر ہی شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں دم توڑ گیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روپوش ہو گئے۔ملزم کا سنسنی خیز پس منظر اور 15 اگست کا واقعہہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت سلمان عرف کٹوخے ولد سید محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو بنیادی طور پر باجوڑ کا رہائشی تھا اور حال مقیم شفتل بانڈہ جمیل چوک پشاور تھا۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ہلاک ملزم 15 اگست 2026 کو تھانہ چمکنی کی حدود میں واقع فروٹ منڈی کے قریب پیش آنے والے ایک خونی واقعے کا مرکزی کردار تھا۔ اس دن ملزم اور اس کے مسلح ساتھیوں نے مویشیوں کے تاجر محمد انور ولد محمد بخش (سکنہ کالا کلے) کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب وہ تجارتی سلسلے میں رقم لے کر جا رہا تھا۔ ملزمان نے تاجر کو موقع پر ہی قتل کر دیا اور اس سے 90 لاکھ روپے نقد رقم چھین کر فرار ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد تاجر برادری اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور پولیس پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے شدید عوامی دباؤ تھا۔واقعے کا ڈیٹا اور معلوماتتفصیلاتتفصیلتاریخ کارروائی25 اگست 2026مقامجی ٹی روڈ (بطرف نوشہرہ)، حدود تھانہ چمکنی، پشاورہلاک ملزمسلمان عرف کٹوخے ولد سید محمدسابقہ رہائشباجوڑ (حال مقیم شفتل بانڈہ، پشاور)مرکزی جرم15 اگست کو تاجر کا قتل اور 90 لاکھ روپے کی راہزنیمقتول تاجرمحمد انور ولد محمد بخش (سکنہ کالا کلے)نگران افسرانڈی ایس پی چمکنی سرکل اشفاق خان، ایس ایچ او فواد خانمفرور ملزمان کی تلاش اور پولیس کا سرچ آپریشنپولیس مقابلے کے فوراً بعد پشاور پولیس نے اطراف کے تمام علاقوں کو حصار میں لے کر وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ جی ٹی روڈ اور ملحقہ راستوں پر ناکہ بندی سخت کر دی گئی ہے تاکہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کو ممکن بنایا جا سکے Police Department کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس خونی گروہ کے تمام اعضاء کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ایس ایچ او چمکنی کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیمیں جدید ٹیکنالوجی اور جیوفینسنگ کی مدد سے مفرور ملزمان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کر رہی ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد باقی ملزمان بھی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔شہریوں اور تاجر برادری کا ردعملپشاور کی تاجر برادری بالخصوص مویشی منڈی اور فروٹ منڈی کے تاجروں نے 15 اگست کے دلخراش واقعے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاجر محمد انور کے بے رحمانہ قتل کے بعد علاقے میں کاروباری تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے تھے۔پولیس مقابلے میں مرکزی ملزم کی ہلاکت کی خبر کے بعد تاجر برادری نے سکون کا سانس لیا ہے اور پولیس کی فوری کارروائی کو سراہا ہے۔ تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لوٹی گئی 90 لاکھ روپے کی رقم کی برآمدگی اور مفرور ملزمان کی گرفتاری بھی جلد از جلد یقینی بنائی جائے تاکہ تاجر بلا خوف و خطر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔پشاور میں امن و امان کی صورتحال اور درپیش چیلنجزخیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور ماضی میں بھی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں سٹریٹ کرائمز اور تاجروں سے راہزنی کے واقعات میں اضافے نے پولیس کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کیے تھے۔ تھانہ چمکنی کے اس حالیہ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر جدید حربے استعمال کر رہے ہیں اور تاجروں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پشاور پولیس کی جانب سے پیشگی اطلاع پر فوری ردعمل دینا ایک مثبت پہلو ہے، تاہم شہریوں کے مال و جان کی حفاظت کے لیے رات کے وقت جی ٹی روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر گشت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ایڈیٹوریل نوٹ (تجزیہ)صحافتی معروضیت اور اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات اہم ہے کہ ایسے واقعات میں پولیس کے فراہم کردہ حقائق اور بیانات کا جائزہ قانونی نقطہ نظر سے بھی لیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ملزمان کو انجام تک پہنچائیں بلکہ مقدمے کا مکمل چالان عدالت میں پیش کر کے قانونی طریقہ کار کو شفاف بنائیں۔چمکنی پولیس مقابلے سے جہاں ایک خطرہ کم ہوا ہے، وہیں مفرور ملزمان کی گرفتاری اور لوٹی گئی رقم کی برآمدگی پولیس کے لیے امتحان کی حیثیت رکھتی ہے۔ پشاور پولیس کو چاہیے کہ وہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے آئندہ بھی شفافیت اور قانون کی بالادستی کو مقدم رکھے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationسرحد یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ: انتظامی تنازع سے فائرنگ تک، اختیارات کا ناجائز استعمال اور پیدا ہونے والے فکری سوالات