google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Reality of 23 April 1930 massacre

تمہید

تاریخِ ہند میں تحریکِ آزادی کے کئی ایسے باب ہیں جو لہو سے لکھے گئے، لیکن پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں پیش آنے والا 23 اپریل 1930 کا سانحہ اپنی نوعیت کا وہ عظیم واقعہ ہے جس نے برطانوی استعمار کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر سال کی طرح امسال بھی پاکستان ہندکووان تحریک کی جانب سے پشاور کے اسی تاریخی مقام پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تاکہ ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے جنہوں نے نہتے ہو کر سامراجی گولیوں کا سامنا کیا اور اپنی جانیں مادرِ وطن پر نثار کر دیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

23 اپریل 1930: جب پشاور کا لہو پکار اٹھا

آج سے تقریباً چھیانوے برس قبل، 23 اپریل 1930 کی صبح پشاور کا قصہ خوانی بازار ایک میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس دن کا پس منظر برطانوی راج کے خلاف اٹھنے والی ‘سول نافرمانی’ کی تحریک تھی، جس کی قیادت مقامی رہنما کر رہے تھے۔ انگریز سرکار نے تحریک کو دبانے کے لیے جب مقامی قائدین کو گرفتار کیا، تو عوام کا ایک سمندر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آیا۔

واقعات کی ترتیب:

  1. نہتا احتجاج: پشاور کے غیور عوام، جن میں اکثریت مقامی ہندکو زبان بولنے والوں اور دیگر قبائل کی تھی، بالکل نہتے ہو کر احتجاج کر رہے تھے۔
  2. انگریزوں کی بربریت: برطانوی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے بکتر بند گاڑیاں چڑھائیں اور پھر بغیر کسی انتباہ کے گولی چلانے کا حکم دے دیا۔
  3. تاریخی مزاحمت: تاریخ بتاتی ہے کہ جب گولی چلنا شروع ہوئی، تو لوگ بھاگنے کے بجائے اپنی چھاتیاں تان کر سامنے آ کھڑے ہوئے۔ جب ایک صف شہید ہوتی، تو دوسری صف ان کی جگہ لے لیتی۔

جانی نقصانات کے اعداد و شمار

اس بربریت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات انسانی آنکھ کو اشکبار کر دینے والے تھے۔ سرکاری اعداد و شمار میں حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی، تاہم مقامی روایات اور آزادانہ ذرائع کے مطابق:

  • شہداء: 400 سے زائد مقامی افراد اس دن شہید ہوئے۔
  • زخمی: 800 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے، جن میں سے کئی بعد ازاں عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔
  • مقامی ہندکووان کا کردار: اس تحریک میں پشاور کے مقامی ہندکووان آبادی نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ شہر کی گلیوں اور کوچوں سے نکلنے والے ان سپوتوں نے ثابت کیا کہ آزادی کی تڑپ کسی ہتھیار کی محتاج نہیں ہوتی۔

پاکستان ہندکووان تحریک کی تقریب: تجدیدِ عہد

پاکستان ہندکووان تحریک ہر سال اس دن کی یاد میں قصہ خوانی بازار میں یادگارِ شہداء پر تقریب منعقد کرتی ہے۔ امسال بھی اس تقریب میں تحریک کے قائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہداء کے پسماندگان نے شرکت کی۔

تقریب کے اہم نکات:

  • فاتحہ خوانی و خراجِ عقیدت: یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔
  • ثقافتی و تاریخی ورثہ: مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قصہ خوانی کے شہداء کا تعلق اسی دھرتی سے تھا اور ان کی قربانیوں کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ نئی نسل اپنی تاریخ سے واقف ہو سکے۔
  • ہندکو زبان اور شناخت: تقریب میں یہ مطالبہ بھی دہرایا گیا کہ پشاور کی قدیم ہندکو تہذیب اور ان کی قربانیوں کو سرکاری سطح پر مزید پذیرائی دی جائے۔

حاصلِ کلام

23 اپریل 1930 کا واقعہ محض ایک سانحہ نہیں بلکہ برطانوی راج کے خاتمے کا نقطہ آغاز تھا۔ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں گیا، بلکہ اسی جذبے نے آگے چل کر تحریکِ پاکستان کو وہ جلا بخشی جس کے نتیجے میں ہم آج ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں۔ پاکستان ہندکووان تحریک کی یہ کاوشیں لائقِ تحسین ہیں جو ہر سال ان گمنام شہداء کی یاد تازہ کر کے ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ آزادی کی قیمت ہمیشہ لہو سے چکائی جاتی ہے۔

“شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”

About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025