اہم نکات:خوفناک واقعہ: پشاور میں تھانہ شاہ پور کی حدود نادرن بائی پاس پر بدنام زمانہ اشتہاری مجرم کی گرفتاری کے دوران پولیس پارٹی پر گھات لگا کر حملہ۔حملے کی نوعیت: مسلح حملہ آوروں کی جانب سے پولیس پر شدید فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) سے حملہ کیا گیا۔جانی نقصان: حملے کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز اور زیرِ حراست اشتہاری مجرم شدید زخمی، جب کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں دو حملہ آور موقع پر مارے گئے۔سیکیورٹی الرٹ: سی سی پی او پشاور کی ہدایت پر پورے علاقے کو حصار میں لے کر وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔پشاور (خاص رپورٹ) صوبائی دارالحکومت پشاور میں امن و امان کی صورتحال اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف پولیس کا گھیرا تنگ ہونے کے بعد جرائم پیشہ اور دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ایک اور بزدلانہ اور شدید حملہ سامنے آیا ہے۔ تھانہ شاہ پور کی حدود میں واقع نادرن بائی پاس پر بدنام زمانہ اور انتہائی مطلوب اشتہاری مجرم ممتاز عرف ‘ممتازے’ کو منتقل کرنے والی پولیس پارٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں کی جانب سے کی جانے والی شدید فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) کے حملے میں دو پولیس افسران (ایس ایچ اوز) اور گرفتار اشتہاری مجرم شدید زخمی ہو گئے، جب کہ پولیس اہلکاروں کی جرات مندانہ جوابی کارروائی میں دو حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔اس اچانک اور خونریز واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور حملہ آوروں کے دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔واقعے کی تفصیلات اور ڈرامائی پیش رفتپولیس کے ذرائع اور ابتدائی موصولہ اطلاعات کے مطابق، پشاور پولیس کی ایک خاص ٹیم بدنام زمانہ اور سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کو قانون کے مطابق کارروائی کے لیے منتقل کر رہی تھی۔ جیسے ہی پولیس کی گاڑیاں نادرن بائی پاس پر تھانہ شاہ پور کے حدود میں پہنچیں، پہلے سے گھات لگائے مسلح حملہ آوروں نے پولیس کے قافلے پر جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔حملہ آوروں نے نہ صرف فائرنگ کی بلکہ پولیس کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر ان پر ہینڈ گرنیڈ سے بھی حملہ کیا۔ اس اچانک اور شدید حملے کے نتیجے میں گاڑی میں موجود دو ایس ایچ اوز شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ پولیس کی حراست میں موجود اشتہاری مجرم ممتاز بھی فائرنگ اور دھماکے کی زد میں آ کر شدید طور پر زخمی ہو گیا۔حملہ انتہائی اچانک تھا، لیکن پولیس اہلکاروں نے حواس باختہ ہونے کے بجائے فوری طور پر دفاعی پوزیشن سنبھالی اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی۔ دونوں جانب سے کچھ دیر تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ پولیس کی مؤثر اور دلیری سے کی گئی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دو حملہ آور موقع پر ہی ڈھیر ہو گئے، جب کہ ان کے دیگر ساتھی اندھیرے اور بائی پاس کے اطراف کے غیر آباد علاقوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔زخمیوں کی ہسپتال منتقلی اور طبی امدادواقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 اور پولیس کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ شدید زخمی ہونے والے دونوں ایس ایچ اوز اور زخمی اشتہاری مجرم کو بلا تاخیر لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) پشاور منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر کے ان کا علاج شروع کر دیا۔ہسپتال ذرائع کے مطابق:زخمی پولیس افسران کو گولیوں اور دستی بم کے چھرا لگنے سے گہرے زخم آئے ہیں، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔زخمی مجرم ممتاز کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور اسے شدید نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ہسپتال انتظامیہ نے پولیس افسران کی دیکھ بھال کے لیے سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل ایک خاص میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔سی سی پی او پشاور کا بیان اور سیکیورٹی اقداماتواقعے کی اطلاع ملتے ہی کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام بھاری نفری کے ساتھ خود موقع پر پہنچے۔ سی سی پی او نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور آپریشن کی خود نگرانی کی۔میڈیا کو جاری کردہ اپنے ابتدائی بیان میں سی سی پی او پشاور نے بتایا:“پولیس پارٹی پر حملہ کرنے والے مجرمان کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ ہمارے بہادر افسران نے شدید حملے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور دو حملہ آوروں کو موقع پر ہی جہنم واصل کیا۔ اس وقت پورے شاہ پور اور نادرن بائی پاس کے اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس، لیویز اور ایلیٹ فورس کے دلاور جوان علاقے میں گھر گھر سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔ واقعے سے متعلق تمام تر تکنیکی اور فارنزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور سرچ آپریشن کی مکمل تفصیلات اس کے اختتام پر جاری کی جائیں گی۔”واقعے کا پس منظر اور نادرن بائی پاس کی سیکیورٹیپشاور کا نادرن بائی پاس انتظامی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس اور اہم شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ بائی پاس شہر کے مختلف حصوں کو ملانے کے علاوہ خیبر ایجنسی اور دیگر قبائلی اضلاع کے راستوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی اس شاہراہ پر جرائم پیشہ عناصر اور کالعدم تنظیمیوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔بدنام زمانہ اشتہاری ممتاز عرف ممتازے پولیس کو قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین مقدمات میں طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ پولیس کی جانب سے اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کے گروہ اور سہولت کاروں نے اسے پولیس حراست سے چھڑانے یا پولیس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس بزدلانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کی، جو کہ پولیس کی فوری اور موثر کارروائی کی وجہ سے ناكام ہو گئی۔مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈاؤنخیبر پختونخوا پولیس پچھلے کچھ عرصے سے پشاور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں اشتہاری مجرموں، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کے خلاف ایک منظم اور وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن چلا رہی ہے۔ نادرن بائی پاس کا یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مجرمان پولیس کے مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، پولیس پر اس قسم کے حملے جرائم پیشہ عناصر کی آخری ہچکولے ہیں، کیونکہ پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کا دائرہ کار انتہائی وسیع کر دیا ہے۔قانونی کارروائی اور فارنزک تحقیقاتتھانہ شاہ پور میں واقعے کا مقدمہ انسدادِ دہشت گردی اور پولیس پر حملے سمیت مختلف سنگین دفعات کے تحت درج کیا جا رہا ہے۔پولیس کی فارنزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے درج ذیل شواہد اکٹھے کر لیے ہیں:ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کا بائیو میٹرک ڈیٹا اور ان کا شناختی ریکارڈ معلوم کیا جا رہا ہے۔موقع سے ملنے والے گولیوں کے خول، دستی بموں کے ٹکڑے اور دیگر شواہد کو فارنزک لیبارٹری روانہ کر دیا گیا ہے۔واقعے کی جگہ پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں (اگر کوئی دستیاب ہیں) کی فوٹیج کا جائز لیا جا رہا ہے۔عوام میں تشویش اور پولیس کا عزماس خونریز واقعے کے بعد پشاور کے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم عوام نے پولیس افسران کی جانب سے موقع پر دکھائی جانے والی شجاعت کو سراہا ہے۔ شہریوں اور مقامی عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ نادرن بائی پاس اور پشاور کے دیہی علاقوں میں سیکیورٹی اور گشت کا نظام مزید سخت کیا جائے تاکہ اس نوعیت کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔پشاور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ “پولیس فورس کے حوصلے بلند ہیں، اور شہدا و زخمیوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔ شہر کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا۔”سرچ آپریشن تاحال جاری ہے اور جیسے ہی پولیس انتظامیہ کی طرف سے نئی تفصیلات یا ہلاک حملہ آوروں کی شناخت سامنے آئے گی، خبر میں پیش رفت شامل کی جائے گی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationسندھ میں پنک الیکٹرک اسکوٹی پروگرام کی مقبولیت: 50 ہزار سے زائد درخواستیں موصول، خواتین کو خودمختار بنانے کا نیا دور لکی مروت: پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 خوارجی دہشت گرد ہلاک، بنوں کو مطلوب خطرناک ملزم انجام کو پہنچ گیا