اہم نکات:بڑا واقعہ: بنوں میں 55 سالہ ڈی ایس پی رحمت اللہ خان کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے اور ذہنی اذیت دینے کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آ گیا۔عدالتی کارروائی: شوگر کے مریض افسر کی حالت بگڑنے پر عدالتی بیلف نے چھاپہ مار کر انہیں بازیاب کرایا۔حکم نامہ: الزام ہے کہ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے واٹس ایپ وائس میسج کے ذریعے نچلے اہلکاروں کو ڈی ایس پی کی نگرانی اور انہیں محدود رکھنے کی ہدایت کی۔بڑا سوال: ایک منظم اور ڈسپلن فورس میں قانونی محکمانہ طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی طریقے سے افسر کو محصور کرنے پر کے پی پولیس کا مورال شدید متاثر۔خبر کی تفصیل:اسلام آباد / بنوں (نامہ نگار خصوصی) — خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے ایک ایسا غیر معمولی اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے صوبائی پولیس فورس کے اندرونی نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ضلع بنوں کے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز رحمت اللہ خان کو مبینہ طور پر ایک مخصوص جگہ پر غیر قانونی طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے اور شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب عدالتی بیلف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع پر چھاپہ مارا اور 55 سالہ پولیس افسر کو وہاں سے بازیاب کرا لیا۔بازیابی کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ڈی ایس پی رحمت اللہ خان شوگر اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے مریض ہیں، اور مسلسل ذہنی دباؤ اور مبینہ حبس کے باعث ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہو چکی ہے۔ انہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔متاثرہ افسر کا پس منظر اور بنوں کے نامساعد حالاتضلع بنوں اور اس کے گرد و نواح کے علاقے طویل عرصے سے سیکیورٹی کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال کے باعث پولیس افسران اور جوان ہر لمحہ سخت اور خطرناک ماحول میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق 55 سالہ ڈی ایس پی رحمت اللہ خان کا جب بطور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز بنوں تبادلہ ہوا تو انہوں نے حالات کی سنگینی یا ذاتی صحت کے مسائل کو بنیاد بنا کر ذمہ داریوں سے معذرت نہیں کی، بلکہ فورس کا ایک تجربہ کار افسر ہونے کے ناطے فوراً ڈیوٹی سنبھالی۔ مقامی سطح پر ان کی تعیناتی کو فورس کا مورال بلند رکھنے کی ایک کوشش سمجھا جا رہا تھا، تاہم چند ہی دنوں بعد صورتحال نے ایک غیر متوقع موڑ لے لیا۔واٹس ایپ میسج اور حبسِ بے جا کا منصوبہ: ذرائع کے سنسنی خیز انکشافاتذرائع کا دعویٰ ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد ڈی ایس پی رحمت اللہ خان کو کسی قانونی نوٹس یا باضابطہ محکمانہ معطلی کے بغیر ایک مخصوص جگہ پر محدود کر دیا گیا۔ انہیں نہ صرف اس جگہ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی بلکہ ان پر سخت سفری و اختیاراتی پابندیاں بھی عائد کر دی گئی تھیں۔الزام ہے کہ اس تمام تر عمل کی نگرانی ایک اعلیٰ پولیس افسر کر رہے تھے، جنہوں نے مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعے ایک وائس میسج بھیج کر کانسٹیبلز اور مقامی اہلکاروں کو احکامات جاری کیے۔ وائس میسج میں ہدایت کی گئی تھی کہ ڈی ایس پی رحمت اللہ خان کو کسی صورت مذکورہ مقام سے باہر نہ جانے دیا جائے اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے۔ اس ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان کی رہائش یا بیٹھک کے باہر پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی، جس سے ایک سینئر افسر کے لیے اپنے ہی محکمے کے اندر قیدی جیسی کیفیت پیدا ہو گئی۔عدالتی بیلف کا چھاپہ اور بازیابیجب ڈی ایس پی کی صحت بگڑنے لگی اور ان کے گھر والوں یا متعلقہ قانونی نمائندوں کو اس غیر قانونی عمل کی اطلاع ملی تو معاملہ عدالت سے رجوع کیا گیا۔ عدالت کی جانب سے فوری ایکشن لیتے ہوئے بیلف کو روانہ کیا گیا جنہوں نے مقررہ مقام پر چھاپہ مار کر ڈی ایس پی رحمت اللہ خان کو مبینہ حبسِ بے جا سے آزادی دلائی۔بیلف کی رپورٹ اور موقع کے احوال نے اس بات کی تصدیق کی کہ افسر واقعی نامساعد حالات میں محصور تھے۔ بازیابی کے وقت ان کا بلڈ شوگر لیول اور بلڈ پریشر انتہائی غیر متوازن تھا، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر دکھائی دے رہے تھے۔ فی الوقت وہ طبی مشورے کے تحت مختلف اسپتالوں کے چکر کاٹنے اور اپنا معائنہ کروانے پر مجبور ہیں۔واقعے کے اہم پہلو: ایک نظر میںپہلوتفصیلمتاثرہ افسرڈی ایس پی رحمت اللہ خان (عمر: 55 سال، شوگر کے مریض)تعیناتی کا مقامڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز، ضلع بنوں (خیبر پختونخوا)بنیادی الزاماعلیٰ پولیس افسر کے حکم پر غیر قانونی حبسِ بے جا اور ذہنی اذیتکارروائی کا ذریعہواٹس ایپ وائس میسج کے ذریعے کانسٹیبلز کو ہدایات جاری کی گئیںقانونی پیش رفتعدالتی بیلف نے چھاپہ مار کر افسر کو بازیاب کرایاموجودہ صورتحالافسر کی طبیعت ناساز، اسپتالوں میں علاج معالجہ جاریپولیس فورس کے مورال اور آئینی و قانونی دائرہ کار پر اثراتاس واقعے نے خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ کمان اور ادارے کے اندرونی ڈسپلن پر کئی اہم سوالات داغ دیے ہیں۔ پولیس رولز اور آئینِ پاکستان کے تحت اگر کسی بھی پولیس افسر یا اہلکار کے خلاف کوئی شکایت، بدعنوانی، یا فرائض میں غفلت کا الزام ہو تو اس کے لیے ایک باقاعدہ نظام موجود ہے:شوکاز نوٹس جاری کرنا: متوقع خلاف ورزی پر افسر کو پہلے تحریری جواب دہی کا موقع دیا جاتا ہے۔محکمانہ انکوائری: ایک غیر جانبدار افسر کو انکوائری افسر مقرر کر کے تحقیقات کی جاتی ہیں۔معطلی یا لائن حاضر: جرم کی نوعیت کے مطابق افسر کو معطل یا لائن حاضر کیا جاتا ہے۔ان واضح قوانین کی موجودگی کے باوجود کسی سینئر افسر کو واٹس ایپ پیغام کے ذریعے نچلے درجے کے اہلکاروں کے ذریعے محصور کروانا نا صرف قانونی حدود کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عمل پولیس فورس کے اندر ادارہ جاتی نظم و ضبط کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ صحافتی و قانونی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے اقدامات سے فرائض سرانجام دینے والے دیگر افسران اور جوانوں میں غیر یقینی اور ناامیدی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔آئی جی خیبر پختونخوا سے شفاف انکوائری کا مطالبہواقعے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سول سوسائٹی، پولیس کے سابق افسران اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا سے فوری اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔مطالبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ:اس بات کی فوری تحقیقات کی جائیں کہ ڈی ایس پی کو کس کے زبانی یا غیر قانونی حکم پر حبس میں رکھا گیا۔واٹس ایپ پر میسج بھیجنے والے اور اس عمل پر عمل درآمد کروانے والے تمام ملوث اہلکاروں کا تعین کیا جائے۔اگر ڈی ایس پی کے خلاف کوئی محکمانہ شکایت تھی تو اس کی بھی آئین اور پولیس رولز کے مطابق جانچ کی جائے۔ایک ڈسپلن فورس میں قانون سے بالاتر ہو کر اقدامات کرنا نا صرف قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس سے عوام کا پولیس جیسے اہم ادارے پر اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ اب گیند خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ قیادت کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس واقعے کی کتنی شفافیت کے ساتھ تحقیقات کراتی ہے اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لاتی ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپشاور میں رہائشی بحران اور کرایوں میں ہوشربا اضافہ: ‘مرلہ وار ریٹ مقرر کیے جائیں’، پاکستان ہندکووان تحریک کا مطالبہ