Preloader
LUHMS introduced Paperless examination

اہم نکات (خلاصہ)

  • جدید ٹیکنالوجی کا تبنّی: لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو نے طبی امتحانات کو پیپر لیس اور مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ بنا دیا۔
  • وسیع تر نیٹ ورک: جامشورو کی مرکزی کیمپس کے علاوہ سندھ کے مختلف اضلاع میں قائم تمام امتحانی مراکز کو ایک مرکزی نیٹ ورک سے منسلک کر دیا گیا۔
  • شفافیت اور رفتار: جدید نظام کا بنیادی مقصد میرٹ کی بالادستی، امتحانی مواد کا تحفظ اور نتائج کی تیز ترین و شفاف تیاری کو یقینی بنانا ہے۔
  • عالمی معیار کی تشخیص: او ایس پی ای (OSPE) اور کمپیوٹر بیسڈ اسیسمنٹ کے ذریعے طلبہ کی علمی و عملی صلاحیتوں کو جدید ترین بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق پرکھا جا رہا ہے۔

جامشورو (خاص رپورٹ: محمد نصیر ساگر)

طبی تعلیم اور صحت کے شعبے میں سائنسی ایجادات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی شمولیت موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ اسی تناظر میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو نے ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے اپنے امتحانی نظام کو مکمل طور پر جدید، پیپر لیس اور کمپیوٹرائزڈ کر دیا ہے۔

حکومتِ سندھ کی جدید تعلیمی و ڈیجیٹل پالیسیوں اور وائس چانسلر لمس پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اوجن کی بالخصوص ہدایات کی روشنی میں شروع کیا جانے والا یہ نظام نہ صرف طبی امتحانات کو محفوظ اور شفاف بنائے گا بلکہ تعلیمی اداروں میں روایتی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک مثال ثابت ہوگا۔

ڈیجیٹل امتحانی نظام کی ضرورت اور پس منظر

پاکستان بالخصوص سندھ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طویل عرصے سے روایتی امتحانی نظام رائج رہا ہے، جس میں کاغذات کی پرنٹنگ، ان کا نقل و حمل، پرچوں کی حفاظت اور بعد ازاں جوابی کاپیوں کی جانچ میں کافی وقت اور وسائِل صرف ہوتے تھے۔ اس پرانے طریقہ کار میں انسانی غلطی کے امکانات کے ساتھ ساتھ نتائج کی تیاری میں تاخیر جیسے مسائل بھی درپیش رہتے تھے۔

طبی تعلیم کا شعبہ انتہائی حساس ہے جہاں ایک طالب علم کی نظریاتی اور عملی مہارت کا درست، غیر جانبدارانہ اور بروقت تخمینہ لگانا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے لمس انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا تاکہ یونیورسٹی کو عالمی سطح کی میڈیکل یونیورسٹیوں کی صف میں کھڑا کیا جا سکے اور امتحانی پروسیس میں زیرو ٹالرنس پالیسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

جدید امتحانی ڈھانچہ اور تکنیکی خصوصیات

لمس انتظامیہ کے مطابق نیا امتحانی نظام محض چند کمپیوٹرز نصب کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل اور مربوط نیٹ ورکنگ پر مبنی ہے۔ اس ڈھانچے کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  1. مرکزی امتحانی نیٹ ورک: جامشورو کے مرکزی کیمپس سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں قائم یونیورسٹی سے منسلک تمام امتحانی مراکز کو ایک انتہائی محفوظ مرکزی سرور سے جوڑ دیا گیا ہے۔
  2. محفوظ کمپیوٹر ٹرمینلز: امتحانات کے انعقاد کے لیے مخصوص ڈیجیٹل ٹرمینلز تیار کیے گئے ہیں جن پر سخت سیکیورٹی پروٹوکولز عائد ہیں۔ امتحانی مواد صرف مقررہ وقت پر ہی ایکٹو ہوتا ہے جس سے سوالنامہ افشا (لیک) ہونے کے امکانات مکمل ختم ہو جاتے ہیں۔
  3. ڈیٹا کا تحفظ: طلبہ کے ڈیٹا، حاضری، سوالناموں اور جوابات کی اینکرپشن (Encryption) کی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غیر متعلقہ مداخلت یا سائبر خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
  4. خودکار نگرانی (Surveillance): امتحانی ہالز میں جدید سیکیورٹی کیمروں اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے امتحانی عمل کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

او ایس پی ای (OSPE) اور کمپیوٹر بیسڈ اسیسمنٹ

طبی تعلیم میں نظریاتی معلومات کے ساتھ ساتھ عملی صلاحیتوں (Practical Skills) کی جانچ انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی نے او ایس پی ای (Objective Structured Practical Examination – OSPE) اور کمپیوٹر بیسڈ امتحانات (CBE) کا طریقہ کار اپنایا ہے۔

  • OSPE کا مقصد: اس نظام کے تحت ہر طالب علم کو عملی مہارتوں، کلینیکل تشخیص اور ڈیوائسز کے استعمال پر یکساں اور غیر جانبدارانہ معیار کے تحت پرکھا جاتا ہے۔
  • کمپیوٹر بیسڈ اسیسمنٹ: اس کے ذریعے متعدد الٹی میٹ سوالات (MCQs) اور سیپریٹ ڈائریکٹ کوئسچنز کا فوری جائزہ لیا جاتا ہے، جس سے انسانی مداخلت کے بغیر نتائج مرتب کرنے میں مدد ملتی ہے۔

طبی تعلیم پر مثبت اثرات اور اسٹیک ہولڈرز کا ردِعمل

اس جدید قدم کو یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامیہ اور سب سے بڑھ کر طلبہ و طالبات کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ کا کہنا ہے کہ روایتی کاغذ پر مبنی امتحانات میں کاپیاں چیک کرنے اور نتائج مرتب کرنے میں ہفتوں بلکہ مہینوں لگ جاتے تھے، جس سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا تھا۔ تاہم اس پیپر لیس نظام کی بدولت اب نتائج کا عمل نہ صرف تیز رفتار ہو گیا ہے بلکہ اس سے اساتذہ کا وقت بھی بچ رہا ہے جسے وہ تحقیق اور تدریس پر صرف کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب طلبہ و طالبات نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ کمپیوٹر بیسڈ امتحانی نظام کا استعمال انتہائی آسان اور سہل ہے۔ امتحانی عمل میں شفایت لانے کے اس اقدام سے حقیقی محنت کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور میرٹ کی شفاف طریقے سے بالا دستی قائم رہے گی۔

مستقبل کا وژن اور اصلاحات کا تسلسل

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اوجن کی زیرِ قیادت لمس انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ڈیجیٹل اصلاحات کا یہ سلسلہ محض امتحانات تک محدود نہیں رہے گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق آنے والے دنوں میں تدریسی نظام، ریسرچ ڈیٹا بیس اور طلبہ کی انتظامی کاوشوں کو بھی مکمل طور پر سمارٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے گا۔

مجموعی طور پر، لیاقت یونیورسٹی جامشورو کا یہ اقدام صوبہ سندھ کے دیگر تعلیمی اور بالخصوص طبی اداروں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ ڈیجیٹل امتحانی نظام کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر جدید وسائل اور درست حکمتِ عملی کا استعمال کیا جائے تو تعلیمی شفافیت اور معیار کو عالمی سطح کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

یہ رپورٹ یونیورسٹی کے فراہم کردہ باضابطہ بیانات اور تعلیمی ذرائع کی معلومات پر مبنی ہے۔ خبر میں معروضیت اور صحافتی اصولوں کا مکمل احترام کیا گیا ہے تاکہ قارئین تک غیر جانبدارانہ اور درست حقائق پہنچ سکیں۔