Preloader
Police arrested injured criminal

اہم نکات:

  • پولیس کارروائی: تھانہ تورڈھیر پولیس نے کڑپہ پل جلبئی کے مقام پر ناکہ بندی کے دوران مشکوک موٹرکار پر فائرنگ کرنے والے بین الصوبائی ڈکیت گروہ کا مقابلہ کیا۔
  • ملزم کی گرفتاری: فائرنگ کے تبادلے کے بعد اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہونے والے ملزم زاہد شاہ ساکن جلبئی کو گرفتار کر کے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
  • مجرمانہ پس منظر: گرفتار ملزم پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں راہزنی، ڈکیتی اور سنیچنگ کے تقریباً 15 سے زائد سنگین مقدمات میں ریکارڈ یافتہ اور مطلوب تھا۔
  • تعاقب اور سرچ آپریشن: فرار ہونے والے دیگر دو نامزد ملزمان شہاب اور ادریس کی گرفتاری کے لیے پولیس نے علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

صوابی: پولیس اور ڈکیت گروہ میں مقابلہ، بین الصوبائی ملزم گرفتار

صوابی (خصوصی رپورٹ): ضلع صوابی میں جرائم پیشہ عناصر اور بالخصوص بین الصوبائی راہزنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ تھانہ تورڈھیر کی حدود کڑپہ پل جلبئی کے قریب ناکہ بندی میں موجود پولیس ٹیم اور ایک خطرناک بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ پیش آیا ہے۔ اس مقابلے کے نتیجے میں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں دسیوں مقدمات میں مطلوب ایک مجرم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ضلعی پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام ضلع صوابی میں اسٹریٹ کرائمز، شاہراؤں پر راہزنی اور گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کی سنیچنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام کے لیے جاری خصوصی مہم کا حصہ ہے۔ پولیس کو اطلاع تھی کہ بین الصوبائی حدود پر متحرک گروہ خطے میں اہم وارداتوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس پر ہنگامی بنیادوں پر ناکہ بندیاں سخت کی گئی تھیں۔

ناکہ بندی پر فائرنگ اور پولیس کا ردِ عمل

واقعے کی تفصیلات کے مطابق 27 اگست 2026 کو تھانہ تورڈھیر پولیس نے ایس ایچ او عامر خان کی قيادت میں کڑپہ پل جلبئی کے مقام پر بعرضِ چیکنگ ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ پولیس پارٹی تمام آنے جانے والی گاڑیوں اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ اسی اثنا میں اوچ خوڑ کی جانب سے ایک تیز رفتار موٹرکار ائی جسے پولیس نے معمول کی چیکنگ کے لیے رکنے کا اشارہ کیا۔

تاہم، موٹرکار سوار افراد نے پولیس کا اشارہ دیکھتے ہی گاڑی روکنے کے بجائے رفتار بڑھا دی اور راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔ کچھ ہی فاصلے پر جا کر ملزمان نے موٹرکار کو روکا اور تعاقب کرنے والی پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے بھی فوری طور پر حکمتِ عملی کے تحت خود کو محفوظ بناتے ہوئے جوابی فائرنگ کی۔ فائرنگ کا یہ تبادلہ چند منٹ تک جاری رہا جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

زخمی ملزم کی شناخت اور ہسپتال منتقلی

فائرنگ کا سلسلہ بند ہونے پر ایس ایچ او عامر خان نے اپنی پولیس ٹیم کے ساتھ علاقے کا محاصرہ کیا اور ہنگامی سرچ آپریشن شروع کیا۔ سرچ آپریشن کے دوران ایک شخص سڑک کے قریب جھاڑیوں میں زخمی حالت میں پڑا ہوا ملا جس کی دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگی ہوئی تھیں۔

ابتدائی تحقیق اور تفتیش سے معلوم ہوا کہ ملزم اپنے ہی فرار ہونے والے ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوا تھا۔ پولیس نے زخمی حالت میں ملزم کو تحویل میں لے کر فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔ طبی ذرائع کے مطابق ملزم کو دونوں پاؤں پر گولیاں لگی ہیں اور اس کی حالت فی الوقت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

زخمی ملزم کی تفصیلات:

  • نام: زاہد شاہ
  • ولدیت: عبدالسلام
  • سکونت: جلبئی، صوابی
  • مجرمانہ حیثیت: بین الصوبائی سنیچر و ڈکیت

مجرمانہ ریکارڈ اور سنگین مقدمات

ابتدائی تفتیش اور پولیس ریکارڈ کی پڑتال سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزم زاہد شاہ ایک عام جرم پیشہ شخص نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کا ایک معروف اور خطرناک بین الصوبائی سنیچر ہے۔ ملزم صوابی، مردان، نوشہرہ کے علاوہ صوبہ پنجاب کے سرحدی اضلاع میں بھی شاہراؤں پر شہریوں سے نقدی، قیمتی موبائیل فونز اور گاڑیاں چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

ملزم کے مجرمانہ ریکارڈ کے اہم نکات:

  • مطلوبہ مقدمات: صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 15 سنگین مقدمات۔
  • جرائم کی نوعیت: مسلح ڈکیتی، شاہراہوں پر راہزنی، اسٹریٹ کرائم اور گن پوائنٹ پر کار سنیچنگ۔
  • طریقہ واردات: بین الصوبائی حد بندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک صوبے میں واردات کے بعد دوسرے صوبے میں روپوش ہو جانا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات اور مسروقہ سامان کی برآمدگی متوقع ہے۔

فرار ملزمان کا تعاقب اور پولیس کی کارروائی

کارروائی کے دوران گاڑی میں سوار دو دیگر ملزمان تاریکی اور فائرنگ کے دوران پیدا ہونے والے تحرک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے ان کی شناخت جلبئی کے ہی رہائشی شہاب اور ادریس کے ناموں سے کی ہے۔

ایس ایچ او تھانہ تورڈھیر عامر خان کی قیادت میں پولیس کی اضافی نفری نے پورے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور فرار ملزمان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ضلعی پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی باقی ماندہ ملزمان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ڈی پی او صوابی کا موقف اور تعریفی اسناد

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) صوابی وقاص رفیق نے تھانہ تورڈھیر پولیس کی اس کامياب اور بروقت کارروائی پر ایس ایچ او عامر خان اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش دی۔

ڈی پی او وقاص رفیق نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ضلع صوابی میں امن و امان کا قیام اور شہریوں کے مال و جان کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ بین الصوبائی سرحدوں پر چیکنگ کا نظام مزید سخت کیا جائے اور ایسے تمام عناصر کے خلاف بلا امتیاز و بلا تاخیر سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد پولیس پر مزید بحال ہو۔

تجزیہ و اثرات: بین الصوبائی جرائم پر قابو پانے کا چیلنج

صوابی کا جغرافیائی موقع ایسا ہے جو خیبر پختونخوا کو موٹر وے اور قومی شاہراہ کے ذریعے پنجاب سے جوڑتا ہے۔ اس جغرافیائی اہمیت کے باعث اکثر بین الصوبائی ڈکیت گروہ اس خطے کو اپنے گینگ کے آپریشنز یا روپوش ہونے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کڑپہ پل جیسے اہم مقامات پر مستعدی اور ناکہ بندی نہ صرف مقامی سطح پر اسٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے بلکہ اس سے صوبائی سرحدوں کے آر پار منظم جرائم کے نیٹ ورک کو توڑنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تورڈھیر پولیس کی حالیہ کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منظم ناکہ بندی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے خطرناک گروہوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

علاقے کے عوام نے بھی پولیس کے اس اقدام کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس قسم کی مسلسل اور مؤثر کارروائیوں سے صوابی اور اس کے گردونواح میں راہزنی کی وارداتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025