اہم نکات:امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر کلین میں سالہا سال سے ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دینے والے سابق امریکی فوجی (آرمی ویٹرن) اسکاٹ ایری ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار جیمز ٹیلریکو کی انتخابی مہم کی تقریب میں شریک ہوئے۔ریپبلکنز کے مضبوط قلعے سمجھے جانے والے علاقے ٹیکساس میں روایتی ووٹرز کا اپنی سیاسی وابستگی پر دوبارہ غور کرنا امریکی سیاست میں اہم تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔سابق فوجی اور معتدل ووٹرز کی جانب سے پارٹی کے سخت گیر موقف کے بجائے معتدل اور عوام دوست پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلریکو کی مہم ریپبلکن اکثریتی علاقوں اور سابق فوجیوں کی بڑی آبادی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔ٹیکساس کی سیاست میں ایک اہم اور معنوی تبدیلیامریکی ریاست ٹیکساس کو دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی کا نا قابلِ تسخیر قلعہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ جہاں کے ووٹرز عمومی طور پر قدامت پسند نظریات، مضبوط دفاعی پالیسیوں اور ریپبلکن امیدواروں کے ساتھ وفاداری کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، ریاست کے شہر کلین (Killeen) سے سامنے آنے والی حالیہ پیش رفت نے امریکی سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔کلین، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے اسکاٹ ایری (Scot Arey)، جو کہ امریکی فوج کے ایک ریٹائرڈ ویٹرن ہیں اور جنہوں نے زندگی کے متعدد سال ریپبلکن پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالتے ہوئے گزارے، حال ہی میں ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار جیمز ٹیلریکو (James Talarico) کی ایک انتخابی تقریب میں روبرو شریک پائے گئے۔ یہ محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ اس سیاسی بے چینی اور رحجان کی نمائندگی کرتا ہے جو اس وقت امریکی ووٹرز، بالخصوص سابق عسکری اہلکاروں کے اندر جنم لے رہی ہے۔سابق فوجی اسکاٹ ایری اور ریپبلکن وابستگی کی تبدیلیکلین کا شہر امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک (فورٹ کیوازر/فورٹ ہُڈ) کا مسکن ہے، جہاں بڑی تعداد میں سابق اور موجودہ عسکری اہلکار مقیم ہیں۔ اس علاقے میں کسی آرمی ویٹرن کا ڈیموکریٹک تقریب میں نظر آنا سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اسکاٹ ایری جیسے ووٹرز کا موقف ہے کہ سیاسی جماعتوں کا ترجیحی محور اب عام شہریوں کے مسائل اور پائیدار حل کے بجائے زیادہ تر قطبیت (polarization) اور جماعت بازی پر مبنی ہو چکا ہے۔سابق فوجیوں کے اس سیاسی تحرک کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:پارٹی کی سخت گیر پالیسیاں: ریپبلکن پارٹی کے بعض حالیہ بیانیے اور سخت گیر سیاسی اقدامات نے معتدل ووٹرز کو فاصلے پر کر دیا ہے۔عوامی مسائل پر توجہ کی کمی: صحت عامہ، تعلیم اور سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود کے معاملات پر زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس اقدامات کی طلب۔نئے امیدواروں کی جانب کشش: جیمز ٹیلریکو جیسے نوجوان ڈیموکریٹک رہنماؤں کا متوازن، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی خدمت پر مبنی بیانیہ۔ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلریکو اور ان کا بیانیہجیمز ٹیلریکو، جو ٹیکساس کی سیاست میں ایک ابھرتے ہوئے معتدل ڈیموکریٹک چہرے کے طور پر جانے جاتے ہیں، اپنی انتخابی مہم کے دوران روایتی پارٹی حدود سے باہر نکل کر ووٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا ایجنڈا صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی ووٹرز تک محدود نہیں بلکہ وہ ریپبلکنز، آزاد (Independent) ووٹرز اور بالخصوص عسکری خاندانوں کو بھی مخاطب کر رہے ہیں۔ٹیلریکو کی حکمتِ عملی کا محور درج ذیل نکات ہیں:عامیانہ اور معتدل سیاست: سیاسی تقسیم اور بلیم گیم کے بجائے عوامی مسائل کے پائیدار حل پر زور دینا۔سابق فوجیوں کی فلاح: عسکری اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے بہتر طبی سہولیات، ذہنی صحت کے پروگرامز اور ملازمت کے موقع فراہم کرنا۔تعلیم اور معاشی بہتری: ٹیکساس کے پبلک اسکولوں کی بہتری اور درمیانے طبقے کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا۔حقائق اور ٹیکساس کا سیاسی منظرنامہ (اعداد و شمار)ٹیکساس میں آنے والی حالیہ سیاسی و ڈیموگرافک تبدیلیوں کے متعلق اہم معلومات درج ذیل ہیں:سابق فوجیوں کی تعداد: ٹیکساس میں 1.4 ملین (14 لاکھ) سے زائد سابق امریکی فوجی مقیم ہیں، جو کہ امریکہ میں کسی بھی ریاست کے لیے دوسری بڑی تعداد ہے۔کلین (Killeen) کی اہمیت: کلین کی آبادی کا بڑا حصہ عسکری اہلکاروں، ان کی خاندانوں اور ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل ہے، جو تاریخی طور پر ریپبلکن رجحان رکھتا ہے۔انتخابی نتائج کے رحجانات: اگرچہ ٹیکساس پر ریپبلکنز کی گرفت مضبوط ہے، تاہم حالیہ برسی کے انتخابات میں بڑے شہری علاقوں اور مضافات (suburbs) میں ڈیموکریٹس کے ووٹ بینک میں 3 سے 5 فیصد تک کا بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔غیر جانبدار ووٹرز: ریاست میں اپنے آپ کو “انڈیپینڈنٹ” (آزاد ووٹر) کہلوانے والوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جو جماعت کے نام سے ہٹ کر امیدوار کی شخصیت کو اہمیت دے رہے ہیں۔امریکی سیاست اور ٹیکساس کے مستقبل پر اس کے اثراتامریکی سیاست میں ٹیکساس کو ایک کلیدی ریاست کی حیثیت حاصل ہے، جس کے 40 الیکٹورل ووٹس امریکی صدارتی اور سینیٹ کے انتخابات میں فیصل کن کردار ادا کرتے ہیں۔اگر ٹیکساس جیسے مضبوط ریپبلکن گڑھ میں اسکاٹ ایری جیسے روایتی ووٹرز اور آرمی ویٹرنز ڈیموکریٹس کی طرف راغب ہونا شروع ہو جائیں تو اس کے درج ذیل گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی: پارٹی کو اپنے روایتی ووٹ بینک کی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں سابق عسکری اہلکار بڑی تعداد میں آباد ہیں۔سوئنگ اسٹیٹ (Swing State) کی طرف پیش قدمی: اگر یہ رحجان برقرار رہتا ہے تو ٹیکساس ان ریاستوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جہاں انتخابات کے نتائج کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتے ہیں۔معتدل بیانیے کی کامیابی: یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسندی اور سیاسی محاذ آرائی کے دور میں بھی معتدل، مثبت اور عوامی فلاح پر مبنی بیانیہ ووٹرز کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایڈیٹوریل تجزیہ: سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھتی عوامصحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اسکاٹ ایری کی جیمز ٹیلریکو کی تقریب میں موجودگی صرف ایک سیاسی خبر نہیں بلکہ امریکی معاشرے کی بدلتی ہوئی نفسیات کی علامت ہے۔ جدید دور کا ووٹر محض سیاسی پارٹی کے جھنڈے یا روایتی نعروں پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔سابق عسکری اہلکار، جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہوتی ہے، وہ نظم و ضبط، نتائج اور عملی کارکردگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ کلین، ٹیکساس سے ملنے والے یہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے انتخابی معرکوں میں امیدواروں کی کارکردگی اور ان کا معتدل انداز ہی فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ ٹیکساس کی سیاست کس کروٹ بیٹھتی ہے، اس کا حتمی فیصلہ تو آنے والا وقت اور الیکشن کے نتائج ہی کریں گے، لیکن تبدیلی کی یہ ہوائیں دونوں اہم امریکی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ اور گہری حکمتِ عملی کی متقاضی ہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationہمالیائی سرحدی خطے میں تباہ کن فلیش فلڈ: نیپال اور تبت کے بارڈر پر 55 افراد ہلاک، 400 سے زائد لاپتا، کٹھمنڈو کے شمالی اضلاع شدید متاثر