Preloader
2 terrorist killed at lakki marwat

اہم نکات:

  • مشترکہ آپریشن: لکی مروت کے علاقے شاہ حسن خیل میں پولیس، سی ٹی ڈی اور مقامی امن کمیٹی کی رات کے وقت ٹارگٹڈ کارروائی۔
  • دہشت گردوں کی ہلاکت: فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد 2 خطرناک خوارجی دہشت گرد ہلاک، جن میں سے ایک انتہائی مطلوب تھا۔
  • اہم شناخت: ہلاک ملزم مبشر سی ٹی ڈی بنوں کو قتل، اقدامِ قتل اور بم دھماکوں کے 4 مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔
  • آئی جی پی کا ردِعمل: انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی تشکرانہ شاباش اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے عزم کا اعادہ۔

لکی مروت (خصوصی رپورٹ) خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں امن و امان کی بحالی اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف جاری سیکیورٹی اقدامات کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک اور بڑی اور نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تھانہ سٹی کی حدود شاہ حسن خیل میں رات کے اندھیرے میں کیے گئے ایک کامیاب ٹارگٹڈ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران 2 خوارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت انتہائی مطلوب ملزم مبشر کے نام سے ہوئی ہے، جو خطے میں متعدد بم دھماکوں اور سنگین وارداتوں کا مرکزی کردار رہا ہے۔

اس کارروائی کو جنوبی اضلاع میں پائیدار امن کے قیام، پولیس اور عوام کے باہمی تعاون اور حساس اداروں کے بروقت سیکیورٹی نیٹ ورک کی ایک بہترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

آپریشن کی پیش رفت اور ڈرامائی تفصیلات

پولیس اور ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے ترجمان کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ ذرائع سے شاہ حسن خیل (تھانہ سٹی کی حدود) میں خطرناک خوارجی عناصر کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی۔ اس اطلاع پر فوری اور حکمتِ عملی سے بھرپور ردِعمل دیتے ہوئے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے ایک مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دی۔

اس ہائی پروفائل آپریشن کی قیادت ڈی ایس پی لکی مروت نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ ایس ایچ او سٹی، سی ٹی ڈی کے خصوصی اہلکار اور ولیج کونسل بیگو خیل کی مقامی امن کمیٹی کے غیر متزلزل اراکین بھی شامل تھے۔ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کی ممکنہ گاہ کو چاروں طرف سے حصار میں لے لیا۔

پولیس پارٹی کی آمد کا احساس ہوتے ہی دہشت گردوں نے اپنے روایتی بزدلانہ انداز میں دفاعی پوزیشن سنبھالتے ہوئے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کی پیش قدمی کرنے والی ٹیموں نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کا یہ شدید تبادلہ کچھ دیر جاری رہا، جس کے اختتام پر دو خوارجی دہشت گرد موقع پر ہی ڈھیر ہو گئے۔

ہلاک دہشت گرد کی شناخت اور مجرمانہ پس منظر

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کی مکمل پیش رفت کے بعد علاقے کو کلیئر کر کے ابتدائی شناخت کا عمل شروع کیا گیا۔ موصولہ مصدقہ ارکان اور ڈیٹا بیس کے مطابق:

  • شناخت: ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت مبشر ولد اسلم خان کے نام سے ہوئی۔
  • مطلوبہ حیثیت: مذکورہ دہشت گرد سی ٹی ڈی بنوں کو ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین نوعیت کے مقاصد میں طویل عرصے سے درکار تھا۔
  • درج مقدمات: ملزم کے خلاف سی ٹی ڈی بنوں میں قتل، اقدامِ قتل، دہشت گردی اور بم دھماکوں سے متعلق 4 مختلف اہم اور سنگین مقدمات درج تھے۔
  • دوسرا دہشت گرد: ہلاک ہونے والے دوسرے خوارجی دہشت گرد کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے اور اس کا سائنسی و بائیو میٹرک ریکارڈ جمع کیا جا رہا ہے۔

مقدمات اور سیکیورٹی ڈیٹا کا جائزہ

دہشت گرد مبشر کے خلاف درج مقدمات اور اس کے مجرمانہ پس منظر کے اہم نكات درج ذیل ہیں:

تفصیلاتتفصیل / ڈیٹا
نام و ولدیتمبشر ولد اسلم خان
متعلقہ زونسی ٹی ڈی بنوں / لکی مروت
مطلوبہ مقدمات کی تعداد4 مختلف سنگین ایف آئی آرز
مجرمانہ دفعات7 ATA (دہشت گردی)، قتل، اقدامِ قتل، بم دھماکے
آپریشن کا وقت و مقامشاہ حسن خیل، ضلع لکی مروت (رات کا وقت)
شریک فورسزپولیس، سی ٹی ڈی، مقامی امن کمیٹی بیگو خیل

مقامی امن کمیٹیوں کا کردار اور عوامی شراکت داری

اس آپریشن کا ایک انتہائی اہم اور نمایاں پہلو ولیج کونسل بیگو خیل کی مقامی امن کمیٹی کے اراکین کی عملی شرکت تھی۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع بالخصوص لکی مروت میں پچھلے کچھ عرصے سے دیسی اور قبائلی سطح پر پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوا ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، جب کسی بھی ٹارگٹڈ آپریشن میں مقامی آبادی اور امن کمیٹیاں پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں، تو دہشت گردوں کے لیے چھپنے کی جگہیں اور سہولت کاری کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ بیگو خیل امن کمیٹی کا یہ کردار اس بات کی دلیل ہے کہ لکی مروت کے عوام اپنے علاقے میں امن و امان کی بحالی اور تشدد کے خاتمے کے لیے سیکورٹی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتے ہیں۔

آئی جی پی خیبرپختونخوا کا ردِعمل اور شاباش

انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے اس کامیاب اور جانباز کارروائی پر لکی مروت پولیس، سی ٹی ڈی اور آپریشن میں شامل تمام اہلکاروں کی پیٹھ تھپتھپائی اور انہیں خصوصی شاباش دی۔

آئی جی پی ذوالفقار حمید نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا:

“امن دشمن عناصر کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ ہمارے افسران اور جوانوں نے رات کی تاریکی میں انتہائی جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست کے دشمنوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے اس ناسور کو صوبے کی سرزمین سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز ہر ممکن حد تک جائیں گی۔”

جنوبی اضلاع کا جغرافیائی و سیکیورٹی پس منظر

ضلع لکی مروت اور اس کے ملحقہ اضلاع بنوں، ٹانک اور شمالی و جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں پہاڑی درے اور اندرونی دیہی راستے ماضی میں شدت پسند عناصر کے لیے نقل و حرکت اور روپوشی کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔

تاہم، پچھلے چند مہینوں سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس نے ان اضلاع میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا ہے۔ شاہ حسن خیل جیسے اندرونی علاقوں میں ٹارگٹڈ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب شدت پسند عناصر کے پاس محفوظ ٹھکانے باقی نہیں رہے اور سیکیورٹی فورسز ان کی گاہوں تک رسائی حاصل کر چکی ہیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور تحقیقات

پولیس حکام کے مطابق، واقعہ کے بعد تھانہ سٹی لکی مروت اور سی ٹی ڈی نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہلاک ملزمان کے قبضے سے ملنے والے اسلئے، بارودی مواد اور دیگر سامان کو فارنزک لیبارٹری بھجوانے کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ دوسرے ہلاک دہشت گرد کے بائیو میٹرک کے ذریعے ڈیٹا بیس سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ اس کے نیٹ ورک، رابطہ کاروں اور ماضی کی سرگرمیوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ علاقے میں کسی بھی ممکنہ باقی ماندہ سہولت کار کی موجودگی کو ناکام بنانے کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی جانب سے کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا دائرہ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس کامیاب آپریشن سے علاقے میں بنوں اور لکی مروت کی حدود میں متحرک دہشت گرد گروہوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025