Preloader
Scotland sees 'poorest' Pisa results

اہم نکات:

  • اسکاٹ لینڈ کی ایجوکیشن سیکرٹری نے اسکولوں کے نصاب میں تاریخ کی سب سے بڑی اصلاحات کا نگران بننے کا اعلان کر دیا۔
  • بین الاقوامی تعلیمی سروے پیزا (PISA) کے حالیہ نتائج میں اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے طلباء انگلینڈ سے پیچھے رہ گئے۔
  • بنیادی مہارتوں یعنی پڑھنے (Reading) اور ریاضی (Maths) میں طلباء کی کارکردگی میں نمایاں یا معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
  • تعلیمی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اصلاحات کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات اور اساتذہ کی تربیت پر زور دیا جا رہا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے تعلیمی شعبے میں ایک بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایجوکیشن سیکرٹری نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے نصاب تعلیم میں تاریخ کی سب سے بڑی اور وسیع پیمانے پر کی جانے والی اصلاحات کی خود نگرانی کریں گی۔ یہ اہم فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسکولوں کی سطح پر سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار نے بنیادی مضامین، بالخصوص خواندگی (پڑھنے کی صلاحیت) اور ریاضی میں طلباء کی معیارِ تعلیم میں کمی کی نشاندہی کی ہے۔

تعلیمی ماہرین اور حکومتی عہدیداروں کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد اسکاٹ لینڈ کے روایتی تعلیمی معیار کو بحال کرنا اور طلباء کو عالمی سطح پر درپیش جدید چیلنجز کے مقابلے کے لیے تیار کرنا ہے۔ ایجوکیشن سیکرٹری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ تعلیمی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔

پیزا (PISA) کی بین الاقوامی رپورٹ اور اسکاٹ لینڈ کی کارکردگی

اسکاٹ لینڈ کے تعلیمی نظام کے گرد اٹھنے والے سوالات کی بنیادی وجہ “پروگرام فار انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ اسیسمنٹ” (PISA) کی جائزہ رپورٹ ہے۔ پیزا ہر چند سال بعد دنیا بھر کے ممالک میں 15 سال کی عمر کے طلباء کی پڑھنے کی صلاحیت، ریاضی اور سائنس کی بنیاد پر جانچ کرتا ہے۔

حالیہ پیزا نتائج کے اہم اشاریے درج ذیل ہیں:

  • انگلینڈ کے مقابلے میں پیچھے رہ جانا: بین الاقوامی ٹیسٹوں میں اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے طلباء کی کارکردگی خواندگی، ریاضی اور سائنس کے شعبوں میں انگلینڈ کے طلباء کے مقابلے میں کم تر رہی۔
  • پڑھنے کی صلاحیت میں کمی: پڑھنے اور سمجھنے کی بنیادی مہارت میں ماضی کے مقابلے میں معمولی تنزلی دیکھی گئی، جو ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
  • ریاضی اور سائنس کے نتائج: ریاضی اور سائنس کے ٹیسٹوں میں بھی اسکاٹ لینڈ کے نتائج مثبت پیش رفت دکھانے کے بجائے تنزلی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد اسکاٹ لینڈ کے سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کو نصاب کی مکمل اور فوری overhaul (تبدیلی) کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔

مجوزہ تعلیمی اصلاحات کا دائرہ کار اور اہم نکات

ایجوکیشن سیکرٹری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آنے والی اصلاحات محض سطحی یا معمولی نوعیت کی نہیں ہوں گی بلکہ یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اصلاحاتی طریقہ کار ہوگا۔ اگرچہ ان اصلاحات کی مکمل تفصیلا ت مرحلہ وار سامنے لائی جائیں گی، تاہم حکومتی ذرائع اور تعلیمی ماہرین کے مطابق اصلاحات کے بنیادی محور درج ذیل ہوں گے:

  • نصاب کی جدید سازی: موجودہ نصاب (Curriculum for Excellence) پر کئی سالوں سے تنقید کی جا رہی تھی کہ اس میں عملی مہارتوں کے مقابلے میں تصوراتی چیزوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ نئی اصلاحات کے تحت خواندگی اور ریاضی کی بنیادی صلاحیتوں کو دوبارہ نصاب کا مرکزی نقطہ بنایا جائے گا۔
  • تدریسی نظام کا جائزہ: اصلاحات کے دوران محض کتابوں پر توجہ نہیں دی جائے گی بلکہ کلاس رومز میں اساتذہ کے پڑھانے کے طریقوں اور اندازِ تدریس کو بہتر بنانے پر کام ہوگا۔
  • بچوں کی جانچ کا نیا طریقہ کار: اسکولوں میں بچوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے زیادہ شفاف اور منظم ٹیسٹنگ کا نظام قائم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی بچے کی تعلیمی کمزوری کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
  • اساتذہ کی تربیت: اساتذہ کو جدید تعلیمی طریقوں سے روشناس کرانے کے لیے خصوصی ورکشاپس اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔

اسکاٹ لینڈ کے تعلیمی نظام کا پس منظر اور تناظر

تاریخی طور پر اسکاٹ لینڈ کا تعلیمی نظام پوری دنیا میں ایک مثال سمجھا جاتا تھا اور اسے برطانیہ کے دیگر تمام حصوں پر فوقیت حاصل تھی۔ تاہم، پچھلی دو دہائیوں کے دوران نصاب میں کی جانے والی بعض تجرباتی تبدیلیوں کے باعث تعلیمی معیارات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ “کریکلم فار ایکسیلنس” (Curriculum for Excellence) کو جب متعارف کرایا گیا تھا تو اس کا مقصد بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرنا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نظام کے نتیجے میں بچوں کی بنیادی ریاضی اور پڑھنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ حالیہ سالوں میں کووڈ-19 کی وبا، اسکولوں کی بندش اور بعد ازاں تعلیمی عدم مساوات نے بھی نتائج پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

سیاسی اور عوامی ردِعمل

حکومت کے اس اعلان پر اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ اور سیاسی حلقوں میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے جہاں تعلیمی معیار میں کمی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہاں اصلاحات کے اس اعلان کا محتاط خیرمقدم بھی کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ:

  1. صرف اعلانات کافی نہیں: اصلاحات محض کاغذات اور بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ انہیں کلاس رومز میں عملی طور پر نافذ ہونا چاہیے۔
  2. اساتذہ کی کمی کا مسئلہ: تعلیمی معیار کی تنزلی کی ایک بڑی وجہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور ان پر کام کا زیادہ بوجھ ہے۔ جب تک اساتذہ کی بنیادی ضروریات اور مسائل حل نہیں ہوتے، نصاب کی تبدیلی زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکتی۔
  3. وسائل کی فراہمی: اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے اور جدید وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تمام طبقات کے بچوں کو برابر کے مواقع مل سکیں۔

دوسری جانب اساتذہ کی یونینوں کا کہنا ہے کہ وہ نصاب میں کسی بھی مثبت تبدیلی میں حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی بھی نئی پالیسی کو جلدی میں مسلط کرنے کے بجائے اساتذہ کی آراء کو شامل کرنا ضروری ہوگا۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور توقعات

ایجوکیشن سیکرٹری کی جانب سے خود اس عمل کی نگرانی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اگلے چند مہینوں میں ایجوکیشن اتھارٹیز، اساتذہ، اور بین الاقوامی تعلیمی ماہرین پر مشتمل مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو اصلاحات کا ڈھانچہ تیار کریں گی۔

اسکاٹ لینڈ کی تعلیمی تاریخ کے اس اہم موڑ پر، حکومت کا ہدف یہ ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں نہ صرف پیزا (PISA) کے ٹیسٹوں میں ملک کا درجہ بہتر کیا جائے، بلکہ ہر بچے کو ایسی معیاری تعلیم دی جائے جو اسے ایک روشن مستقبل کی ضمانت دے سکے۔ یہ اصلاحات کتنی کامیاب ہوتی ہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کتنی تیزی اور شفافیت کے ساتھ ان پر عمل درآمد کرتی ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025