Preloader
New era of maritime reforms

اہم نکات:

  • غیر ملکی انحصار میں کمی: پاکستان کا 90 فیصد سمندری تجارتی حجم فی الوقت غیر ملکی شپنگ لائنز پر منحصر ہے، جسے نئی بحری پالیسی کے ذریعے مقامی سطح پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
  • بندرگاہوں کا بنیادی ڈھانچہ: کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر کی گہرائی بڑھانے، ڈیجیٹل کسٹمز، پورٹ کمیونٹی سسٹم اور 24 گھنٹے آپریشنز کے ذریعے کارگو کی ترسیل تیز تر کی جا رہی ہے۔
  • گوادر پر تاریخی پیشرفت: گوادر پورٹ پر عالمی ادارے ‘وِٹول’ کے اشتراک سے ملک کے پہلے بین الاقوامی بنکرنگ آپریشن کا کامیاب انعقاد، ایل این جی کیریئر کو 2,500 میٹرک ٹن ایندھن فراہم کیا گیا۔
  • ملٹی موڈل نیٹ ورک: کے پی ٹی پپری ریلوے لنک، این ایل سی اور بارج آپریشنز کے ذریعے ساحلی پٹی کو اندرونِ ملک صنعتی مراکز اور گوداموں سے جوڑا جا رہا ہے۔
  • پاکستان میں میری ٹائم ریفارمز کا نیا دور

وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کی زیرِ نگرانی پاکستان اپنے طویل ساحلی خطے اور سترہ ہزار مربع کلومیٹر سے زائد کے خصوصی معاشی زون (EEZ) کے تجارتی پوٹینشل کو بروئے کار لانے کے لیے ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ جدید بندرگاہوں کی تعمیر، خودکار کسٹمز سسٹمز، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور بلیو اکانومی کے شعبوں کو متحرک کر کے ملک کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کا مرکزی تجارتی و لاجسٹکس حب بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان کا میری ٹائم منظرنامہ اور موجودہ چیلنجز

پاکستان کی کل بین الاقوامی تجارت کا تقریباً 95 فیصد حصہ سمندری راستوں سے ہوتا ہے۔ تاہم، طویل عرصے سے ملک کی برآمدات و درآمدات کی نقل و حمل کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے مرحونِ منت رہا ہے۔ اس انحصار کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر مالیت کا زرمبادلہ شپنگ فرائیٹ (کرائے) کی مد میں بیرونی کمپنیوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔

اس معاشی دباؤ سے نکلنے اور خطے کی دیگر جدید بندرگاہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کردہ میری ٹائم ٹاسک فورس نے ایک طویل المیعاد اصلاحاتی ایجنڈا ترتیب دیا ہے۔ اس ایجنڈے کا بنیادی مقصد پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کی صلاحیت بڑھانا اور نجی شپنگ لائنز کو ملک میں رجسٹرڈ ہونے کی ترغیب دینا ہے تاکہ ملکی زرِ مبادلہ کی بچت کی جا سکے۔

بندرگاہوں کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن

سپلائی چین کو تیز تر اور شفاف بنانے کے لیے کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT)، پورٹ قاسم اتھارٹی (PQA) اور گوادر پورٹ پر بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے:

  • نیویگیشن چینلز کی گہرائی: بڑے کارگو جہازوں اور مدر ویسلز (Mother Vessels) کی آسانی سے برتھنگ کے لیے چینلز کی ڈریجنگ کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ ڈرافٹ والے جہاز بھی پاکستان کی بندرگاہوں کا رخ کر سکیں۔
  • جدید کارگو ہینڈلنگ: ہاربر کرافٹس، کرینز اور جدید ٹرمینل آپریشنز کی مدد سے جہازوں کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا وقت (Turnaround Time) نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے۔
  • ویب بیسڈ اور فیس لیس کسٹمز: پی اے سی سی ایس اور نئے کسٹمز پورٹل کے ذریعے فیس لیس کسٹمز کلیئرنس، پورٹ کمیونٹی سسٹم (PCS) اور ریئل ٹائم کنٹینر ٹریکنگ کا آغاز کیا گیا ہے۔
  • 24/7 آپریشنز: تمام اہم بندرگاہوں پر کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس اور پورٹ حکام کو 24 گھنٹے فعال رکھا گیا ہے تاکہ کارگو کی تاخیر کو ختم کیا جا سکے۔

اندرونِ ملک لاجسٹکس اور سپلائی چین کی بہتری

بندرگاہ صرف سمندری راستے کا سرا نہیں ہوتی بلکہ اس کا اندرونِ ملک منڈیوں، صنعتی زونز اور گوداموں سے بلا تعطل جڑا ہونا لازمی ہے۔ ٹاسک فورس نے بندرگاہوں سے معاشی مراکز تک مال کی ترسیل کے لیے ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ سسٹم پر کام شروع کر دیا ہے۔

نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC)، کے پی ٹی پپری ریلوے لنک اور بارج آپریشنز کے ذریعے بندرگاہوں کو ان لینڈ ڈیپو سے مربوط کیا جا رہا ہے۔ ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے کنٹینرز کو براہِ راست بندرگاہ سے اٹھا کر اندرونِ ملک منتقل کرنے سے نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ صنعتکاروں کے لیے لاجسٹکس لاگت میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

شپنگ پالیسی 2026 اور سرمایہ کاری کے موافق اقدامات

وفاقی حکومت نے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے شپنگ پالیسی 2026 کے علاوہ ٹرانس شپمنٹ پالیسی کی تیاری کو حتمی شکل دی ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت درج ذیل مراعات پیش کی جا رہی ہیں:

  • نجی شپنگ کمپنیوں کی رجسٹریشن: نجی سرمایہ کاروں کو پاکستانی پرچم کے تحت جہاز خریدنے اور چلانے کے لیے ٹیکس استثنیٰ اور آسان مالیاتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
  • جہاز سازی اور شپ ریپئر: کراچی شپ یارڈ کے علاوہ دیگر ساحلی علاقوں میں نجی اور غیر ملکی شراکت داری سے شپ یارڈز اور جہازوں کی مرمت گاہیں (Ship Repair Facilities) قائم کی جا رہی ہیں۔
  • ٹرانس شپمنٹ حب: پاکستان کی بندرگاہوں کو ٹرانس شپمنٹ حب کا درجہ دینے سے دوسرے ممالک کے کارگو کی یہاں پروسیسنگ اور دوبارہ روانگی ممکن ہو سکے گی، جس سے پورٹ ریونیو میں اضافہ ہوگا۔

گوادر پورٹ پر تاریخی بنکرنگ آپریشن کا آغاز

پاکستان کے میری ٹائم شعبے کے لیے ایک بڑی پیشرفت گوادر پورٹ پر بین الاقوامی بنکرنگ (جہازوں کو ایندھن کی فراہمی) آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہے۔

عالمی ایندھن فراہم کرنے والے ادارے ‘وِٹول’ (Vitol) کے اشتراک سے انجام دیے گئے اس آپریشن میں گوادر کے ساحل پر ایک بین الاقوامی ایل این جی کیریئر کو 2,500 میٹرک ٹن مقامی میرین فیول کامیابی کے ساتھ منتقل کیا گیا۔ یہ کامیابی گوادر کو بحیرہ عرب اور خلیجِ عمان سے گزرنے والے ہزاروں تجارتی جہازوں کے لیے ایندھن کی فراہمی کا اہم مرکز بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔

بلیو اکانومی اور ماحولیاتی پائیداری

میری ٹائم سیکٹر صرف بندرگاہوں اور شپنگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں بحری معیشت (Blue Economy) کا وسیع دائرہ کار شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں درج ذیل بنیادی اقدامات کیے گئے ہیں:

  1. جہازوں کی ری سائیکلنگ (Ship Recycling): گڈانی کے شپ بریکنگ یارڈز کو بین الاقوامی ‘ہانگ کانگ کنونشن’ کے اصولوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے تاکہ ماحول دوست طریقوں سے جہازوں کو ری سائیکل کیا جا سکے۔
  2. گڈانی ویسٹ مینجمنٹ: ساحلی ماحول کی تحفظ کے لیے ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس اور جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں۔
  3. آبی زراعت اور فشرریز: سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر شرمپ فارمنگ (جھینگا پروری) اور سائنسی بنیادوں پر مچھلی کی افزائش کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے سمندری غذا کی برآمدات میں کروڑوں ڈالر کا اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

آئندہ کا معاشی منظرنامہ اور تجارتی اثرات

پاکستان کی بحری اصلاحات کی بدولت ملک کے اندر اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر دنیا کے مصروف ترین بحری تجارتی راستوں پر واقع ہے۔ اگر اصلاحات کی یہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدی لاگت میں واضح کمی لا سکے گا بلکہ سی پیک (CPEC) اور وسطی ایشیائی ریاستوں (CARs) کے لیے سمندر تک رسائی کا سب سے بہترین اور سستا ذریعہ ثابت ہوگا۔

وزیراعظم ٹاسک فورس کی حکمتِ عملی پاکستان کے ساحلوں پر موجود غیر مستعمل صلاحیت کو فعال معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی کلید ثابت ہو رہی ہے، جو آنے والے سالوں میں ملک کو پائیدار مالی استحکام فراہم کرے گی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025