اہم نکات: پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) اور سری لنکن پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 21 ملین ڈالر مالیت کی 463 کلوگرام کرسٹل میتھ (آئس) برآمد کر لی۔ یہ بین الاقوامی آپریشن افغانستان سے منسلک منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف 30 اگست کو سرانجام دیا گیا، جس کے دوران پاکستانی شہریوں سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی پورٹ پر اے این ایف کے پورٹ کنٹرول یونٹ نے 14 سے 29 اگست کے درمیان کولمبو جانے والے مشکوک کنٹینرز کی نشاندہی کر کے آپریشن کا آغاز کیا۔ امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ کارروائی ٹرانس نیشنل کرائم نیٹ ورکس کے خاتمے اور سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے سہ فریقی تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔ اسلام آباد: منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) نے امریکی اور سری لنکن حکام کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اور کامیاب آپریشن انجام دیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں افغانستان سے جڑے منشیات کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کو ناکام بناتے ہوئے 463 کلوگرام اعلیٰ کوالٹی کرسٹل میتھامفیٹامائن (کرسٹل میتھ/آئس) برآمد کی گئی ہے، جس کی عالمی منڈی میں تخمینہ شدہ مالیت تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ (21 ملین) امریکی ڈالر ہے۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق یہ کارروائی 30 اگست کو کی گئی، جس کے دوران پاکستانی شہریوں سمیت متعدد اہم ملزمان کو گرفتار کر کے عالمی اسمگلنگ گرینڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا۔ آپریشن کا پس منظر اور انٹیلی جنس کی بر وقت کارروائی اس بین الاقوامی آپریشن کی بنیاد اگست کے درمیانی ایام میں اس وقت پڑی جب پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کے پورٹ کنٹرول یونٹ نے کراچی کی بندرگاہ پر چند مشکوک کنٹینرز کی نشاندہی کی۔ یہ تجارتی کنٹینرز 14 اگست سے 29 اگست کے درمیان کراچی پورٹ سے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے لیے روانہ کیے جانے تھے۔ اے این ایف کے ماہرین نے تکنیکی جانچ پڑتال اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شک ظاہر کیا کہ ان کنٹینرز میں چھپائی گئی منشیات کی اصل اصل (Origin) افغانستان سے ہے، جسے براستہ پاکستان سمندری راستوں کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچایا جا رہا تھا۔ خفیہ معلومات کی تصدیق ہوتے ہی اے این ایف نے فوری طور پر اسلام آباد میں قائم امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کے دفتر سے رابطہ کیا، جس کے بعد انٹیلی جنس کی تبادلے اور تینوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی رابطہ کاری کا ایک متحرک نظام قائم کیا گیا۔ سہ فریقی تعاون اور بین الاقوامی آپریشن کی تفصیلات امریکی سفارت خانے کے مطابق، اس سرحد پار آپریشن کی کامیابی میں تینوں ممالک کے سیکیورٹی اور لا انفورسمنٹ اداروں کا مشترکہ کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا: پاکستان (ANF): ابتدائی انٹیلی جنس کی فراہمی، کراچی پورٹ پر کنٹینرز کی نشاندہی اور مقامی کارروائی کی قیادت۔ امریکہ (DEA): اسلام آباد اور نئی دہلی میں قائم ڈی ای اے دفاتر کے ذریعے بین الاقوامی رابطہ کاری اور فنی معاونت۔ سری لنکا (Police Narcotics Bureau): سری لنکن پولیس کے نارکوٹکس بیورو کی جانب سے کولمبو کی حد میں ہدف شدہ چھاپے اور وصول کنندگان کی گرفتاری۔ اطلاعات کی فوری اور درست فراہمی کے باعث سیکیورٹی اداروں نے اسمگلنگ کے اس پورے سلسلے (Supply Chain) کو ایک ساتھ نشانہ بنایا، جس سے نہ صرف منشیات کی بھاری مقدار قبضے میں لی گئی بلکہ اس کارروائی سے منسلک نیٹ ورک کے کلیدی کارندے بھی قانون کی گرفت میں آ گئے۔ +-----------------------------------------------------------------------------------+ | مشترکہ آپریشن کے اہم اعداد و شمار | +-----------------------------------------------------------------------------------+ | 1. برآمد شدہ منشیات: | | 463 کلوگرام کرسٹل میتھامفیٹامائن (آئس) | | | | 2. تخمینہ شدہ عالمی مالیت: | | 21 ملین (2 کروڑ 10 لاکھ) امریکی ڈالر | | | | 3. ملوث خطہ و روٹ: | | افغانستان (اصل نقطہ) -> پاکستان (کراچی پورٹ) -> سری لنکا (کولمبو) | | | | 4. بنیادی شراکت دار ادارے: | | ANF (پاکستان)، DEA (امریکہ)، اور پولیس نارکوٹکس بیورو (سری لنکا) | +-----------------------------------------------------------------------------------+ خطے میں منشیات کے رجحانات اور تزویراتی چیلنجز جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کا خطہ طویل عرصے سے منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے بنیادی راستوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ روایتی طور پر اس خطے سے افیون اور ہیروئن کی اسمگلنگ کے خطرات درپیش رہتے تھے، تاہم حالیہ کچھ سالوں میں کیمیائی اور مصنوعی منشیات بالخصوص کرسٹل میتھ (آئس) کی پیداوار اور اسمگلنگ میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی انتظامی اور معاشی صورتحال کے باعث وہاں قائم غیر قانونی لیبارٹریز میں تیار کی جانے والی میتھامفیٹامائن کا رخ اب سمندری راستوں کے ذریعے خلیجی ممالک، جنوبی ایشیا اور سرحد پار دیگر بین الاقوامی منڈیوں کی طرف کیا جا رہا ہے۔ کراچی اور گوادر جیسی ساحلی بندرگاہیں اپنی تجارتی وسعت کے باعث اسمگلروں کے نشانہ پر رہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پورٹ سیکیورٹی اور کنٹینرز کی مانیٹرنگ کو جدید تر بنانا خطے کے لیے اہم ضرورت بن چکا ہے۔ پاک امریکہ سیکیورٹی تعاون اور امریکی موقف امریکی سفارت خانے کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ واشنگٹن حکومت پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے غیر ملکی مالی و فنی امداد اور مسلسل تربیت کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اے این ایف منشیات کی روک تھام کے لیے امریکی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں ایک “بنیادی اور اہم ترین شراکت دار” کے طور پر کام کر رہی ہے۔ امریکہ نے اعادہ کیا کہ وہ ٹرانس نیشنل کرائمز (حدود پار منظم جرائم) میں ملوث تنظیموں کے خاتمے اور غیر قانونی منشیات کی تجارت کو روکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ سفارت خانے نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ غیر قانونی منشیات کے عالمی بہاؤ کو روکنا امریکی عوام اور بین الاقوامی برادری کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی نقطہٴ نظر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مستقبل کا منظرنامہ اور اثرات اس کامیاب مشترکہ آپریشن کو عالمی سطح پر لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کے مابین بہترین رابطہ کاری کی ایک مثالی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی کارروائیوں سے نہ صرف بین الاقوامی اسمگلروں کے مالیاتی فنڈنگ کے ذرائع کو بڑا دھچکا پہنچتا ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی واضح پیغام ہے کہ سرحدی حدود سے بالاتر ہو کر منظم جرائم کے خلاف کارروائیاں اب زیادہ موثر ہو چکی ہیں۔ پاکستان، امریکہ اور سری لنکا کے سیکیورٹی اداروں کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بحرِ ہند اور جنوبی ایشیائی خطے میں سمندری راستوں کی نگرانی کو مزید سخت بنایا جائے گا تاکہ مصنوعی منشیات کی عالمی پھیلاؤ کی کوششوں کو ابتدائی سطح پر ہی ناکام بنایا جا سکے۔ Post navigation پنجاب کے چار اضلاع میں امن و امان کی بحالی: صوبائی حکومت کی پاکستان رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاق کو باضابطہ درخواست