اہم نکات (خبر کا خلاصہ) تقریب کا انعقاد: جیکب آباد کے ‘جمس’ (JIMS) اسپتال میں معذور افراد کو خودمختار بنانے اور ان کی معاونت کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اہم شخصیات کی شرکت: تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) گڑھی خیرو، میر ممتاز حسین جکھرانی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ فلاحی اشتراک: امدادی سامان کی تقسیم ‘سندھ سوسائٹی فار ہیومن ڈویلپمنٹ’ کے تعاون سے ممکن بنائی گئی۔ اہم پیغامات: معذور افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بنانا اور انہیں باعزت مقام دلانا مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے، جس کے لیے فلاحی تنظیموں اور حکومتی اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ جیکب آباد میں معذور افراد کی بحالی کے لیے مثبت قدم جیکب آباد (خصوصی رپورٹ): جیکب آباد میں معذور افراد کی دیکھ بھال، ان کی بحالی اور انہیں معاشرے کا ایک فعال اور خودکفیل رکن بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (جمس) اسپتال میں ایک وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے کے مستحق معذور افراد میں مختلف قسم کا معاون سامان (اسسٹو ڈیوائسز) تقسیم کیا گیا۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد ان افراد کی معذوری کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کو کم کرنا اور انہیں روزمرہ زندگی میں دوسروں پر منحصر ہونے سے بچانا تھا۔ تقریب میں علاقائی شخصیات، طبی ماہرین، سماجی کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ میر ممتاز حسین جکھرانی کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت تقریب کے مہمانِ خصوصی گڑھی خیرو سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) میر ممتاز حسین جکھرانی تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر ممتاز حسین جکھرانی نے اس فلاحی اقدام کو انتہائی سراہا اور کہا کہ معذور افراد کی مدد کرنا صرف ایک اخلاقی یا مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ ہماری ایک بنیادی سماجی اور قانونی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا: “معذور افراد ہمارے معاشرے کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں۔ اگر ہم انہیں مناسب سہولیات، عزت اور معاونت فراہم کریں، تو یہ افراد کسی سے کم نہیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ان کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت بالعموم اور علاقائی نمائندے بالخصوص اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ محروم طبقے تک ان کے حقوق اور امداد بلا تفریق پہنچائی جا سکے، اور ایسے فلاحی پروگراموں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ سندھ سوسائٹی فار ہیومن ڈویلپمنٹ کا تعاون اور خدمات یہ تقریب ‘سندھ سوسائٹی فار ہیومن ڈویلپمنٹ’ کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی، جو عرصے سے سندھ کے مختلف اضلاع میں انسانی حقوق، سماجی بہبود اور معذور افراد کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے۔ تقریب کے دوران تنظیم کے نمائندوں نے معذور افراد میں درج ذیل معاون سامان تقسیم کیا: ویل چیئرز (Wheelchairs): جسمانی معذوری کے شکار افراد کی نقل و حرکت میں آسانی کے لیے۔ بیساکھیاں اور واکنگ فریمز: ان افراد کے لیے جو سہارے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سماعت کے آلات (Hearing Aids): قوتِ سماعت سے محروم افراد کے لیے تاکہ وہ روزمرہ مواصلات میں شامل ہو سکیں۔ دیگر طبی و بحالی کا سامان: ضرورت مند افراد کی انفرادی طبی حالت کے مطابق سامان کی فراہمی۔ تنظیم کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات کا مقصد معذور افراد کے اندر احساسِ کمتری کو ختم کرنا اور انہیں یہ باور کروانا ہے کہ معاشرہ انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ معذور افراد کی بحالی: موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجز پاکستان بالخصوص سندھ کے دیہی اور اندرونی اضلاع جیسے جیکب آباد میں معذور افراد کو متعدد معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، بنیادی صحت کی سہولیات کی کمی، غربت اور آگاہی کی عدم موجودگی کی وجہ سے معذوری کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ معذور افراد کے لیے درپیش اہم مسائل درج ذیل ہیں: +-----------------------------------------------------------------------+ | معذور افراد کو درپیش اہم چیلنجز | +-----------------------------------------------------------------------+ | 1. عمارتوں، راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مناسب رسائی (Access) کا نہ ہونا | | 2. تعلیم اور فنی تربیت (Vocational Training) کی عدم دستیابی | | 3. روزگار کے مواقع کی کمی اور ملازمتی کوٹے پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا | | 4. سماجی رویے اور ان کے خلاف پائے جانے والے منفی تعصبات | +-----------------------------------------------------------------------+ جیکب آباد کے مقامی سماجی حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر سامان کی تقسیم ایک بہترین اقدام ہے، لیکن طویل مدتی حل کے لیے معذور افراد کے لیے خصوصی تعلیمی ادارے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جمس (JIMS) اسپتال کا کردار اور طبی سہولیات جیکب آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (جمس) نے پچھلے چند سالوں میں خطے میں معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نہ صرف جیکب آباد بلکہ بلوچستان سے ملحقہ اضلاع کے مریض بھی علاج معالجے کے لیے جمس کا رخ کرتے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) اور حکومت کے ساتھ مل کر ایسے فلاحی اور بحالی کے پروگرامز کا انعقاد جاری رکھیں گے تاکہ غریب اور معذور مریضوں کو ہسپتال کی حد سے باہر نکل کر بھی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور حکومتی پالیسیوں کی ضرورت اس تقریب کے تناظر میں اگر معذور افراد کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محض امدادی سامان کی تقسیم سے تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ماہرینِ عمرانیات کے مطابق: پالیسی پر عملدرآمد: حکومتِ سندھ کی جانب سے سرکاری و نجی شعبوں میں معذور افراد کے لیے مقررہ کوٹے پر سخت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سہولیات سے آراستہ انفراسٹرکچر: تمام نئی بننے والی سرکاری عارضی و مستقل عمارتوں، اسکولوں، اور ہسپتالوں میں معذور افراد کی آسانی کے لیے ‘ریمپ’ (Ramps) اور خصوصی واش رومز کا ہونا لازمی قرار دیا جائے۔ آگاہی مہمات: دیہی علاقوں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ معذوری سے جڑے سماجی جمود اور ہچکچاہٹ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ مستقبل کے لیے امید کی کرن جیکب آباد میں جمس اسپتال اور سندھ سوسائٹی فار ہیومن ڈویلپمنٹ کی یہ مشترکہ کاوش ان تمام مستحق افراد کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوئی ہے جنہیں اس سامان سے روزمرہ زندگی میں آسانی میسر آئے گی۔ ایم پی اے میر ممتاز حسین جکھرانی نے اپنے اختتامی کلمات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ گڑھی خیرو اور جیکب آباد کے دیگر علاقوں میں معذور افراد اور غریب طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے صوبائی اسمبلی کے ایوان میں بھی آواز اٹھاتے رہیں گے اور علاقائی سطح پر فلاحی اداروں کو ہر ممکن تعاؤن اور سرپرستی فراہم کریں گے۔ یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومت، عوام کے نمائندے اور سول سوسائٹی ایک پیج پر آ کر کام کریں تو سماجی سطح پر مثبت اور پائیدار تبدیلی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ Post navigation ریبیز سے بچاؤ کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک، ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری کا مختلف ڈسپنسریوں کا دورہ اور ویکسین کی دستیابی کا جائزہ