اہم نکات (خلاصہ) عظیم الشان پھولوں کا قالین: برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں واقع تاریخی ’بریڈ فورڈ سٹی ہال‘ کے باہر سینٹینری اسکوائر پر 300,000 سے زائد ڈاہلیا (Dahlia) پھولوں کی مدد سے ایک خوبصورت پھولوں کا قالین تیار کیا جا رہا ہے۔ متطوعین کی محنت: تقریباً 40 رضا کار اور مقامی افراد اپنے ہاتھوں سے ان پھولوں کو زمین پر ترتیب دے کر اس شاہکار کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ شاندار ساخت اور رقبہ: یہ عوامی آرٹ ورک 95 فٹ (29 میٹر) پر محیط ایک چھ کونوں والی (Hexagonal) دلکش ساخت پر مشتمل ہے۔ رسمی افتتاح اور عوامی اہمیت: اس منفرد اور قدرتی شاہکار کا باقاعدہ طور پر عنقریب باضابطہ افتتاح کیا جائے گا، جس کا مقصد کمیونٹی کو متحد کرنا اور بریڈ فورڈ کی ثقافتی بیداری کو اجاگر کرنا ہے۔ برطانیہ کا صنعتی اور ثقافتی تاریخ کا حامل شہر بریڈ فورڈ اس وقت ایک منفرد اور دلکش قدرتی خوبصورتی کے سحر میں جکڑا ہوا ہے۔ بریڈ فورڈ کے تاریخی مرکز ’سینٹینری اسکوائر‘ (Centenary Square) میں بریڈ فورڈ سٹی ہال کے عین سامنے ایک ایسا بصری اور فنکارانہ شاہکار تخلیق کیا جا رہا ہے جس نے نہ صرف مقامی باشندوں بلکہ فائن آرٹس اور ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے عالمی ناظرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ 3 لاکھ سے زائد تازہ ڈاہلیا (Dahlia) کے پھولوں کو ہاتھ سے ترتیب دے کر ایک عظیم الشان “پھولوں کا قالین” (Flower Carpet) بنایا جا رہا ہے۔ یہ عام نمائشوں سے ہٹ کر ایک ایسا عوامی فن کا نمونہ ہے جو انسانی محنت، قدرتی رنگوں اور فنکارانہ سوچ کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ قدرتی زیبایی اور فنکارانہ مہارت: قالین کی ساخت اور تیاری اس فن پارے کو بنانے کے لیے منتخب کیے گئے ڈاہلیا کے پھول اپنے گہرے اور متنوع رنگوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ بریڈ فورڈ کے اس قالین کے لیے ان پھولوں کو خاص طور پر جمع کیا گیا ہے تاکہ مختلف رنگوں کا ایک منظم اور توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس پروجیکٹ کے کلیدی اور فنی پہلو درج ذیل ہیں: چھ کونوں والی ساخت (Hexagon Layout): قالین کو ایک مسدس یا چھ کونوں والی (Hexagonal) جیومیٹرک ساخت میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ڈیزائن دور سے دیکھنے میں ایک روایتی مشرق وسطیٰ یا جنوبی ایشیائی قالین کی طرح دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی تمام تر بناوٹ قدرتی پتوں اور پنکھڑیوں سے کی گئی ہے۔ رقبہ اور پھیلاؤ: اس شاہکار کا کل رقبہ 95 فٹ (تقریباً 29 میٹر) پر محیط ہے۔ اتنے وسیع رقبے پر فرش کو ڈھانپنا اور ہر پھول کو اس کی مقررہ جگہ پر رکھنا ایک انتہائی باریک بین اور مشقت طلب کام ہے۔ ہاتھ سے ترتیب دینے کا عمل: کسی بھی مشین کے استعمال کے بغیر، ہر پھول کو انفرادی طور پر زمین پر رکھا جا رہا ہے تاکہ پیٹرن میں کوئی خلا یا خرابی نہ رہے۔ 40 رضاکاروں کی انتھک محنت اور کمیونٹی کا جذبہ کسی بھی بڑے عوامی آرٹ پروجیکٹ کی کامیابی کا انحصار اس کی پشت پر موجود انسانی طاقت پر ہوتا ہے۔ اس پھولوں کے قالین کی تیاری میں تقریباً 40 مقامی رضاکاروں (Volunteers) پر مشتمل ایک ٹیم دن رات مصروفِ عمل ہے۔ ان رضاکاروں میں مقامی فنکار، باغبانی کے شوقین افراد، طلبہ اور سینئر شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ رضاکار نہ صرف پھولوں کو چھانٹنے اور رنگوں کے حساب سے الگ کرنے کا کام کر رہے ہیں بلکہ انہیں ڈیزائن کے خاکے کے مطابق زمین پر نصب کرنے کا حساس کام بھی انجام دے رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور آرٹ آرگنائزرز کے مطابق، اس قسم کے اجتماعات کمیونٹی کے اتحاد کو فروغ دیتے ہیں۔ مختلف پس منظر اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد جب ایک مشترکہ تخلیقی مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، تو اس سے شہر کے سماجی تانے بانے کو مضبوطی ملتی ہے۔ پس منظر: پھولوں کے قالین کی عالمی تاریخ اور بریڈ فورڈ کی اہمیت زمین پر پھولوں کی مدد سے قالین اور نقش و نگار بنانے کا رواج کوئی نیا نہیں ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اس کی ایک شاندار اور طویل تاریخ موجود ہے: یورپی روایات (فلورپٹ / الانپراس): بلجیم کے شہر برسلز کا ’گرینڈ پلیس‘ پھولوں کے قالین (Brussels Flower Carpet) کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے جہاں ہر دو سال بعد لاکھوں بگونیا پھولوں سے قالین بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح اٹلی اور اسپین میں مذہبی اور ثقافتی تہواروں پر سڑکوں کو پھولوں سے سجایا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیائی نمونے (پوکالم): ہندوستان کے علاقے کیرالہ میں ’اونم‘ کے تہوار پر پھولوں کی رنگولی یا ’پوکالم‘ بنانے کی روائت صدیوں پرانی ہے۔ بریڈ فورڈ کی ثقافتی بیداری: بریڈ فورڈ جو کہ برطانیہ کی متنوع اور کثیر الثقافتی آبادی والا شہر ہے، اپنے عوامی مقامات کو فن کے ذریعے زندہ رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ برطانیہ میں سٹی آف کلچر اور دیگر ثقافتی اعزازات کی دوڑ میں بریڈ فورڈ کی اس قسم کی پیشرفت اسے نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو بریڈ فورڈ سٹی ہال کے سامنے یہ کوشش نہ صرف یورپی اور عالمی روایات کی پاسداری کرتی ہے بلکہ مقامی تناظر میں اسے ایک بالکل نیا اور منفرد انداز دیتی ہے۔ اعداد و شمار کی روشنی میں: پروجیکٹ پر ایک نظر اس عوامی آرٹ ورک کی وسعت اور حجم کو سمجھنے کے لیے درج ذیل اعداد و شمار انتہائی اہم ہیں: کل پھولوں کی تعداد: 300,000 سے زائد (تین لاکھ سے زیادہ ڈاہلیا پھول) رضاکاروں کی تعداد: تقریباً 40 افراد قالین کی کل لمبائی/چوڑائی: 95 فٹ (29 میٹر) تصویر کا خاکہ (ڈیزائن): مسدس (Hexagonal – 6 کونوں والی ساخت) مقام: سینٹینری اسکوائر، بالمقابل بریڈ فورڈ سٹی ہال، برطانیہ ماحولیاتی اور معاشی اثرات اس قسم کے عارضی عوامی آرٹ پروجیکٹس کے شہر پر ہمہ جہت اثرات مرتب ہوتے ہیں: سیاحت اور مقامی معیشت کی بحالی اس منفرد نمائش کی خبریں عام ہوتے ہی آس پاس کے شہروں اور علاقوں سے سیاحوں اور عکاسوں (Photographers) کی ایک بڑی تعداد بریڈ فورڈ کا رخ کر رہی ہے۔ اس سے سینٹینری اسکوائر کے اطراف میں واقع مقامی ریسٹورنٹس، کیفے اور دکانوں کے کاروبار پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ قدرتی اور ماحول دوست آرٹ آج کے دور میں جہاں زیادہ تر فن پارے پلاسٹک، دھاتوں یا ڈیجیٹل اسکرینوں کی مدد سے بنائے جاتے ہیں، وہاں 100 فیصد قدرتی اور گل سڑ جانے والے (Biodegradable) مواد سے آرٹ ورک بنانا ماحولیاتی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نمائش ختم ہونے کے بعد ان پھولوں کو کمپوسٹ (نامیاتی کھاد) بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے کوئی کچرا یا ماحولیاتی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ رسمی افتتاح اور عوامی توقعات اس عظیم الشان پھولوں کے قالین کا باقاعدہ اور رسمی افتتاح ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا جائے گا، جس میں مقامی کونسل کے حکام، فنکار، اور عام شہری بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ افتتاح کے بعد یہ نمائش کچھ دنوں کے لیے عام عوام کے لیے کھلی رہے گی تاکہ لوگ اس کے پاس سے گزر سکیں، اس کے دلکش رنگوں سے لطف اندوز ہو سکیں اور اس کی تصاویر بنا سکیں۔ چونکہ یہ قدرتی پھول ہیں، اس لیے ان کی تازگی ایک محدود وقت تک ہی قائم رہ سکتی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں میں اسے جلد از جلد دیکھنے کا اشتیاق اور بھی بڑھ گیا ہے۔ نتیجہ اور حاصلِ کلام بریڈ فورڈ سٹی ہال کے سامنے 3 لاکھ سے زائد ڈاہلیا کے پھولوں سے بچھایا گیا یہ قالین صرف ایک خوبصورت نظارہ نہیں ہے، بلکہ یہ عوامی آرٹ، اجتماعی محنت اور قدرتی حسن کا ایک یادگار سنگِ میل ہے۔ اس پروجیکٹ نے ثابت کیا ہے کہ کس طرح عام اور سادہ چیزوں، جیسے کہ پھول اور رضاکارانہ محنت، کے ذریعے کسی شہر کے مرکزی چوک کو ایک متحرک، زندہ اور خوبصورت آرٹ گیلری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام بریڈ فورڈ کے ثقافتی وقار میں اضافے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لیے بے پناہ مسرت اور فخر کا باعث بن رہا ہے۔ Post navigation عاشق بنایا آپ نے‘ کے 21 سال بعد عمران ہاشمی، ہمیش ریشمیا اور آدتیہ دت کی نئی فلم ’گن ماسٹر G9‘ کے لیے دوبارہ واپسی’