Preloader
CTD killed Afghan terrorist

اہم نکات:

  • کامیاب آپریشن: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) پشاور ریجن نے میراکچوڑی کے قبرستان مہر گل کلے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
  • افغان شہری کی شناخت: ہلاک دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت سید ولی ولد عبدالغنی سکنہ ننگرہار، افغانستان کے نام سے ہوئی، جو حال ہی میں داخل ہونے والے 3 خودکش حملہ آوروں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔
  • بھاری اسلحہ برآمد: ملزمان کے قبضے سے 3 کلاشنکوفیں، 1 پستول، 1 ہینڈ گرینیڈ، 7 میگزین اور متعدد کارتوس برآمد کر لیے گئے۔
  • سیکیورٹی الرٹ اور سرچ آپریشن: فتنہ الخوارج (JUA) کے جمروز گروپ کے خلاف کارروائی کے بعد فرار ہونے والے دیگر دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
  • سی ٹی ڈی کی بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی

پشاور: سی ٹی ڈی کی بمقام میراکچوڑی انٹیلی جنس کارروائی

پشاور (خصوصی رپورٹ): خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری متحرک مہم کے دوران ایک بڑی اور اہم کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی سوات (SWAT) ٹیم نے پشاور کے مضافاتی علاقے میراکچوڑی کے قریب واقع قبرستان مہر گل کلے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن انجام دیا، جس کے نتیجے میں کالعدم فتنہ الخوارج (JUA) کے جمروز گروپ سے تعلق رکھنے والے 4 خطرناک دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے 27 اگست 2026 کو جاری کردہ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق، یہ کارروائی حساس اداروں سے موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا یہ گروہ پشاور اور اس کے گردونواح میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذموم منصوبہ بندی کر رہا تھا، جسے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا۔

انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن اور شدید فائرنگ کا تبادلہ

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، شعبہ تفتیش اور انٹیلی جنس ونگ کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ فتنہ الخوارج JUA کا جمروز گروپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میراکچوڑی کے ویران علاقے میں روپوش ہے اور کسی بڑی تخریبی کارروائی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

اطلاع ملتے ہی سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی ایلیٹ اور سوات ٹیموں نے جدید ترین تکنیکی آلات اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ علاقے کی گھیرا بندی کی۔ جیسے ہی سی ٹی ڈی کی ٹیمیں قبرستان مہر گل کلے کے قریب پہنچیں، وہاں موجود دہشت گردوں نے خود کو گھرا ہوا پا کر سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

سی ٹی ڈی کے جوانوں نے پیشہورانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ دونوں جانب سے تقریباً 20 سے 25 منٹ تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ فائرنگ کا سلسلہ تھمنے پر سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی تلاشی لی تو 4 دہشت گردوں کی لاشیں ملیں، جبکہ ان کے کچھ ساتھی رات کی تاریکی اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کارروائی کے دوران سی ٹی ڈی کے تمام اہلکار مکمل طور پر محفوظ رہے۔

برآمد شدہ اسلحہ، بارودی مواد اور اہم دستاویزات

سرچ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے ہلاکت خیز اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جسے تفتیش کاروں نے اپنے تحویل میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے مائیکرو لیب منتقل کر دیا ہے۔

برآمد شدہ سامان کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • کلاشنکوفیں: 3 عدد جدید اٹومیٹک رائفلیں
  • پستول: 1 عدد 9 ایم ایم پستول
  • ہینڈ گرینیڈ: 1 عدد ہلاکت خیز دستی بم
  • میگزین اور کارتوس: 7 عدد میگزین اور متعدد زندہ کارتوس

ان آلات اور اسلحے کی برآمدگی سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ گروہ کسی بڑے حملے کے بالکل قریب تھا اور اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو شہر میں کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان ہو سکتا تھا۔

ہلاک افغان شہری اور خودکش حملوں کا خطرہ

اس آپریشن کا سب سے اہم اور حساس پہلو ہلاک دہشت گردوں میں سے ایک شخص کی شناخت اور اس سے ملنے والے ثبوت ہیں۔ تلاشی کے دوران ایک ہلاک دہشت گرد کی جیب سے افغان مہاجر کارڈ (Proof of Registration Card) برآمد ہوا، جس کی مدد سے اس کی شناخت سید ولی ولد عبدالغنی سکنہ ننگرہار، افغانستان کے طور پر ہوئی۔

تھریٹ الرٹ اور تفتیش کا منظرنامہ:

  • سرحدی دراندازی: کچھ عرصہ قبل قومی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا کہ افغانستان سے ضلع خیبر کے راستے 3 خودکش حملہ آور پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔
  • شناخت کا امکان: دستیاب ریکارڈ اور افغان مہاجر کارڈ کی روشنی میں یہ قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والا افغان شہری سید ولی انھی 3 دراندازی کرنے والے خودکش بمباروں میں سے ایک تھا۔
  • تفتیشی زوایا: سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ سید ولی کے ساتھ انے والے دیگر دو خودکش حملہ آور کہاں روپوش ہیں اور ان کا نیٹ ورک کس حد تک پھیل چکا ہے۔

ہلاک ہونے والے دیگر 3 دہشت گردوں کی ٹیرارسٹ پروفائلنگ کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ ان کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ اور سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

خطے میں سیکیورٹی کی صورت حال اور فتنہ الخوارج کے اثرات

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور اس سے جڑے مختلف دھڑے، جنہیں سرکاری سطح پر ‘فتنہ الخوارج’ کا نام دیا گیا ہے، سرحد پار سے دراندازی کر کے پاکستان کی امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

افغان شہریوں کا پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونا ایک طویل عرصے سے سیکیورٹی اداروں کے لیے بڑا چیلنج رہا ہے۔ سید ولی جیسے افراد کا بارڈر پار کر کے اندرونِ ملک آ کر سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ سرحد پار موجود سیکیورٹی خلا کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد عناصر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

فرار دہشت گردوں کی تلاش اور پولیس قیادت کا تعریفی پیغام

واقعے کے فوراً بعد سی ٹی ڈی، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پشاور پولیس نے میراکچوڑی اور گردونواح کے تمام راستوں کو سیل کر کے بڑا تعاقبی اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ علاقے کے داخلائی اور خارچی راستوں پر ناکہ بندیاں سخت کر دی گئی ہیں اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبرپختونخوا جناب ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پشاور ریجن کی سوات ٹیم کی اس انتہائی پیشہ ورانہ اور جرات مندانہ کارروائی کو سراہا ہے۔ انہوں نے آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں کی ہمت اور حکمتِ عملی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد اور نقد انعامات دینے کا اعلان کیا ہے۔

پولیس قیادت نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا صوبے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے، تمام بیرونی و اندرونی شرپسند عناصر کی سرکوبی، اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھاتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تب تک جاری رہیں گے جب تک صوبے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025