Preloader
IHC questions legal authority of FIA to offload passengers

اہم نکات (خلاصہ)

  • عدالت کا بنیادی سوال: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے مسافروں کو پروازوں سے اتارنے (اف لوڈ کرنے) کے قانونی اختیار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
  • خود ساختہ ایس او پیز پر برہمی: عدالتِ عالیہ نے ایف آئی اے کی جانب سے اپنے تیار کردہ ضوابط اور خود ساختہ ایس او پیز (SOPs) کا سہارا لے کر شہریوں کو بیرونِ ملک سفر سے روکنے کے عمل پر شدید ناپسندیدگی اور برہمی کا اظہار کیا۔
  • بنیادی حقوق کی پامالی: عدالت نے اپنے آبزرویشنز میں واضح کیا کہ قانون کی بالادستی اور آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کو محض ادارہ جاتی ہدایات کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
  • حکم نامہ اور آئندہ اثرات: اس اہم عدالتی پیشرفت کے بعد ایف آئی اے کے امیگریشن قوانین، ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) اور پاسپورٹ سے متعلق فیصلوں میں شفافیت اور آئینی حدود کی پاسداری پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اسلام آباد (خاص رپورٹ) — اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ہوائی اڈوں پر امیگریشن کے دوران مسافروں کو بیرونِ ملک جانے والی پروازوں سے اتارنے (آف لوڈ کرنے) کے طریقہ کار پر سخت تشویش اور شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے واضح الفاظ میں ایف آئی اے کے اس عمل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ محض خود ساختہ ایس او پیز (Standard Operating Procedures) کی بنیاد پر شہریوں کے آزادانہ نقل و حرکت کے آئینی حق کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر کے ہوائی اڈوں بالخصوص اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے آئے روز شہریوں، صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور کاروباری شخصیات کو بغیر کسی ٹھوس عدالتی حکم کے بیرونِ ملک جانے سے روکنے کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔

کیس کا پس منظر: ایگزٹ کنٹرول لسٹ اور خود ساختہ قوانین کا تنازع

پاکستان کی آئینی اور قانونی تاریخ میں شہریوں کی بیرونِ ملک آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون موجود ہے، جسے ‘ایگزٹ فرام پاکستان (کنٹرول) آرڈیننس 1981ء’ کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ سنگین مقدمات یا قومی سلامتی سے جڑے معاملات میں ملوث افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالے۔

تاہم، حالیہ چند برسوں کے دوران ایف آئی اے امیگریشن نے ای سی ایل کے علاوہ متعدد اندرونی لسٹیں اور واچ لسٹس تشکیل دیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. سٹاپ لسٹ (Stop List) / پروویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ (PNIL): جو ہنگامی بنیادوں پر یا بلا عدالتی کارروائی کے تیار کی جاتی رہی ہے۔
  2. بلیک لسٹ (Blacklist): پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ اور ایف آئی اے کی جانب سے مختلف الزامات کے تحت مرتب کردہ فہرست۔
  3. ادارہ جاتی ایس او پیز: ایف آئی اے کی اندرونی ہدایات جن کی بنیاد پر افسران موقع پر ہی مسافروں کو روکنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان ماضی میں بھی کئی بار یہ قرار دے چکی ہیں کہ شہریوں کی آزادی اور سفر کے بنیادی حقوق کو قانون کے دائرہ کار سے باہر جا کر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ کیس اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں عدالت نے ایف آئی اے کے خود ساختہ دائرہ اختیار کی آئینی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

عدالتی کارروائی اور فاضل عدالت کا موقف

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران، فاضل جج نے ایف آئی اے کے نمائندوں اور وکیل سے پوچھا کہ کس قانون یا آئینی دفعہ کے تحت ایجنسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانونی ویزا، پاسپورٹ اور ٹکٹ رکھنے والے مسافر کو محض اندرونی ایس او پیز کا حوالہ دے کر ہوائی جہاز سے نیچے اتار دے۔

عدالت نے اپنے زبانی ملاحظات میں درج ذیل اہم نکات کو اجاگر کیا:

  • آئین کا آرٹیکل 15: آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 15 ہر شہری کو ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت اور بیرونِ ملک جانے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے، جسے صرف اور صرف قانون کے مطابق ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔
  • ایس او پیز بمقابلہ قانون: ایجنسی کا کوئی بھی اندرونی نوٹیفکیشن یا ایس او پی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون یا پارلیمانی ایکٹ سے فوقیت نہیں رکھ سکتا۔
  • شفافیت کا فقدان: مسافروں کو این او سی (NOC) نہ ہونے یا اندرونی الرٹ کا بہانا بنا کر فلائٹ سے روک دیا جاتا ہے اور انہیں تحریری طور پر روکنے کی وجوہات بھی فراہم نہیں کی جاتیں، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرے اور واضح کرے کہ آیا ایجنسی کے پاس ایسا کوئی قانونی فریم ورک ہے جو اسے پارلیمنٹ یا عدالتی حکم کے بغیر مسافروں کو روکنے کی اجازت دیتا ہو۔

مسافروں کو درپیش مسائل اور مالی و ذہنی مشکلات

ایف آئی اے کے اس غیر یقینی اور خود ساختہ طریقہ کار کی وجہ سے بیرونِ ملک سفر کرنے والے عام شہریوں اور سمندر پار پاکستانیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اعداد و شمار اور متاثرین کے تجربات کی روشنی میں درج ذیل اہم اثرات سامنے آتے ہیں:

  • مالی نقصان: ٹکٹس کی منسوخی، نو ریفنڈ ایبل پالیسی اور این او سی کے مراحل کے باعث مسافروں کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
  • تعلیمی و کاروباری نقصان: غیر ملکی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلبہ اور بیرونِ ملک معاہدوں کے لیے جانے والے کاروباری افراد کی پروازیں چھوٹ جانے سے ان کے کیریئر اور کاروبار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
  • روزگار کے مواقع کا ضیاع: خلیجی ممالک اور دیگر خطوں میں نوکریوں کے لیے جانے والے محنت کش جب بروقت پہنچ نہیں پاتے تو ان کے ویزے اور ملازمت کے معاہدے منسوخ کر دیے جاتے ہیں۔

عام طور پر امیگریشن کاؤنٹر پر اخلاقی اور قانونی جواز فراہم کیے بغیر “سسٹم میں نام ہے” یا “انکوائری درکار ہے” جیسے ابہم پیدا کرنے والے جملے بول کر شہریوں کو روانگی سے روک دیا جاتا ہے۔

عدالتی فیصلہ کاری اور اس کے متوقع اثرات

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات اور شدید برہمی کے دور رس نتائج مرتب ہونے کی توقع ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کے فیصلے یا ممکنہ ہدایات کے بعد درج ذیل تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں:

  1. غیر قانونی واچ لسٹس کا خاتمہ: ایف آئی اے کی اندرونی لسٹوں (PNIL وغیرہ) کا قانونی جائزہ لیا جائے گا اور ممکنہ طور پر ان لسٹوں کا استعمال محدود یا مکمل طور پر ختم کرنا پڑے گا۔
  2. تحریری وجوہات کی فراہمی: ایف آئی اے کو یہ پابند بنایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی مسافر کو روکا جائے تو اسے فوری طور پر تحریری آرڈر اور وجوہات فراہم کی جائیں تاکہ وہ قانون کے مطابق عدالت سے رجوع کر سکے۔
  3. وفاقی وزارتِ داخلہ کی جوابدہی: وزارتِ داخلہ اور پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈائریکٹوریٹ کو اپنے تمام طریقہ کار کو یکساں، شفاف اور آئین کے مطابق بنانا ہوگا۔

نتیجہ اور آئندہ کا لائسنس

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایف آئی اے کی خود ساختہ پالیسیوں پر اٹھائے گئے سوالات آئین کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ یہ کارروائی اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ چاہے وہ کتنا ہی بااختیار کیوں نہ ہو، آئین اور ملک کے بنیادی قوانین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔

عدالتِ عالیہ کے اس سخت موقف سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایئرپورٹس پر امیگریشن کے عمل میں شفافیت آئے گی اور بغیر کسی قانونی جواز کے شہریوں کو ہراساں کرنے اور پروازوں سے آف لوڈ کرنے کے سلسلے کا سدِ باب ممکن ہو سکے گا۔ case کی مزید سماعت اور ایف آئی اے کے تفصیلی جواب کے بعد اس معاملے پر حتمی قانونی راستہ متعین ہوگا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔