اہم نکات:مجموعی کارکردگی: ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا نے اگست 2026 کے دوران صوبے بھر میں 18,760 سے زائد ہنگامی واقعات پر فوری اور پیشہ ورانہ رسپانس دیا۔طبی اور حادثاتی خدمات: ماہ اگست میں 15,038 میڈیکل ایمرجنسیز، 2,126 روڈ ٹریفک حادثات اور 769 ڈوبنے کے واقعات سمیت 22,947 سے زائد شہریوں کو طبی امداد اور محفوظ مقامات پر منتقلی فراہم کی گئی۔سب سے متاثرہ اضلاع: صوبائی دارالحکومت پشاور 3,989 ایمرجنسیز کے ساتھ سرِ فہرست رہا، جبکہ مردان 2,672 اور نوشہرہ 1,477 ایمرجنسیز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔عوامی اپیل: ایمرجنسی سروس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی حادثے کی صورت میں بلا تاخیر 1122 پر رابطہ کریں اور امدادی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں۔خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سروسز کے مرکزی ادارے ریسکیو 1122 نے ماہِ اگست 2026ء کی اپنی جامع کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادارے نے یکم اگست سے 31 اگست 2026ء تک صوبے کے تمام اضلاع میں مجموعی طور پر 18,760 ہنگامی واقعات (ایمرجنسیز) میں پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرتے ہوئے ہزاروں انسانی جانوں کو بچایا اور متاثرین کو بروقت طبی و امدادی سہولیات پہنچائیں۔مون سون کے سیزن، سڑک کے حادثات اور دیگر ناگہانی آفات کے پیشِ نظر ریسکیو اہلکاروں نے دن رات متحرک رہ کر صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں اپنی بہترین آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔حادثات اور ہنگامی واقعات کا تفصیلی جائزہماہ اگست کے دوران رونما ہونے والی ایمرجنسیز کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبی امداد اور ٹریفک حادثات کے واقعات سرِ فہرست رہے، جبکہ بارشوں کے موسم کے باعث ڈوبنے اور عمارتیں منہدم ہونے کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔مختلف شعبہ جات میں فراہم کی جانے والی ریسکیو خدمات کا ڈیٹا درج ذیل ہے:طبی ایمرجنسیز (Medical Emergencies): 15,038 واقعات (کل ایمرجنسیز کا سب سے بڑا حصہ)روڈ ٹریفک حادثات (Traffic Accidents): 2,126 واقعاتڈوبنے کے واقعات (Drowning Incidents): 769 واقعات (برساتی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث)متفرق ایمرجنسیز (Other Emergencies): 497 واقعاتآتشزدگی (Fire Incidents): 415 واقعاتجرائم اور تشدد کے واقعات (Crime-related Incidents): 270 واقعاتعمارتیں اور چھتیں منہدم ہونا (Building Collapses): 96 واقعاتمائنز حادثات (Mines Accidents): 28 واقعاتسلنڈر اور دیگر دھماکے (Explosions): 17 چھوٹے بڑے واقعاتان تمام ایمرجنسیز کے دوران ریسکیو 1122 کے ماہر ٹیموں نے مجموعی طور پر 22,947 متاثرہ شہریوں اور مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اورانہیں بحفاظت صوبے کے مختلف ہسپتالوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ضلعی سطح پر ایمرجنسیز کی تقسیم اور جغرافیائی ڈیٹاصوبے کے مختلف اضلاع میں آبادی کے تناسب، ٹریفک کے دباؤ اور موسمی اثرات کے مطابق ایمرجنسیز کی تعداد مختلف رہی۔ صنعتی و شہری مراکز اور زیادہ آبادی والے اضلاع میں ایمرجنسی کالز کا تناسب بلند رہا۔مختلف اضلاع میں درج کی جانے والی ایمرجنسیز کی تفصیلی فہرست یوں ہے:پشاور: 3,989 ایمرجنسیز (صوبے میں سب سے زیادہ)مردان: 2,672 ایمرجنسیزنوشہرہ: 1,477 ایمرجنسیزسوات: 1,135 ایمرجنسیزڈیرہ اسماعیل خان: 1,003 ایمرجنسیزصوابی: 966 ایمرجنسیزلکی مروت: 847 ایمرجنسیزبنوں: 760 ایمرجنسیزایبٹ آباد: 574 ایمرجنسیزچارسدہ: 459 ایمرجنسیزملاکنڈ: 398 ایمرجنسیزکوہاٹ: 393 ایمرجنسیزمہمند: 381 ایمرجنسیزباجوڑ: 362 ایمرجنسیزخیبر: 338 ایمرجنسیزمانسہرہ: 295 ایمرجنسیزہری پور: 292 ایمرجنسیزشانگلہ: 278 ایمرجنسیزچترال لوئر: 277 ایمرجنسیزبونیر: 270 ایمرجنسیزاپر دیر: 228 ایمرجنسیزکرک: 224 ایمرجنسیزکرم: 219 ایمرجنسیزان تمام اضلاع کے علاوہ دیگر دور دراز اور ضم شدہ اضلاع میں بھی ریسکیو 1122 کے کنٹرول رومز 24 گھنٹے فعال رہے اور شہریوں کو بلا تفریق خدمات فراہم کی گئیں۔مون سون، آبی خطرات اور ریسکیو کا چیلنجماہِ اگست خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں اور طغیانی کے لحاظ سے انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے۔ رواں برس اگست کے دوران ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے ڈوبنے کے 769 واقعات اور چھتیں منہدم ہونے کے 96 واقعات رپورٹ ہوئے، جو کہ ریسکیو کے بنیادی چیلنجز میں شامل تھے۔صوبے کے سیاحتی و پہاڑی علاقوں جیسے سوات، چترال، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں ندی نالوں میں پھنسے سیاحوں اور مقامی افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے غوطہ خور (Diving Teams) اور ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں متحرک رہیں۔ معدنیات کی کانوں میں ہونے والے 28 حادثات میں بھی ریسکیو 1122 کی خصوصی ٹیموں نے ریسکیو آپریشنز سرانجام دیے، جس سے کئی کان کنوں کی جانیں بچائی گئیں۔سڑک کے حادثات اور ٹریفک سیفٹی کی اہمیتاگست میں 2,126 روڈ ٹریفک حادثات کا ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں ٹریفک حادثات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ تیز رفتاری، لاپرواہی، کم عمر ڈرائیورز اور مون سون کی بارشوں کے دوران سڑکوں پر پھسلن ان حادثات کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ریسکیو حکام نے واضح کیا کہ روڈ ایکسیڈنٹ ایمرجنسیز پر اوسطاً رسپانس ٹائم کو چند منٹوں تک محدود رکھا گیا تاکہ “گولڈن آور” (یعنی حادثے کے فوراً بعد کا وہ وقت جو زندگی بچانے کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے) کے اندر مریض کو طبی امداد مل سکے۔ادارے کا پس منظر، ترقی اور عوامی اعتمادریسکیو 1122 خیبرپختونخوا ایک جدید اور موثر ایمرجنسی سروس کے طور پر ابھرا ہے۔ ماضی میں جب صوبے میں کوئی مربوط ایمرجنسی سسٹم موجود نہیں تھا، تو حادثات کے متاثرین کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے غیر تربیتی ذرائع کا سہارا لیا جاتا تھا، جس سے جانی نقصان کا اندیشہ زیادہ ہوتا تھا۔آج ریسکیو 1122 کے پاس جدید ترین ایمبولینسز، فائر ٹینڈرز، واٹر ریسکیو آلات، کٹر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی گاڑیاں موجود ہیں۔ ادارے نے قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں بھی اپنا دائرہ کار پھیلا دیا ہے، جس کے باعث باجوڑ، خیبر، مہمند اور کرم جیسے علاقوں میں بھی ہزاروں افراد کو بروقت امداد مل رہی ہے۔عوامی آراء، تعاون اور ہدایاتریسکیو 1122 خیبرپختونخوا کی انتظامیہ نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایمرجنسی سروس کے نظام کی بہتری اور تیز ترین رسپانس کے لیے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:بلا تاخیر اطلاع: کسی بھی حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں فوراً ٹول فری نمبر 1122 پر کال کریں۔غیر ضروری کالز سے گریز: ہیلپ لائن پر فضول یا جعلی کالز کرنے سے پرہیز کریں تاکہ واقعی مستحق اور ضرورت مند افراد کا رابطہ متاثر نہ ہو۔راستہ فراہم کرنا: سڑکوں پر ایمبولینس اور فائر برگیڈ کی گاڑیوں کو فوری طور پر راستہ دیں تاکہ قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔اہلکاروں سے تعاون: ریسکیو آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر غیر ضروری بھیڑ نہ لگائیں اور امدادی اہلکاروں کو اپنا کام بلا تعطل کرنے دیں۔ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا نے اعادہ کیا ہے کہ ادارہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر لمحات تیار ہے اور آئندہ بھی بغیر کسی وقفے کے انسانیت کی خدمت جاری رکھے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationکراچی میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید عوامی احتجاج: کے الیکٹرک دفتر کے باہر دھرنا، کاروباری و گھریلو زندگی مفلوج پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ کچن گارڈننگ لازمی قرار: ہر اسکول میں سبزیوں کی کاشت اور دیکھ بھال کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم