Preloader
Governor Kundi visit LRH

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • گورنر کا دورہ: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) پشاور کا دورہ کیا اور کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے زخمیوں کی عیادت کی۔
  • طبی سہولیات کی جائزہ رپورٹ: ہسپتال انتظامیہ نے گورنر کو زخمی اہلکاروں کی صحت اور جاری علاج سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔
  • سیکیورٹی فورسز کا اعتراف: گورنر نے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے بروقت و مثالی ردِعمل کی تعریف کی۔
  • حکومتی عزم: صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس نے زخمیوں کو بہترین سہولیات اور خطے میں امن و امان کی بحالی کا عزم دہرایا۔

پشاور (انورزیب خان) خیبرپختونخوا میں بدامنی کی حالیہ لہر اور سیکورٹی فورسز پر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے سب سے بڑے طبی مرکز لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) پشاور کا دورہ کیا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

گورنر کے دورے کے موقع پر ہسپتال میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ ایل آر ایچ کے ڈائریکٹر، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور سینئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے گورنر کو زخمیوں کی موجودہ حالت اور انہیں دی جانے والی طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

ایل آر ایچ انتظامیہ کی بریفنگ اور زخمیوں کی عیادت

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہسپتال کے ایمرجنسی اور سرجیکل وارڈز کا دورہ کیا جہاں کوہاٹ حملے کے زخمی زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے بستر پر موجود ہر زخمی کے پاس جا کر ان کا حال احوال دریافت کیا اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔

ہسپتال انتظامیہ نے گورنر کو بتایا کہ:

  • فوری طبی امداد: کوہاٹ سے شفٹ کیے گئے تمام زخمیوں کو لاتے ہی ایمرجنسی پروٹوکول کے تحت ٹریٹمنٹ دی گئی۔
  • سنگین کیسز: چند زخمیوں کی حالت تشویشناک تھی جن کے ہنگامی آپریشنز مکمل کر لیے گئے ہیں اور انہیں آئی سی یو (ICU) میں رکھا گیا ہے۔
  • ادویات کی فراہمی: ہسپتال کے پاس تمام ضروری ادویات، سرجیکل سامان اور بلڈ بینک میں خون کا وافر ذخیرہ موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی زخمی کو باہر سے دوا لانے کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے ہسپتال کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی بروقت کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زخمیوں کی دیکھ بھال میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے اور تمام تر وسائل بلا معاوضہ فراہم کیے جائیں۔

سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور مثالی کردار

زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کوہاٹ پولیس لائنز پر حملہ دشمن کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ تاہم ہمارے جری جوانوں اور پولیس فورس نے جس پامردی اور شجاعت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔

انہوں نے کہا:

“کوہاٹ پولیس لائنز کے موقع پر ہماری سیکیورٹی فورسز اور بالخصوص خیبرپختونخوا پولیس نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اگر ہمارے جوان بروقت ردِعمل نہ دیتے تو جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور زخمیوں کو یقین دلایا کہ ریاست اور حکومت ان کی اور ان کے خاندانوں کی سرپرستی جاری رکھے گی۔

خبر کا پس منظر: کوہاٹ پولیس لائنز واقعہ

کوہاٹ پولیس لائنز کا واقعہ خطے میں سیکورٹی کے سنگین حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس لائنز کی حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنایا اور دہشت گردوں کو پیش قدمی سے روکا۔

تبادلہ خیال اور دھماکوں کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے شدید زخمیوں کو فوری طور پر کوہاٹ کے مقامی ہسپتالوں میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایل آر ایچ پشاور صوبے کا واحد ایسا ہسپتال ہے جہاں ٹروما سینٹر اور پیچیدہ سرجریز کی جدید سہولیات میسر ہیں۔

خیبرپختونخوا میں سیکورٹی کی صورتحال اور درپیش چیلنجز

گزشتہ کچھ عرصے سے خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا)، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ کے علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور پولیس لائنز پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر ایک نظر:

  • پولیس ہدف پر: دہشت گرد گروہ اپنے ناپاک مقاصد کے لیے پولیس کو آسان ہدف سمجھتے ہیں کیونکہ پولیس براہِ راست عوام کے ساتھ رابطے میں ہوتی ہے۔
  • سررحدی چیلنجز: پاک افغان سرحدی علاقوں کی قربت کے باعث شرپسند عناصر کارروائیوں کے بعد نقل و حرکت میں سہولت تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • عوامی خدشات: بار بار ہونے والے حملوں کی وجہ سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز کے مسلسل کلیئرنس آپریشنز سے عوام میں اعتماد کی بحالی ممکن ہو رہی ہے۔

حکومتی اقدامات، مستقبل کی حکمتِ عملی اور اثرات

گورنر خیبرپختونخوا کے اس دورے کے نہ صرف سیاسی و سماجی اثرات ہیں بلکہ اس سے سیکیورٹی فورسز کے مورال پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ حکومتی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے:

  1. پولیس کی جدید کاری: کے پی پولیس کو جدید ترین ہتھیار، تھرمل نائٹ ویژن ڈیوائسز اور بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔
  2. انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs): صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے بچے کھچے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر روزانہ کی بنیاد پر آپریشنز جاری ہیں۔
  3. ہسپتالوں کی ایمرجنسی تیاری: ایل آر ایچ اور دیگر اہم ہسپتالوں میں ٹروما سینٹرز کی بہتری تاکہ ہر قسم کی ایمرجنسی صورتحال سے فوری اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے دورے کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں پائیدار امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے ارد گرد کی صورتحال پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر سیکورٹی اداروں کو دیں۔