اہم نکات (خلاصہ)الوداعی ملاقات: اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی سفارتی مدت مکمل ہونے پر وزیراعظم ہاؤس میں الوداعی ملاقات۔خدمات کا اعتراف: وزیراعظم کی جانب سے پاک سعودی برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کی مضبوطی کے لیے سعودی سفیر کی سفارتی خدمات کی بھرپور تعریف۔دیرینہ تعاون کا اعادہ: پاکستان کی معاشی پائیداری، سرمایہ کاری اور علاقائی امن کے لیے خادم حرمین شریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مسلسل حمایت پر شکریہ۔دوست ملک کا اظہارِ تشکر: سعودی سفیر کا پاکستان میں اپنے قیام کو یادگار قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام اور حکومت کی روایتی مہمان نوازی اور تعاون پر تہہ دل سے شکریہ۔پاک سعودی تعلقات میں نمایاں خدماتپاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط تزویراتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اسلام آباد میں اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی کامیابی سے تکمیل پر وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایک پروقار الوداعی ملاقات کی ہے۔اس اہم ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال، مختلف شعبوں میں جاری تعاون، اور آئندہ کے لیے تزویراتی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے سعودی سفیر کو پاکستان میں ان کی مدبرانہ اور فعال سفارتی خدمات کی کامیابی پر مبارکباد دی اور ان کے لیے مستقبل کے احداف میں کامیابی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔تاریخی برادرانہ تعلقات اور اعلیٰ قیادت کے لیے نیک تمنائیںملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے نیک تمناؤں، صحت اور لمبی عمر کا پیغام پہنچایا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق محض سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ یہ مشترکہ دینی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں بندھا ہوا ایک لازوال رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں ہمیشہ ایک سچے اور مخلص دوست کی طرح پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جس پر پاکستان کی قیادت اور عوام سعودی قیادت کے بے حد مشکور ہیں۔پاک سعودی تزویراتی اور معاشی شراکت داری کا دائرہ کارپاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی و دفاعی سطح پر تاریخی رفت و آمد اور شراکت داری دیکھی گئی ہے۔ سفیر نواف بن سعید المالکی کی مدتِ ملازمت کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں درج ذیل اہم شعبوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی:خاص معاشی و مالی معاونت: دشوار معاشی حالات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ڈپازٹس کی منتقلی اور مؤخر ادائیگیوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے ذریعے مالی استحکام۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC): ایس آئی ایف سی کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں کان کنی، زراعت، توانائی اور آئی ٹی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا آغاز۔دفاعی اور امن و امان کا تعاون: علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے درمیان باقاعدہ مشترکہ مشقیں اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ۔عمرہ و حج سہولیات: روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ (Road to Mecca Project) کا اجراء اور وسعت، جس کے تحت پاکستانی عازمینِ حج و عمرہ کے لیے اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں پر ہی امیگریشن کی سہولت فراہم کی گئی۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا ردِعمل اور تشکرسعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیراعظم شہباز شریف اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملنے والے مکمل تعاون اور گرمجوشی پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کا سفارتی قیام ان کی زندگی کا ایک نہایت یادگار اور خوشگوار ترین دور رہا ہے۔“پاکستانی عوام کی محبت اور روایتی مہمان نوازی کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ پاکستان میرا دوسرا گھر ہے، اور میں مستقبل میں بھی دونوں برادر ممالک کی دوست اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا ذاتی کردار ادا کرتا رہوں گا۔” — نواف بن سعید المالکی، سعودی سفیرانہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے اہم کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاض اور اسلام آباد کا اتحاد پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔پس منظر اور موجودہ سفارتی اثراتپاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا پس منظر ہمیشہ سے غیر متزلزل رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کی تبدیل ہوتی جیو پولیٹیکل صورتحال اور پاکستان کی معاشی اصلاحات کے تناظر میں دونوں ممالک کا باہمی اعتماد مزید پختہ ہوا ہے۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی بطور سفیر تعیناتی کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے تجارتی حجم میں اضافہ اور متعدد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے۔ ان کے دورِ سفارت نے اسلام آباد اور ریاض کے درمیان تکنیکی و سیاسی روابط کو ایک نیا موڑ دیا، جس کا مقصد زراعت، فوڈ سیکیورٹی، گرین انرجی اور پیٹرو کیمیکلز میں پاک سعودی شراکت داری کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔الوداعی ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے نواف بن سعید المالکی کی پاکستان کے لیے پیش کی گئی خدمات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان کے لیے مستقبل کی تمام تر ذمہ داریوں میں کامیابی، کامرانی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationٹیکساس میں سیاسی ہوائیں بدلنے لگیں: پبلکن پارٹی کے روایتی ووٹر اور سابق امریکی فوجی کا ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلریکو کی حمایت کی طرف جھکاؤ آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل: پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بیرسٹر افتخار گیلانی کو نیا وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ