Preloader
Charsadda police resolved several cases
  • ضلعی پولیس سربراہ (DPO) چارسدہ رفعت اللہ خان (PSP) کی قیادت میں ضلع بھر میں مجرمان، منشیات فروشوں اور غیر قانونی اسلحہ برداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔
  • اندھے قتل، رہزانی، چوری اور موٹر سائیکل چھیننے کے درجنوں مقدمات کو حل کرتے ہوئے متعدد متحرک گروہوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور لاکھوں روپے کی مسروقہ رقم اور گاڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں۔
  • منشیات مخالف مہم کے دوران 40 کلو گرام چرس اور 5 کلوگرام سے زائد آئس سمیت دیگر منشیات پکڑ کر 74 ملزمان کو جیل بھیجا گیا ہے۔
  • ہوائی فائرنگ اور غیر قانونی اسلحہ کی نمائش کے خلاف 574 مقدمات درج کر کے 50 کلاشنکوفیں، 648 پستول اور 10 ہزار سے زائد کارتوس برآمد کیے گئے ہیں۔

ضلع چارسدہ میں قانون کی حاکمیت کے لیے سخت ترین اقدامات

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں امن و امان کی فضا کو بحال رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے چارسدہ پولیس نے ایک بار پھر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فیصلہ کن اور بلاامتیاز پیش رفت کی ہے۔ ضلعی پولیس سربراہ (ڈی پی او) رفعت اللہ خان (پی ایس پی) کی خصوصی ہدایت اور مستقیم زیرِ نگرانی شروع کی جانے والی اس ضلعی مہم نے مجرمان کے نیٹ ورک کو تباہ کر دیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ حالیہ کارکردگی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع میں ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس مہم کے دوران نہ صرف سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاریوں کی گھیرا بندی کی گئی ہے بلکہ اسٹریٹ کرائم، منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ کی برسرِعام نمائش کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی شکنجہ کس دیا گیا ہے۔

اسٹریٹ کرائم اور سنگین مالیاتی و جانی جرائم کے خلاف پیش رفت

ضلع چارسدہ میں پچھلے کچھ عرصے سے چوری، رہزانی اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی تھی۔ تاہم، پولیس نے جدید سائنسی خطوط اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی مدد سے اندھے قتل کے پیچیدہ مقدمات کو حل کرنے سمیت متعدد اہم کیسز کو تفتش کے منطقی انجام تک پہنچایا ہے۔

مختلف قسم کے سنگین جرائم کے خلاف درج مقدمات اور گرفتاریوں کا جائزہ درج ذیل ہے:

  • اندھے قتل کے کیسز: پولیس نے انتہائی تندہی سے تفتیش کرتے ہوئے 09 اندھے قتل کے مقدمات کو ٹریس کیا، جن میں ملوث 29 خطرناک ملزمان کو حراست میں لے کر سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا۔
  • رہزانی و ڈکیتی: رہزانی کے 07 مقدمات درج کر کے 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جو راہگیروں کو لوٹنے میں ملوث تھے۔
  • نقب زنی (Housebreaking): گھروں اور دوکانوں میں نسیب توڑ کر چوری کرنے والے گروہوں کے خلاف 13 مقدمات درج کیے گئے اور 09 ملزمان کو پکڑا گیا۔
  • عام چوری کی وارداتیں: چوری کے 08 مختلف مقدمات درج کر کے 07 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔
  • موٹر سائیکل چوری و چھیننا: موٹر سائیکل چوری کے 14 مقدمات میں 09 ملزمان جبکہ اسلحہ کے زور پر موٹر سائیکل چھیننے کے 10 مقدمات میں 07 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
  • دیگر اشیاء چھیننے کے مقدمات: موبائل اور دیگر اشیاء چھیننے کے 02 مقدمات میں 01 ملزم کو حراست میں لیا گیا۔

مالیاتی و مسروقہ سامان کی ریکوری: برآمدگی کی تفصیلات

پولیس کی اس کامیاب کارروائی کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ صرف گرفتاریوں پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ شہریوں کے لوٹے گئے مالی اثاثے اور گاڑیاں بھی برآمد کر کے ان کے اصل مالکان کو واپس کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے کی گئی مجموعی برآمدگی کا ڈیٹا حسبِ ذیل ہے:

  • نقد رقم: ملزمان کے قبضے سے 24 لاکھ 30 ہزار 09 روپے کی مسروقہ اور لوٹی گئی نقد رقم برآمد کی گئی۔
  • مسروقہ سواریاں: شہریوں سے چوری اور چھینی گئی 11 عدد موٹر سائیکلیں اور 01 چنگ چی رکشہ بھی برآمد کر لیا گیا۔

سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرمان کی گرفتاری

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج وہ اشتہاری مجرمان (Proclaimed Offenders) ہوتے ہیں جو قتل، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے بعد عدالتوں اور پولیس کو مطلوب ہو کر روپوشی اختیار کر لیتے ہیں۔

ڈی پی او چارسدہ رفعت اللہ خان کی واضح ہدایات پر ضلع کے تمام پولیس اسٹیشنز میں خصوصی ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں، جنہوں نے مفرور مجرمان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ اس منظم حکمتِ عملی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 296 اشتہاری مجرمان کو گرفتار کر کے عدالتوں کے سامنے پیش کیا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔

منشیات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن محاذ

منشیات بالخصوص جدید کیمیائی نشہ ‘آئس’ (Methamphetamine) معاشرے کے لیے ایک خاموش زہر بن چکا ہے جو نوجوان نسل کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔ چارسدہ پولیس نے منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کیا ہے۔

منشیات کے خلاف آپریشن کا خاکہ درج ذیل ہے:

  • درج مقدمات و گرفتاری: پولیس نے منشیات کی خریدو فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف 67 مقدمات درج کیے اور 74 ملزمان کو گرفتار کیا۔
  • چرس کی برآمدگی: 40 کلوگرام اعلیٰ معیار کی چرس برآمد کی گئی۔
  • آئس (کرسٹل میتھ): نوجوانوں کو تباہ کرنے والی 5 کلوگرام 683 گرام آئس برآمد کی گئی۔
  • افیون و شراب: 722 گرام افیون اور 09 لیٹر شراب برآمد کر کے قبضہ پولیس میں لی گئی۔

غیر قانونی اسلحہ اور ہوائی فائرنگ پر کڑی نظر

خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں اسلحہ کی نمائش اور خوشی کے مواقع پر ہوائی فائرنگ کا رواج جان لیوا ثابت ہوتا رہا ہے۔ اس تدارک کے لیے چارسدہ پولیس نے سخت ترین مہم چلائی، جس کے دوران عام شہریوں میں خوف پھیلانے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بر وقت قانونی کارروائی کی گئی۔

اسلحہ مخالف مہم کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • مقدمات و گرفتاری: غیر قانونی اسلحہ کی نمائش اور نگہداشت پر 574 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 597 ملزمان کو موقع پر گرفتار کیا گیا۔
  • خودکار اسلحہ (کلاشنکوف): 50 عدد کلاشنکوفیں برآمد کی گئیں۔
  • پستول و بندوقیں: 648 عدد مختلف بور کے پستول، 45 عدد رائفلیں اور 37 بندوقیں قبضہ میں لی گئیں۔
  • دستی بم و کارتوس: 03 عدد دستی بم (Hand Grenades) اور مختلف بور کے 10,346 زندہ کارتوس برآمد کیے گئے۔

سماجی اثرات اور ایڈیٹوریل تجزیہ

کسی بھی علاقے میں معاشی ترقی اور سماجی سکون کی بنیادی شرط قانون کی حاکمیت اور بہترین امن و امان ہے۔ چارسدہ پولیس کے یہ مربوط آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر قیادت پراعتماد اور عزمِ مصمم رکھتی ہو تو قلیل عرصے میں مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

صحافتی تجزیے کے مطابق:

  1. عوامی اعتماد میں اضافہ: تھانہ کلچر میں تبدیلی اور لوٹی گئی رقم کی برآمدگی سے عام شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال ہوتا ہے۔
  2. جرائم میں کمی کا امکان: اشتہاریوں کی اتنی بڑی تعداد میں گرفتاری سے سٹریٹ کرائمز اور انتقامی قتل کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی۔
  3. مستقبل کا چیلنج: منشیات کی اتنی بھاری مقدار کا پکڑا جانا جہاں ایک طرف پولیس کی کامیابی ہے، وہیں یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ منشیات کی سپلائی چین کو مستقل طور پر توڑنے کے لیے مزید سخت بارڈر اور انٹیلی جنس مانیٹرنگ کی ضرورت رہے گی۔

ضلعی پولیس سربراہ رفعت اللہ خان (PSP) کے عزم کے مطابق چارسدہ پولیس شہریوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کے لیے آئندہ بھی اسی جذباتی اور پیش ورانہ صلاحیت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025