Preloader
Increasing house rentals issue

اہم نکات:

  • رہائشی بحران: قبائلی اور جنوبی اضلاع سے نقل مکانی کے باعث پشاور میں کرائے کے مکانات کی شدید قلت اور کرایوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔
  • معاشی بوجھ: محض ایک مرلے کے مکان کا ماہانہ کرایہ 20 سے 25 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، جس سے کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔
  • شفافیت کی کمی: ضلاعی انتظامیہ کے پاس نئے آباد ہونے والے افراد کا ڈیٹا موجود نہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالکان اور پراپرٹی ایجنٹ من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔
  • سرکاری مداخلیت کا مطالبہ: پاکستان ہندکووان تحریک نے حکومت سے فوری سروے، قانونی ریکارڈ کی مرتب سازی اور چوکوں میں مرلہ وار کرایوں کی ریٹ لسٹیں آویزاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پشاور میں مسکن کی تلاش دشوار: کرائے کے مکانات کا بحران سنگین رخ اختیار کر گیا

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں رہائشی مکانات کی شدید قلت اور کرایوں میں دن بدن ہوتے ہوشربا اضافے نے مقامی شہریوں کو شدید معاشی اور نفسیاتی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ تاریخی شہر پشاور، جو ہمیشہ سے تجارتی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، اس وقت آبادی کے دباؤ اور بے لگام پراپرٹی مارکیٹ کے باعث ایک بڑے اجتماعی اور رہائشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

پاکستان ہندکووان تحریک کے صوبائی صدر محمد اکبر سیٹھی نے ایک حالیہ پریس ریلیز کے ذریعے شہر میں پیدا ہونے والی اس تشویشناک صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق، کرایوں پر کسی قسم کا سرکاری کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے عام شہری، خصوصاً قلیل تنخواہ دار طبقہ، بنیادی انسانی ضرورت یعنی چھت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔

بحران کے اسباب: نقل مکانی، آبادی کا بوجھ اور مارکیٹ کے ناموافق حالات

پشاور میں مکانات کی قلت اور کرایوں کے یکدم بڑھنے کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے کی جڑیں صرف مقامی معیشت سے نہیں بلکہ خطے کی سیاسی اور امن و امان کی صورت حال سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔

  1. داخلی نقل مکانی (Internal Migration): قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) اور صوبے کے جنوبی اضلاع سے روزگار، تعليم اور صحت کی بہتر سہولیات کی تلاش میں بڑی تعداد میں لوگ پشاور کا رخ کر رہے ہیں، جس سے شہر پر آبادی کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔
  2. افغان شہریوں کی واپسی کا غیر مؤقر اثر: اگرچہ حالیہ مہینوں میں افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری رہا، جس سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ مکانات خالی ہوں گے اور کرایوں میں کمی آئے گی، لیکن اس کے برعکس کرایوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
  3. غیر منظم پراپرٹی سیکٹر: شہر میں پراپرٹی ایجنٹوں اور مالکان کے لیے کوئی واضح اور قانونی ضابطہ اخلاق موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصولوں کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کی نظر میں: کم آمدنی والے طبقے کی معاشی کشمکش

موجودہ معاشی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پشاور میں ایک عام شہری کے لیے اپنا گھر چلانا کس حد تک مشکل ہو چکا ہے۔

  • مرلہ وار کرایوں کی صورت حال: اندرون شہر اور ملحقہ علاقوں میں محض ایک مرلے کے مکان کا ماہانہ کرایہ 20,000 سے 25,000 روپے تک وصول کیا جا رہا ہے۔
  • اوسط آمدنی اور اخراجات کا تناسب: ایک عام شہری کی اوسط ماہانہ آمدنی 30,000 روپے کے قریب ہے، جس میں سے 70 سے 80 فیصد رقم صرف مکان کے کرائے کی مد میں چلی جاتی ہے۔
  • دیگر معاشی ذمہ داریاں: باقی ماندہ 5,000 سے 10,000 روپے میں شہری کو درج ذیل بنیادی اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں:
    • یوٹیلیٹی بلز (بجلی، گیس، پانی)
    • ماہانہ راشن اور خوراک
    • بچوں کی اسکول فیسیں اور تعلیمی اخراجات
    • طبی و ہنگامی اخراجات

محمد اکبر سیٹھی کا کہنا ہے کہ “اس معاشی مساوات میں عام بندے کا گزر بسر ممکن ہی نہیں رہا۔ جب آمدنی کا بیشتر حصہ کرائے میں چلا جائے تو انسان عزت سے جینے کے بنیادی حق سے محروم ہو جاتا ہے۔”

قدیم رہائشیوں میں بیگانگی کا احساس اور انتظامی غفلت

پشاور کے اندرون شہر اور قدیم محلتوں کی صورت حال اس وقت انتہائی ابتر شکل اختیار کر چکی ہے۔ صدیوں سے یہاں آباد قدیم رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بے ہنگم آباد کاری اور مکانات کے کمرشل استعمال کی وجہ سے وہ اپنے ہی شہر میں اجنبی محسوس کرنے لگے ہیں۔

اس بحران کا ایک بڑا پہلو انتظامی ڈیٹا بیس کی عدم موجودگی ہے۔ ضلعی انتظامیہ (ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنروں) کے پاس پشاور میں نئے آنے والے اور منتقل ہونے والے افراد کا کوئی منظم اور جامع ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ ڈیٹا کی اس کمی کا براہ راست فائدہ من مانی کرنے والے عناصر اٹھاتے ہیں، اور کرایہ داروں کو بلا جواز نوٹسز، کرایوں میں ناگہانی اضافے اور بے دخلی کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

مطالبہ و تجاویز: جامع سروے اور مرلہ وار ریٹ لسٹوں کی ضرورت

پاکستان ہندکووان تحریک نے اس رہائشی بحران کا حل نکالنے کے لیے حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے سامنے چند واضح اور عملی مطالبات رکھے ہیں:

  1. جامع شہر وائز سروے: حکومت فوری طور پر پشاور کے تمام علاقوں کا جامع سروے کرائے تاکہ مالکان اور کرایہ داروں کے قانونی حقوق کا اندراج ہو سکے اور انتظامیہ کے پاس تمام آباد کاروں کا مستند ڈیٹا موجود ہو۔
  2. مرلہ وار ریٹ کا تعین: مکانات کے رقبے، علاقے کی نوعیت اور سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت خود مرلہ وار مناسب کرایوں کا ریٹ طے کرے۔
  3. عوامی مقامات پر ریٹ لسٹیں آویزاں کرنا: طے شدہ کرایوں کی لسٹیں شہر کے تمام اہم چوکوں، سرکاری دفاتر اور پراپرٹی ایجنٹوں کے دفاتر میں نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں تاکہ عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور بلیک میلنگ کا خاتمہ ہو سکے۔
  4. نگران نظام (Regulatory Authority): پراپرٹی ایجنٹوں کی رجسٹریشن اور ان کے کمیشن و معاملات کو یکساں ضوابط کے تحت لانے کے لیے ایک نگران ادارہ يا کمیٹی تشکیل دی جائے۔

ایڈیٹوریل تجزیہ: پشاور کو ایک متوازن انسانی اور معاشی پالیسی کی ضرورت ہے

پشاور کی صورت حال محض ایک مقامی پراپرٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سماجی اور معاشی بحران ہے جو مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو شہر میں کچی آبادیوں کے قیام، جرم کے رجحانات اور اجتماعی معاشی بدحالی میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

عوامی حقوق کا تحفظ اور آزاد مارکیٹ کے اصولوں میں توازن قائم کرنا ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری سطح پر ‘رینٹ کنٹرول ایکٹ’ کی مؤثر بالادستی اور مقامی سطح پر شفافیت قائم کر کے ہی پشاور کے شہریوں کو اس معاشی عذاب سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025