Preloader
Drivers protest for corruption on check posts

اہم نکات (خلاصہ)

  • مبینہ بدعنوانی کا انکشاف: جیکب آباد میں کسٹم چیک پوسٹ پر گاڑیوں کے ڈرائیورز سے مبینہ طور پر غیر قانونی بھتہ اور رشوت وصول کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
  • فی گاڑی نقد رقم کا مطالبہ: متاثرہ مزدا ڈرائیور کے مطابق کسٹم چیک پوسٹ پر فی مزدا گاڑی مبینہ طور پر دو ہزار روپے رشوت وصول کی جا رہی ہے، اور رقم نہ دینے والوں کو بلاوجہ روک کر ہراساں کیا جاتا ہے۔
  • چیک پوسٹ انچارج پر براہِ راست الزام: گاڑی مالکان اور ڈرائیورز کا دعویٰ ہے کہ چیک پوسٹ کے انچارج مبینہ طور پر خود یہ رقم وصول کر رہے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ انڈسٹری شدید متاثر ہو رہی ہے۔
  • ٹرانسپورٹرز کا تحفظات اور مطالبات: تجارتی شاہراہوں پر بلاجواز تاخیر کے باعث خوراک اور مال برداری کا نظام متاثر ہو رہا ہے؛ ڈرائیور برادری نے چیئرمین ایف بی آر اور کسٹم کلیکٹر سے فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ)

سندھ اور بلوچستان کو ملانے والے اہم تجارتی و مواصلاتی روٹ پر واقع ضلع جیکب آباد کی کسٹم چیک پوسٹ ایک بار پھر مبینہ کرپشن اور بدعنوانی کے تنازع کی زیپِ زن بن گئی ہے۔ مختلف شاہراہوں سے گزرنے والے مال بردار ڈرائیورز نے کسٹم عملے اور بالخصوص چیک پوسٹ انتظامیہ پر مبینہ طور پر رشوت ستانی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

متاثرہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ کسٹم چیک پوسٹ پر جائز کاغذات اور مکمل دستاویزات ہونے کے باوجود ڈرائیورز سے نقد رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اور جو ڈرائیورز مبینہ طور پر یہ غیر قانونی رقم ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں، ان کی گاڑیوں کو گھنٹوں بلاجواز روکے رکھا جاتا ہے جس سے مال برداری اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

ڈرائیور کا سنسنی خیز بیان اور بھتہ خوری کے الزامات

جیکب آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک متاثرہ مزدا گاڑی کے ڈرائیور نے کسٹم چیک پوسٹ پر جاری مبینہ بے قاعدگیوں کا پردہ چاک کیا۔ ڈرائیور نے الزام عائد کیا کہ چیک پوسٹ سے گزرنے والی ہر مزدا گاڑی کے ڈرائیور سے مبینہ طور پر 2 ہزار روپے فی گاڑی نقد وصول کیے جا رہے ہیں۔

ڈرائیور کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کے پاس تمام قانونی کاغذات، روٹ پرمٹ اور بلز موجود ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کسٹم عملہ رقم کے لیے مختلف بہانے بناتا ہے۔

“اگر کوئی ڈرائیور مبینہ طور پر مانگے گئے 2 ہزار روپے دینے سے انکار کر دے یا بحث کرے، تو اس کی گاڑی کو سائیڈ پر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ شدید گرمی اور نامساعد حالات میں ڈرائیوروں کو گھنٹوں ذلیل و خوار کیا جاتا ہے تاکہ وہ مجبور ہو کر رقم ادا کریں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ چیک پوسٹ کا انچارج مبینہ طور پر خود یہ رقم وصول کر رہا ہے۔” — متاثرہ ڈرائیور کا بیان

مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق اہم حقائق اور ڈیٹا

جیکب آباد اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر کسٹم چیک پوسٹ سے جڑے مسائل کو درج ذیل اہم نکات اور اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے:

  • مبینہ رشوت کا ریٹ: مبینہ طور پر فی مزدا گاڑی 2,000 روپے نقد طلب کیے جانے کا الزام۔
  • متاثرہ ٹرانسپورٹ: روزانہ کی بنیاد پر سندھ اور بلوچستان کے درمیان سفر کرنے والی درجنوں مزدا اور چھوٹی مال بردار گاڑیاں۔
  • تجارتی تاخیر: غیر قانونی ٹول یا بھتہ نہ دینے کی صورت میں گاڑیوں کو 3 سے 6 گھنٹے تک بلاجواز روکنے کے دعوے۔
  • تجارتی اہمیت: جیکب آباد شاہراہ سی پیک اور بین الصوبائی تجارت کا اہم مرکز ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں روپے کا سامان منتقل ہوتا ہے۔

بین الصوبائی تجارت اور سپلائی چین پر منفی اثرات

جیکب آباد کی جغرافیائی اہمیت انتہائی کلیدی ہے۔ یہ شہر پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ کوئٹہ، گوادر اور دیگر بالائی علاقوں سے آنے اور جانے والی مال بردار گاڑیاں اسی روٹ کا استعمال کرتی ہیں۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسٹم چیک پوسٹوں پر اس قسم کے مبینہ ہراساں کیے جانے کے واقعات سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز کا معاشی استحصال ہوتا ہے بلکہ ملک کی داخلی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ سبزیوں، پھلوں اور دیگر خراب ہونے والی اشیاء (Perishable Goods) سے بھری گاڑیاں جب گھنٹوں کسٹم چیک پوسٹوں پر رکی رہتی ہیں تو تاجروں کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جس کا حتمی بوجھ مہنگائی کی صورت میں عام صارف پر پڑتا ہے۔

کسٹم چیک پوسٹوں کا پس منظر اور شفافیت کا چیلنج

ملک میں اسمگلنگ کی روکتھام اور غیر قانونی سامان کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بین الصوبائی سرحدوں اور اہم شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کی جاتی ہیں۔ ان پوسٹوں کا بنیادی مقصد غیر قانونی سامان کو ضبط کرنا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچنے سے بچانا ہوتا ہے۔

تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں قائم متعدد کسٹم اور پولس چیک پوسٹوں پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ یونینز متعدد بار یہ موقف اختیار کر چکی ہیں کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے نام پر عام ڈرائیوروں اور قانونی تجارتی سامان منتقل کرنے والوں کو تنگ کیا جاتا ہے، جبکہ بااثر اسمگلرز مبینہ طور پر ساز باز کر کے نکل جاتے ہیں۔

انتظامیہ کا موقف اور صحافتی اصول (معروضیت)

صحافتی اخلاقیات اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات اہم ہے کہ فی الحال یہ تمام الزامات متاثرہ ڈرائیورز اور مقامی ٹرانسپورٹرز کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام یا متعلقہ چیک پوسٹ انچارج کی جانب سے ان الزامات پر ابھی تک کوئی باضابطہ موقف يا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

کسٹم حکام کا ماضی میں یہ موقف رہا ہے کہ چیک پوسٹوں پر صرف ان گاڑیوں کو روکا جاتا ہے جن کے کاغذات نامکمل ہوتے ہیں یا جن پر اسمگل شدہ سامان کا شک ہوتا ہے۔ تاہم، اس مخصوص واقعے اور 2 ہزار روپے فی گاڑی کے مبینہ مطالبے پر کسٹم انتظامیہ کا مؤقف حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کا ردِعمل آتے ہی شائع کیا جائے گا۔

ٹرانسپورٹرز کا اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس اور انکوائری کا مطالبہ

جیکب آباد کے اس واقعے کے بعد مقامی ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیور برادری میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈرائیورز نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، کلیکٹر کسٹم حیدرآباد/سکھر، اور نیب (NAB) کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔

ٹرانسپورٹ نمائندگان نے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں:

  1. شفاف انکوائری: جیکب آباد کسٹم چیک پوسٹ کے انچارج اور عملے کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
  2. سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب: تمام کسٹم چیک پوسٹوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں تاکہ رقم کے لین دین اور گاڑیوں کو روکنے کے عمل کی مرکزی سطح پر نگرانی ہو سکے۔
  3. شکایات کا فوری حل: ڈرائیورز کے لیے ایک ایمرجنسی ہیلپ لائن قائم کی جائے جہاں وہ موقع پر موجود کسٹم عملے کی بدعنوانی کی شکایت فوری طور پر درج کروا سکیں۔

اگر ان مبینہ بدعنوانیوں کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو ٹرانسپورٹرز نے شاہراہوں پر احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے ملک میں مال برداری کا نظام مزید لٹک سکتا ہے۔