اہم نکات:عیادت و عزم: کیپٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال آمد، نادرن بائی پاس پر زخمی ہونے والے پولیس افسران کی عیادت کی۔طبی سہولیات: سی سی پی او نے ہسپتال انتظامیہ اور معالجین سے زخمی ایس ایچ اوز کی صحت پر بریفنگ لی اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کا حکم دیا۔حوصلہ افزائی: پولیس سربراہ نے زخمی افسران کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورس کے جوانوں کی صحت و سلامتی پولیس قیادت کی اولین ترجیح ہے۔پس منظر: نادرن بائی پاس پر بدنام زمانہ مجرم کی منتقلی کے دوران فائرنگ اور دستی بم حملے میں دو پولیس افسران زخمی ہوئے تھے۔پشاور (خصوصی رپورٹ) پشاور میں نادرن بائی پاس کے قریب پولیس قافلے پر ہونے والے خطرناک اور بزدلانہ حملے کے بعد پولیس فورس کا مورال بلند رکھنے اور زخمی اہلکاروں کی دیکھ بھال کے لیے اعلیٰ قیادت متحرک ہو گئی ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گزشتہ دنوں نادرن بائی پاس پر حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے دو ایس ایچ اوز کی عیادت کی اور ان کی مزاج پرسی کی۔سی سی پی او نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا دورہ کر کے زیرِ علاج پولیس افسران کی صحت و سلامتی کے حوالے سے سینئر ڈاکٹروں سے بریفنگ لی اور طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید بہتری کے احکامات جاری کیے۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں عیادت اور بریفنگسی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے ہسپتال پہنچ کر زیرِ علاج دونوں ایس ایچ اوز سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کے ساتھ وقت گزارا اور ان کی جرات و شجاعت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ہسپتال انتظامیہ اور شعبہ حادثات کے سربراہ نے پولیس سربراہ کو دونوں افسران کی سرجری، جسمانی زخموں کی نوعیت اور ریکوری کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ڈاکٹر میاں سعید احمد نے ہسپتال کے ایم ایس اور کنسلٹنٹس کو سخت تاکید کی کہ زخمی افسران کی دیکھ بھال میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے اور اگر ضرورت پڑے تو اعلیٰ ترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بلاحجھک استعمال کیے جائیں۔پولیس قیادت کا جذبہ اور پیغامزخمی افسران سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او پشاور نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی تاریخ شجاعت اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دشوار ترین حالات میں بھی فرائض کی انجام دہی سے پیچھے نہ ہٹنا پشاور پولیس کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ڈاکٹر میاں سعید احمد نے اپنے بیان میں واضح کیا:“ہمارے بہادر افسران نے شدید اور اچانک حملے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت دیتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ زخمی افسران اور جوانوں کی دیکھ بھال اور ان کی جلد صحتیابی ہماری سب سے پہلی اور اہم ترین ترجیح ہے۔ پولیس محکمہ اپنے ہر ایک جوان کے پیچھے چٹان کی طرح کھڑا ہے اور ان کی فلاح و بہبود میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔”واقعے کا پس منظر اور نادرن بائی پاس کا حملہاس دورے کا پس منظر نادرن بائی پاس پر پیش آنے والا وہ خطرناک واقعہ ہے جس میں پولیس کی ایک پارٹی سنگین مقدمات میں مطلوب اور بدنام زمانہ اشتہاری مجرم ممتاز عرف ‘ممتازے’ کو حراست میں لے کر منتقل کر رہی تھی۔تھانہ شاہ پور کی حدود میں پہلے سے گھات لگائے مسلح عناصر نے پولیس گاڑیوں پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور ساتھ ہی ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) سے بھی حملہ کر دیا۔اس حملے میں دو ایس ایچ اوز شدید زخمی ہو گئے تھے۔زیرِ حراست اشتہاری مجرم ممتاز بھی فائرنگ اور دھماکے کی زد میں آ کر زخمی ہوا۔پولیس اہلکاروں نے دلیری سے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو حملہ آور موقع پر ہی مارے گئے تھے۔واقعے کے اہم ارکان اور حاصل شدہ ڈیٹاحملے، ہسپتال کی صورتحال اور پولیس کے ردِعمل کو درج ذیل نکات میں یکجا کیا گیا ہے:اہم زمرےتفصیلی ڈیٹا / صورتحالمقامِ حادثہنادرن بائی پاس، تھانہ شاہ پور کی حدود، پشاورزخمی افسراندو ایس ایچ اوز (لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیرِ علاج)حملے کا طریقہخودکار ہتھیاروں سے فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ حملہپولیس کی جوابی کارروائی2 حملہ آور موقع پر ہلاکطبی سہولیات کی ہدایتسی سی پی او کی جانب سے خصوصی میڈیکل بورڈ اور بہترین علاج کا حکمسیکیورٹی الرٹنادرن بائی پاس کے اطراف وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاریسیکیورٹی کے سخت اقدامات اور سرچ آپریشننادرن بائی پاس اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت ناکہ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔ سی سی پی او کے احکامات کے بعد خیبر ایجنسی، دیہی علاقوں اور بائی پاس کے قریبی دیہاتوں میں کمانڈو ٹیموں اور ایلیٹ فورس کا سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق، واقعے کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ آوروں کو سیکیورٹی کی گاڑیوں کی نقل و حرکت کی اطلاع کس نے دی اور اس گروہ کے پسِ پردہ کون سے سہولت کار موجود تھے۔فورس کا بلند مورال اور عوامی تحسینشہر کے سیاسی، سماجی اور تجارتی حلقوں نے سی سی پی او پشاور کے اس دورے اور زخمی پولیس افسران کی فوری دیکھ بھال کی تعریف کی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب پولیس فورس کا سربراہ اپنے جوانوں کے ساتھ میدانِ عمل اور ہسپتال میں خود موجود ہو، تو اس سے فورس کے جذبے میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔پشاور پولیس کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال پیدا کرنے اور جرائم پیشگی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی جاری رہے گی، اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔آئندہ کا لائحہ عمللیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، زخمی افسران کی حالت مستحکم ہے اور انہیں ضروری جراحی اور طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس کی اعلیٰ قیادت مسلسل ہسپتال سے رابطہ میں ہے تاکہ ان کی صحتیابی کا عمل تیزی سے مکمل ہو سکے۔ دوسری جانب، پولیس کا کہنا ہے کہ شاہ پور واقعے میں ملوث باقی تمام نیٹ ورک کو بہت جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationلکی مروت: پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 خوارجی دہشت گرد ہلاک، بنوں کو مطلوب خطرناک ملزم انجام کو پہنچ گیا مردان: ویمن یونیورسٹی کی طالبات کی ڈسٹرکٹ پولیس میں 45 روزہ انٹرن شپ مکمل، ڈی پی او آفس میں پروقار تقسیمِ اسناد کی تقریب