اہم نکات:شدید عوامی احتجاج: کراچی کے متعدد علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور کے الیکٹرک کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔کے الیکٹرک دفتر کے باہر دھرنا: حیدری مارکیٹ میں کے الیکٹرک کے علاقائی دفتر کے سامنے مظاہرین نے دھرنا دے دیا، جس میں علمائے کرام اور علاقائی معززین نے بھی شرکت کی۔متاثرہ علاقے: اورنگی ٹاؤن، سائٹ ایریا، فرنٹیئر کالونی، ضیا کالونی، میٹروول اور بوانی چالی سمیت کئی گنجان آباد علاقوں میں بجلی کی معطلی سے پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔کاروباری و معاشی نقصان: صنعتی و تجارتی مراکزی علاقوں بالخصوص سائٹ (SITE) انڈسٹریل ایریا میں پیداواری عمل متاثر ہونے سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے اور تاجروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے معاشی حب اور عروس البلاد کراچی میں غیر اعلانیہ اور بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہنے پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور شہر کے مختلف حصوں میں مرد، خواتین اور بچوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کیے۔ حیدری مارکیٹ میں پاور سپلائی کمپنی ‘کے الیکٹرک’ کے دفتر کے باہر مظاہرین نے دھرنا دے کر ٹریفک کی آمدورفت معطل کر دی، جبکہ اورنگی ٹاؤن اور سائٹ ایریا سمیت دیگر اہم علاقوں میں بھی شدید نعرے بازی کی گئی۔مظاہروں کی تفصیلات اور متاثرہ علاقوں کا احوالبجلی کی غیر منصفانہ اور طویل معطلی کے خلاف احتجاج کا دائرہ کار شہر کے گنجان آباد اور صنعتی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ اورنگی ٹاؤن، سائٹ ایریا، فرنٹیئر کالونی، ضیا کالونی، میٹروول، اور بوانی چالی کے مکین اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر جمع ہوئے۔احتجاجی مظاہروں کی نمایاں تفصیلات درج ذیل ہیں:حیدری مارکیٹ دھرنا: حیدری میں واقع کے الیکٹرک کے علاقائی دفتر کے باہر سینکڑوں شہریوں نے دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر 12 سے 16 گھنٹے بجلی بند رکھی جا رہی ہے، جس کے باعث ان کے بچے اور بزرگ شدید بیمار ہو رہے ہیں۔علماء اور معززین کی شرکت: احتجاج میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ مقامی علماء کرام، تاجر برادری اور علاقے کے معززین نے بھی بھرپور شرکت کی اور بجلی کی فوراً بحالی کا مطالبہ کیا۔روڈ بلاک اور نعرے بازی: اورنگی ٹاؤن اور سائٹ ایریا سے متصل مرکزی شاہراؤں پر مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں، جس کے باعث ارد گرد کے علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لوڈشیڈنگ کے پیچھے کا ڈیٹا اور موجودہ اعداد و شمارکراچی میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اگرچہ کے الیکٹرک کی جانب سے تکنیکی نقصان (High Loss Areas) کا عذر پیش کیا جاتا ہے، لیکن عام شہریوں کا کہنا ہے کہ بل باقاعدگی سے ادا کرنے والوں کو بھی سزا دی جا رہی ہے۔موجودہ بجلی کے بحران اور اعداد و شمار کی صورتحال کچھ یوں ہے:روزانہ لوڈشیڈنگ کی مدت: نارمل علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے، جبکہ ہائی لاس یا گنجان آباد علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ۔پانی کی قلت: بجلی نہ ہونے سے واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز اور گھریلو واٹر پمپس ناکارہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں شہر کے 60 فیصد سے زائد متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔اضافی بلنگ اور وولٹیج میں اتوار چڑھاؤ: شہریوں کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ ایک طرف بجلی غائب رہتی ہے اور دوسری طرف اوور بلنگ کے ساتھ ساتھ لو وولٹیج کی وجہ سے قیمتی برقی اشیاء (ایئر کنڈیشنر، فریج، واشنگ مشینیں) جل رہی ہیں۔صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر اثراتکراچی ملک کا صنعتی اور مالیاتی دل مانا جاتا ہے، جہاں سے ملکی ریونیو کا ایک بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے۔ سائٹ (SITE) انڈسٹریل ایریا اور اس سے ملحقہ فرنٹیئر کالونی، میٹروول اور بوانی چالی جیسے علاقے ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی یونٹس سے بھرپور ہیں۔طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ان علاقوں کی صنعتیں شدید متاثر ہوئی ہیں:پیداواری لاگت میں اضافہ: صنعتکاروں کو اپنے یونٹس چلانے کے لیے مہنگے ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جس سے اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔روزانہ اجرت والوں کا نقصان: صنعتی یونٹس کی بندش سے دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ شفٹوں کے کام نہ ہونے سے ان کی اجرت کاٹ لی جاتی ہے۔چھوٹے تاجروں کی بدحالی: حیدری مارکیٹ سمیت دیگر تجارتی مراکزی علاقوں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم موجودگی سے شام کے اوقات میں گاہکوں کا آنا بند ہو گیا ہے، جس سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔کے الیکٹرک کا موقف اور قانونی پہلودوسری جانب، کے الیکٹرک انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ نیپرا (NEPRA) کے طے شدہ قوانین اور پالیسی کے مطابق پاور ڈسٹری بیوشن کا نظام چلا رہی ہے۔ کمپنی ترجمان کے مطابق جن علاقوں میں بجلی کی چوری زیادہ ہے اور لائن لاسز 30 فیصد سے تجاوز کر جاتے ہیں، وہاں حکومتی پالیسی کے تحت عارضی لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔تاہم، قانونی ماہرین اور صارف حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ ان صارفین کو निर्बाध (بغیر کسی رکاوٹ) بجلی فراہم کرے جو باقاعدگی سے اپنے تمام بلز ادا کرتے ہیں۔ چند نادہندگان یا چوری کی بنیاد پر پورے کے پورے علاقے کی بجلی کاٹنا آئینی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔عوامی مطالبات اور ضلعی انتظامیہ کا کردارمظاہرین اور علاقہ معززین نے وفاقی حکومت، وزارتِ توانائی اور نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے۔ان کے اہم مطالبات میں درج ذیل نکات شامل ہیں:غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ: تمام علاقوں میں بجلی کی آمد و رفت کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے اور غیر اعلانیہ قطعی بندش ختم کی جائے۔بل ادا کرنے والوں کا تحفظ: جن فیڈرز پر بلوں کی ادائیگیاں بہتر ہیں وہاں فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ صفر یا کم سے کم کیا جائے۔اوور بلنگ کی تحقیقات: نیپرا ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دے جو اضافی بلنگ اور لو وولٹیج کی شکایات کا ازالہ کرے۔حیدری اور اورنگی ٹاؤن میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوششیں کی ہیں۔ پولیس حکام نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے مطالبات کے الیکٹرک کی اعلیٰ انتظامیہ تک پہنچائے جائیں گے، جس کے بعد مظاہرین نے سڑک کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا، تاہم انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ شہر گیر احتجاج کی کال دیں گے۔مستقبل کی صورتحال اور ممکنہ اثراتاگر کراچی میں بجلی کا یہ بحران فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس سے شہر کے امن و امان اور معاشی استحکام پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ موسمِ گرما کے جوبن پر ہونے کے سبب بجلی اور پانی کا بحران نہ صرف عوامی غصے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ صنعتی پیداوار میں کمی سے ملکی برآمدات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔حکومت اور کے الیکٹرک انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لایعنی تاویلات کے بجائے فوری طور پر اضافی پاور جنریشن کو قومی گرڈ سے حاصل کر کے شہر کی بجلی کی ضرورت کو پورا کریں تاکہ شہریوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationراولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش: نالہ لئی میں طغیانی، نشیبی علاقے زیرِ آب اور پاک فوج طلب ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا کی ماہانہ رپورٹ: اگست 2026 میں 18 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں بروقت رسپانس، ہزاروں افراد نجات پا گئے