ایبٹ آباد کے علاقہ سپلائی سے فارمیسی مالکان کے 12 سالہ بچے عبداللہ کو 10 کروڑ روپے تاوان کی خاطر مغوی بنا لیا گیا۔اسلام آباد کی تھانہ ترنول پولیس نے 26 نمبر ناکے پر مشکوک ہونڈا سٹی گاڑی کی چیکنگ کے دوران بچے کو بخیریت بازیاب کروا لیا۔تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا کہ اغوا کا مرکزی ماسٹر مائنڈ بچے کے چچا کا بیٹا (کزن) اویس ہی نکلے۔اسلام آباد پولیس نے مرکزی ملزم اویس سمیت نیاز خان اور علی احمد کو گرفتار کر کے بچے کو والدین اور ایبٹ آباد پولیس کے حوالے کر دیا۔ایبٹ آباد سے 12 سالہ بچہ 10 کروڑ تاوان کے لیے اغواءایبٹ آباد میں سنسنی خیز اغواء اور اسلام آباد پولیس کی کامیاب کارروائیخیبر پختونخوا کے پرامن اور خوبصورت شہر ایبٹ آباد کے گنجان آباد علاقے سپلائی میں ایک ایسا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے پورے ہزارہ ڈویژن کو تشویش اور خوف کی لہر میں مبتلا کر دیا۔ ایک معروف تاجر خاندان کے 12 سالہ بچے عبداللہ ولد ابراہیم کو وزنی تاوان وصول کرنے کی غرض سے اغوا کر لیا گیا۔ تاہم، اسلام آباد پولیس کی ہوشیاری اور ناکہ بندی کے دوران مؤثر سنیپ چیکنگ کے باعث ملزمان کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور معصوم بچے کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔یہ واقعہ نہ صرف علاقے میں امن و امان کی بدلتی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے بلکہ اس میں رشتوں کے تقدس کے پامال ہونے کے بھی بھیانک حقائق سامنے آئے ہیں۔26 نمبر ناکے پر ڈرامائی گرفتاری اور بچے کی بازیابیاسلام آباد پولیس کے تھانہ ترنول کے سب انسپکٹر اصغر ناز اپنی نفاذِ قانون کی ٹیم کے ہمراہ 26 نمبر ناکے پر معمول کی سنیپ چیکنگ اور ناکہ بندی پر موجود تھے۔ اسی اثناء میں ایک سفید رنگ کی ہونڈا سٹی گاڑی (رجسٹریشن نمبر CF.513) موٹروے کی سمت سے جی ٹی روڈ کی طرف داخل ہوئی۔پولیس ٹیم نے گاڑی کی آمد اور اس میں سوار افراد کی حرکات و سکنات کو مشکوک جان کر فوری طور پر گاڑی کو روک لیا۔ گاڑی میں آگے دو نوجوان جبکہ پچھلی سیٹ پر ایک 12 سالہ بچہ سہمے ہوئے انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی استفسار پر گاڑی میں موجود افراد نے اپنے نام درج ذیل بتائے:نیاز خان ولد عمر فاروق (ساکن کوہستان)علی احمد ولد شبیر حسین (ساکن شاہ سلطان محلہ، قاسم آباد، راولپنڈی)جب پولیس افسران نے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر موجود بچے سے الگ سے معائنہ اور دریافت کی تو 12 سالہ عبداللہ ولد ابراہیم نے رقت آمیز انداز میں انکشاف کیا کہ یہ افراد اسے ایبٹ آباد سے زبردستی اغوا کر کے لائے ہیں۔ اس پر پولیس نے بغیر کسی تاخیر کے گاڑی اور دونوں افراد کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔سنسنی خیز انکشافات: رشتوں کا قتل اور 10 کروڑ کا تاوانتھانہ ترنول میں جب ملزمان نیاز خان اور علی احمد سے باقاعدہ اور سخت انٹروگیشن کا آغاز کیا گیا تو کیس میں ایک سنسنی خیز موڑ آیا۔ ملزمان نے اعتراف کیا کہ اس اغوا کا مرکزی منصوبہ ساز کوئی غیر نہیں بلکہ بچے کا اپنا کزن اویس ولد ہارون (ساکن کشمیر) ہے۔ملزمان کی نشاندہی پر اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم اویس کو بھی گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش اویس نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ:خاندانی پس منظر: مغوی عبداللہ کے والد ایبٹ آباد میں فارمیسی کا کاروبار کرتے ہیں اور معاشی طور پر مستحکم ہیں۔اغوا کی وجہ: ملزم اویس کو پیسوں کی شدید ضرورت تھی، جس پر اس نے اپنے چچا کے بیٹے کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا۔تاوان کا مطالبہ: ملزم نے بچے کی سلامتی کے عوض اپنے ہی خاندان سے 10 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا اور یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر پولیس یا کسی اور ادارے کو اطلاع دی گئی تو وہ بچے کو جان سے مار دے گا۔کیس کے اہم اعداد و شمار اور تکنیکی حقائقکیس کی پیش رفت اور قانونی چھان بین سے متعلق بنیادی حقائق کو درج ذیل نکات میں یکجا کیا گیا ہے:مغوی بچہ: عبداللہ ولد ابراہیم (عمر 12 سال، ساکن ایبٹ آباد)۔واردات کا مقام: سپلائی، ایبٹ آباد۔استعمال شدہ گاڑی: ہونڈا سٹی، برنگ سفید (نمبر CF.513)۔مطلوبه تاوان: 10 کروڑ روپے بالترتیب۔کارروائی کرنے والی ٹیم: سب انسپکٹر اصغر ناز اور تھانہ ترنول پولیس ٹیم (اسلام آباد)۔گرفتار ملزمان:اویس ولد ہارون (مرکزی ملزم و کزن)نیاز خان ولد عمر فاروق (ساکن کوہستان)علی احمد ولد شبیر حسین (ساکن راولپنڈی)ایبٹ آباد پولیس کی آمد اور بچے کی حوالگیبچے کی بحفاظت بازیابی کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس نے ایبٹ آباد پولیس اور بچے کے والدین کو واقعے سے آگاہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی شدید تشویش اور صدمے سے نبرد آزما والدین اور ایبٹ آباد پولیس کی ٹیم اسلام آباد کے متعلقہ تھانے پہنچی۔اپنے لختِ جگر کو صحیح سلامت سامنے دیکھ کر والدین کے دیدہ و دل نم ہو گئے اور انہوں نے اسلام آباد پولیس بالخصوص سب انسپکٹر اصغر ناز اور ان کی ٹیم کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی پر ان کا بے حد شکریہ ادا کیا۔ قانونی کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد عبداللہ کو اس کے والدین کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ تینوں ملزمان کو مزید تفتیش اور چالان کے لیے ایبٹ آباد پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ہزارہ کا امن اور سیکیورٹی پر ایڈیٹوریل تجزیہایبٹ آباد اور پورا ہزارہ ڈویژن ماضی میں اپنی پرامن فضا، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور سیاحتی مقام کے حوالے سے جیو پولیٹیکل سطح پر ایک منفرد اور پرامن شناخت رکھتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں اس طرح کے سنسنی خیز اور خطرناک جرائم کا ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب پیشہ ور اور خاندانی جرائم پیشہ عناصر اس خطے میں پنجے گاڑ رہے ہیں۔صحافتی اور سیکیورٹی نقطہ نظر سے اس کیس کے درج ذیل پہلو انتہائی اہم ہیں:انٹر ڈسٹرکٹ سیکیورٹی ناکہ بندی: اسلام آباد پولیس کی بروقت کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر شاہراہوں اور صوبائی سرحدوں پر ناکہ بندی اور چیکنگ کا نظام مضبوط ہو تو جرائم پیشہ عناصر کو فوری نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔سوشل اور اخلاقی تنزلی: اپنے ہی قریبی عزیز اور چچا کے بیٹے کو 10 کروڑ روپے کی ہوس میں اغوا کرنا معاشرتی اور اخلاقی قدروں کی شدید تنزلی کی عکاسی کرتا ہے۔مقامی پولیس کے لیے چیلنج: ایبٹ آباد پولیس کے لیے لازم ہے کہ وہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور گنجان آبادی والے علاقوں (جیسے سپلائی، جودھ پور، نوانشہر) میں سی سی ٹی وی کیمروں اور گشت کا نظام مزید مؤثر بنائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا بروقت تدارک ممکن ہو سکے۔فل الوقت معصوم عبداللہ اپنے گھر پہنچ چکا ہے، لیکن یہ واقعہ شہریوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں اور حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جائے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationچارسدہ پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن: سنسنی خیز اندھے قتل کیسز حل، 296 اشتہاری گرفتار اور بھاری مقدار میں منشیات و اسلحہ برآمد کانگریس کا بھارتی صدر سے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو برطرف کرنے کا مطالبہ