Preloader
US-Iran War and Field Marshall visit

تحریر: ڈاکٹر سقاف یاسر خان

امریکہ کی ایران پر جنگی دھمکیاں، سخت ترین اقتصادی پابندیاں، اور ایسی عالمی و علاقائی کشیدگی کے عالم میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران — یہ وہ تین اہم محوارتی ستون ہیں جن پر نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا کی آنے والی سیاسی و معاشی صورتِ حال کا انحصار ہے۔

21ویں صدی کے جیو پولیٹیکل منظرنامے میں مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے ہی عالمی طاقتوں کی کھینچ تان اور مفادات کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ تاہم، حالیہ سالوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جس نہج پر پہنچی ہے، اس نے بین الاقوامی سیاست کی بساط پر ایک ایسا تلاطم برپا کر دیا ہے جس کی لپیٹ میں خطے کا ہر ملک آ رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں، سخت اقتصادی پابندیوں اور ملٹری ایکشن یعنی “جنگ” کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف ایران اپنی سخت گیر خارجہ پالیسی اور علاقائی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر امریکی دباؤ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
اس ہمہ گیر بوجھ اور شدید کشیدگی کے دوران، پاکستان کی فوجی قیادت یعنی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران محض ایک روایتی سفارتی اقدام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا جیو اسٹریٹجک قدم تھا جس نے نہ صرف علاقائی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنے پڑوس میں امن کا خواہا ہے اور کسی نئی جنگ کا بار اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ 1979 کے انقلابِ اسلامی کے بعد سے ہی مسلسل کشیدگی کا شکار رہی ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کا طویل المدتی ہدف ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اثر انگیز طاقت بننے سے روکے رکھنا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے واشنگٹن انتظامیہ نے وقتاً فوقتاً ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشنز بھی کھلے رکھے ہیں۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کو امریکی پالیسی ساز اپنے لیے اور اپنے اتحادیوں (خاص طور پر اسرائیل) کے لیے ایک وجودی خطرہ تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے ہیں، امریکی ایوانوں سے “تمام آپشنز میز پر ہیں” (All options are on the table) کی صدا سنائی دیتی ہے۔ امریکی جنگی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا جائے تو ایران پر جنگ عراق یا افغانستان کی طرح آسان نہیں ہے۔ ایران کی جغرافیائی ساخت، اس کی مضبوط روایتی و غیر روایتی عسکری طاقت، بالخصوص ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی، نیز خطے میں اس کے نیٹ ورکس (حزب اللہ، حوثی، اور دیگر جنگجو گروہ) یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کوئی بھی کھلی جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ کو آگ کے شعلوں میں کسی وقت بھی دھکیل سکتی ہے۔ اب تک امریکی فوجی کارروائی سے خلیجِ فارس میں تیل کی فراہمی کو مفلوج کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت ایک شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے۔
امریکہ جب بھی یہ دیکھتا ہے کہ براہِ راست ملٹری ایکشن کے نتائج انتہائی مہلک اور غیر یقینی ہو چکے ہیں، تو وہ اپنے سب سے مؤثر ہتھیار یعنی “معاشی و اقتصادی پابندیوں” (Economic Sanctions) کا استعمال کرتا ہے۔ ایران پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیاں جدید تاریخ کی سب سے سخت ترین اور وسیع تر پابندیوں میں شمار ہوتی ہیں۔

  • ایران کی معیشت کا دارومدار بنیادی طور پر تیل پر ہے۔ امریکہ نے ثانوی پابندیوں (Secondary Sanctions) کے ذریعے دنیا کے تمام ممالک کو ایرانی تیل خریدنے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد ایران کی آمدنی کے سب سے بڑے ذریعے کو خشک کرنا تھا۔
  • ایران کو عالمی مالیاتی نظام (SWIFT) سے باہر کر دیا گیا، جس سے اس کی بین الاقوامی تجارت، آمد و رفت اور غیر ملکی سرمایہ کاری شدید متاثر ہوئی۔
  • پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی واقع ہوئی اور ملک میں مہنگائی کی شرح میں شدید اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ایرانی عوام کو ادویات، خوراک اور بنیادی انسانی ضروریات کی اشیاء کی قلت اور گرانی کا سامنا کرنا پڑا۔
    تاہم، اس تمام تر معاشی محاصرے کے باوجود، ایران نے “مزاحمتی معیشت” (Economy of Resistance) کی پالیسی اپنائی۔ ایران نے چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کیا، غیر رسمی طریقوں سے تیل کی فروخت جاری رکھی، اور مقامی پیداوار پر انحصار بڑھایا۔ امریکی اندازوں کے برعکس، ان سخت پابندیوں نے ایرانی حکومت کے خاتمے یا اس کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر روکنے میں کامیابی حاصل نہیں کی، بلکہ اس سے ایرانی قیادت اور عوام کے اندر امریکہ مخالف جذبات مزید شدید ہوئے۔
    امریکہ اور ایران کے درمیان اس کشیدگی نے پاکستان کے لیے ہمیشہ سے ایک دشوار گزار راستہ پیدا کیا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو متعدد چیلنجز کا شکار ہے:
  • پاکستان اور ایران کے درمیان تقریبًا 900 کلومیٹر طویل سرحد (ڈیورنڈ لائن کے علاوہ سیستان و بلوچستان کا خطہ) موجود ہے۔ اس سرحد پر سیکیورٹی، اسمگلنگ، اور دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت کے شدید مسائل رہتے ہیں۔
  • پاکستان کو شدید توانائی کے بحران کا سامنا ہے، اور پاک ایران گیس پائپ لائن (IP Pipeline) پاکستان کے لیے ایک سستا اور بہترین حل ہو سکتی تھی، لیکن امریکی پابندیوں کے خوف سے پاکستان اس پر عمل درآمد کرنے سے ہچکچاتا رہا ہے۔
  • پاکستان کے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بہترین اور گہرے سٹریٹجک و معاشی تعلقات ہیں، جبکہ یہ ممالک ایران کے روایتی حریف رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات میں کسی ایک کا فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کرے۔
    ایسے نازک موڑ پر، جب امریکہ خطے میں ایران کے خلاف گھیرا تنگ کر رہا تھا اور خلیج میں دھویں کے بادل منڈلا رہے تھے، پاکستان کو اپنی قومی سلامتی، معاشی مفادات اور سرحدی تحفظ کے لیے انتہائی محتاط اور جرات مندانہ سفارت کاری کی ضرورت تھی۔
    اسی تناظر میں، پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا اعلیٰ سطح کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل قرار پایا۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی حرکیات تیزی سے بدل رہی تھیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس دورے کے بنیادی مقاصد اور حاصل ہونے والے اہم نتائج درج ذیل نکات سے واضح ہوتے ہیں:
    1۔ پاک ایران سرحد پر طویل عرصے سے سیکیورٹی خدشات موجود رہے ہیں۔ کالعدم تنظیمیوں اور شرپسند عناصر نے دونوں ممالک کی سرحد کے آر پار کارروائیاں کر کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی عسکری و سیاسی قیادت سے انتہائی صریح اور مثبت گفتگو کی، جس کے نتیجے میں سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور گشت کا طریقہ کار طے پایا۔
    2۔ فیلڈ مارشل کے اس دورے نے دنیا کو، اور بالخصوص امریکہ کو، یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سرحدی اور قومی سلامتی کے معاملے میں کسی بیرونی دباؤ کا شکار نہیں ہوگا۔ پاکستان اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ پائیدار اور مضبوط تعلقات قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ قدم پاکستان کی خود مختار خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
    3۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ یا جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کی جنگ نہ صرف خطے بلکہ خود پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگی۔ فیلڈ مارشل نے ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا داعی ہے اور وہ امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
    4۔ اگرچہ یہ دورہ بنیادی طور پر سیکیورٹی پر مبنی تھا، لیکن سیکیورٹی ہی معاشی سرگرمیوں کی ضامن ہوتی ہے۔ دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی بازاریوں (Border Markets) کے قیام اور قانونی تجارت کے فروغ کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ اس سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کے لیے معاشی روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
    دوسری جانب امریکی پابندیوں اور جنگی حکمتِ عملی کے مقابلے میں، خطے میں ایک نیا بلاک جنم لے رہا ہے۔ چین نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی مصالحت کرا کے یہ ثابت کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اب امریکہ واحد فیصلہ کن طاقت نہیں رہا۔
    پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران بھی اسی وسیع تر علاقائی تبدیلی کی ایک کڑی تھا۔ چین، روس، ایران اور پاکستان کے درمیان بننے والا یہ غیر رسمی اتحاد اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی پابندیوں اور یکطرفہ تسلط کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔ بیجنگ کے سی پیک (CPEC) اور ایران کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدے نے خطے کی جغرافیائی و معاشی سیاسیات کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔
    امریکہ کی ایران پر جنگ کی دھمکیاں اور سخت معاشی پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاقت کا روایتی مرکز اب دنیا کو اپنے احکامات پر چلانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ معاشی پابندیاں اگرچہ ایران کے لیے بے پناہ مشکلات کا باعث بنیں، لیکن وہ ایرانی عزائم کو توڑنے میں ناکام رہیں۔
    اس تمام صورتِ حال میں، پاکستان کا کردار ایک مضبوط، متوازن اور امن پسند ملک کا ہونا چاہیے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان اپنی فوجی طاقت، سفارتی بصیرت اور جغرافیائی اہمیت کو درپیش چیلنجز کے مقابلے کے لیے موثر انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
    پاکستان کے لیے آنے والے ایام میں درج ذیل حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہو گا:
  • امریکہ، چین، خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اپنے تعلقات میں ایک توازن قائم رکھا جائے، تاکہ کسی ایک طاقت کا اثر و رسوخ پاکستان کی اپنی سلامتی کے لیے نقصان دہ نہ بنے۔
  • سرحد کو ایک دوسرے کے لیے خطرہ بنانے کے بجائے معاشی مواقع میں تبدیل کیا جائے۔
  • امریکی پابندیوں کے متبادل راستے تلاش کر کے پاک ایران توانائی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے۔
    آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی تسلط پسندانہ پالیسیوں اور ایران کی مزاحمت کے درمیان، پاکستان کا خطے میں ایک غیر جانبدار اور سیکیورٹی ضامن کے طور پر سامنے آنا ایک انتہائی خوش آئند قدم ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا علمدار ہے اور وہ کسی بھی بیرونی جنگ کو اپنے پڑوس تک پھیلنے نہیں دے گا۔

About The Author

ڈاکٹر محمد سقاف یاسر خان

By ڈاکٹر محمد سقاف یاسر خان

سقاف یاسر انڑنیشنل ریلیشن میں پی ایج ڈی ہیں، جبکہ وکالت کہ شعبے سے بھی تعلق ہے اور ڈیولپمنٹ سیکڑ میں تقریبا ۳۲ سال کا تجربہ رکھتے ہیں جبکہ ۱۹۹۳ سے مصامین تحریر کر رہے ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025