Preloader
Workshop on Art of Parenting

اہم نکات:

  • اشتراکِ عمل: خیبرپختونخوا حکومت، آغا خان فاؤنڈیشن، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور اے کے آر ایس پی (AKRSP) کے اشتراک سے لوئر چترال میں خصوصی تربیتی سیشن منعقد ہوا۔
  • شرکت اور دائرہ کار: تحصیل دروش کی پانچ یونین کونسلز (ارندو، عشریت، شیشی کوہ، دروش ون اور ٹو) کے تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں سے وابستہ 35 خواتین و حضرات نے شرکت کی۔
  • بنیادی مقصد: پیدائش سے لے کر 18 سال تک کے بچوں کی ابتدائی نشوونما (ECD)، ذہنی، جذباتی اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے والدین اور ماہرین کی استعدادِ کار بڑھانا۔
  • ماہرین کی آراء: بچوں کو پرتشدد ماحول اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے والدین کے ذمہ دارانہ رویے اور باہمی تعاون کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
  • آرٹ آف پیرنٹنگ

چترال: بچوں کی بہتر پرورش اور تربیت کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

چترال (رپورٹ: سید نذیر حسین شاہ): بچوں کی ابتدائی نشوونما، کردار سازی اور جدید تقاضوں کے مطابق والدین کی رہنمائی کے لیے ضلع لوئر چترال کے تحصیل دروش میں ایک اہم سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تربیتی پروگرام مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے باہمی اشتراک سے ترتیب دیا گیا تھا، جس کا مقصد معاشرے کے معماروں یعنی نئی نسل کی ذہنی، سماجی اور جذباتی تربیت کے معیار کو بلند کرنا ہے۔

ورکشاپ کا انعقاد خیبرپختونخوا حکومت، آغا خان فاؤنڈیشن، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کے اشتراک سے عمل میں آیا، جبکہ اس کی نگرانی ضلعی انتظامیہ لوئر چترال نے کی۔ اس تربیتی نشست میں خطے کے مختلف فلاحی، تعلیمی اور طبی شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 خواتین و حضرات نے بھرپور شرکت کی۔

ورکشاپ کا بنیادی پس منظر اور اغراض و مقاصد

موجودہ دور میں جہاں دنیا بھر میں بچوں کی نفسیاتی اور جسمانی نشوونما کے نئے طریقے متعارف کروائے جا رہے ہیں، وہیں پاکستان کے پسماندہ اور پہاڑی علاقوں میں والدین کو اس حوالے سے تربیت فراہم کرنا ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ چترال جیسے خطے میں جہاں زندگی کے معمولات اور سماجی اقدار اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں، بچوں کی پرورش میں جدید سائنسی اصولوں اور اسلامی و اخلاقی اقدار کا امتزاج وقت کی اہم ترین پکار ہے۔

اس تین روزہ ورکشاپ کے انعقاد کے بنیادی مقاصد درج ذیل نکات کے تحت طے کیے گئے تھے:

  • ابتدائی بچپن کی نشوونما (ECD): پیدائش سے 9 سال اور 9 سے 18 سال تک کے بچوں کی عمر کے مختلف مدارج میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضروریات کو سمجھنا۔
  • والدین کی استعداد کار میں اضافہ: محکمہ تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں کے کارکنان اور والدین کو جدید تربیتی طریقوں سے آشنا کرنا۔
  • گھریلو ماحول کی بہتری: بچوں کی شخصیت پر گھریلو تنازعات کے منفی اثرات کو کم کرنا اور ایک پرسکون، محبت بھرا ماحول فراہم کرنا۔
  • ڈیجیٹل دور کے چیلنجز: نئی نسل کو سوشل میڈیا کے منفی پروپیگنڈے اور غیر ضروری ڈیجیٹل مواد کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے طریقے سکھانا۔

افتتاحی و اختتامی تقاریب اور مہمانِ گرامی

ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں خطے کی نامور شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ریجنل پروگرام منیجر اے کے آر ایس پی سید سجاد حسین شاہ، ریجنل ہیڈ آغا خان ہیلتھ سروس خیبرپختونخوا و پنجاب معراج الدین، اور ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر فیمیل لوئر چترال شکیلہ انجم نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اے کے آر ایس پی اور آغا خان ہیلتھ سروس چترال کے طول و عرض میں گزشتہ کئی دہائیوں سے تعلیم، صحت اور بچوں کی کردار سازی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت، آغا خان فاؤنڈیشن اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بچوں کی مؤثر تربیت کے ذریعے ہی ایک باشعور، ذمہ دار اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اولاد کی پرورش کو معمولی معاملہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی سب سے بڑی قومی و دینی ذمہ داری گردانیں۔

ماہرینِ تعلیم کی آراء اور تربیتی سیشنز

ورکشاپ کے دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے نامور ماہرین اور تعلیمی شخصیات نے شرکاء کو تفصیلی لیکچرز دیے۔ خطاب کرنے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اظہر حسین، ہیومین ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افشان، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مبشرہ حسین اور آغا خان فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈاکٹر قیوم علی شامل تھے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بچوں کی بہتر تربیت صرف اسکولوں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس میں والدین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

تربیتی سیشنز کے دوران درج ذیل اہم امور پر روشنی ڈالی گئی:

  • والدین کا وقت اور توجہ: والدین کو چاہیے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں، ان کے ساتھ کھیلیں اور ان کی بات توجہ سے سنیں۔
  • مثبت حوصلہ افزائی: بچے کے ہر اچھے عمل پر اس کی تعریف کی جائے تاکہ اس میں خود اعتماد پروان چڑھے۔
  • گھر کا پرسکون ماحول: والدین بچوں کے سامنے باہمی تکرار یا جھگڑوں سے گریز کریں، کیونکہ پرتشدد ماحول بچوں میں جارحانہ رویے پیدا کرتا ہے۔
  • مشترکہ ذمہ داری: رزقِ حلال کے حصول کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت ماں اور باپ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ڈیجیٹل دور کے چیلنجز اور ’’آغوش و پرورش گائیڈز‘‘ کا تعارف

جدید دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر ورکشاپ میں اس بات پر خصوصی بحث کی گئی کہ آج کا بچہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے دور میں پرورش پا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دستیاب غیر معیاری اور منفی مواد بچوں کے ذہنوں کو زہر آلود کر سکتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ والدین بچوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تنقیدی شعور (Critical Thinking) پیدا کریں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

علاوہ ازیں، شرکاء کو خصوصی کتابچوں اور گائیڈز جن میں ’’آغوش‘‘ اور ’’پرورش گائیڈز‘‘ شامل ہیں، کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان گائیڈز میں پیدائش سے لے کر 19 سال تک کے بچوں کی نشوونما، مختلف عمروں کے نفسیاتی تقاضوں اور والدین کو درپیش روزمرہ کے مسائل کے حل کے موثر طریقے بیان کیے گئے ہیں۔

مستقبل کے لیے سفارشات اور شرکاء کا تاثرات

پروجیکٹ منیجر کاسی آغاخان ہیلتھ سروس چترال نگار علی، منیجر ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن (AKRSP) چترال شمیم اختر اور کومل سمیت دیگر انتظامی عملے کی موجودگی میں منعقدہ اس ورکشاپ کے شرکاء نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے تربیتی پروگرام اساتذہ، والدین اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے چشم کشا حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے کو روکا نہ جائے بلکہ ضلعی سطح پر دور دراز کے علاقوں تک اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندان اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس کامیاب تربیتی ورکشاپ نے چترال کے سماجی حلقوں میں بچوں کی بہتر نگہداشت کے حوالے سے ایک نئی بیداری اور شعور بیدار کیا ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025