Preloader
Larkana university facing educational and administrative crisis

اہم نکات:

  • اساتذہ کی مکمل حمایت: آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائیز فیڈریشن نے لاڑکانہ یونیورسٹی میں تنخواہوں سے مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف اساتذہ کے بائیکاٹ کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔
  • مطالبات کی فہرست: ملازمین نے پروموشن، ڈی پی سی، پنشن بقایا جات، ریگولرائزیشن، میڈیکل الاؤنسز اور انتقامی خطوط کی واپسی سمیت متعدد مطالبات انتظامیہ کے سامنے رکھ دیے۔
  • احتجاج کا الٹی میٹم: 6 اکتوبر 2026 تک مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں 7 اکتوبر 2026 سے باضابطہ احتجاجی تحریک کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔
  • مشترکہ لائحہ عمل: تحریک کی قیادت کے لیے 6 رکنی جوائنٹ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ اساتذہ اور آفیسرز کے ساتھ مشترکہ ایکشن کمیٹی کی تشکیل کے لیے اہم اجلاس بلا لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف لاڑکانہ کا انتظامی و تعلیمی توازن خطرے میں

لاڑکانہ (رپورٹ: محمد نصیر ساگر): دی یونیورسٹی آف لاڑکانو اس وقت ایک شدید اور تشویشناک انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ چکی ہے، جہاں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی جانب سے انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج اور بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اساتذہ کی تنخواہوں سے مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں اور دیگر حل طلب مسائل کی پاداش میں کلاسز کا مکمل بائیکاٹ جاری ہے، جس سے تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

اس اہم موڑ پر آل سندھ یونیورسٹیز ایمپلائیز فیڈریشن کے چیئرمین اور دی یونیورسٹی آف لاڑکانو ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر سراج احمد بھٹو نے اپنے ایک اہم پریس بیان میں اساتذہ کے بائیکاٹ کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان سے یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ میں سنسنی خیز اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ اب اساتذہ کے ساتھ ساتھ ملازمین اور آفیسرز بھی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو رہے ہیں۔

وائس چانسلر کے رویے اور انتظامی پالیسیوں پر تشویش

سراج احمد بھٹو نے اپنے پریس بیان میں یونیورسٹی آف لاڑکانہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیک محمد شیخ کے طرزِ عمل اور انتظامی حکمتِ عملی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا موقف ہے کہ یونیورسٹی کے سربراہ محض اساتذہ ہی نہیں بلکہ ملازمین، آفیسرز اور بالواسطہ طور پر طلباء کے ساتھ بھی سخت ناانصافیوں کا سبب بن رہے ہیں۔

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق، گزشتہ کئی ماہ سے انتظامیہ اور مختلف ایسوسی ایشنز کے درمیان تناؤ کی فضا قائم ہے۔ ملازمین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اپنانے کی کوشش کی اور متعدد بار اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقاتیں کیں، لیکن ہر بار محض آسروں، لالی پاپ اور دلاسوں کے علاوہ کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اسی مسلسل غفلت اور وعدہ خلافیوں کے نتیجے میں اب ملازمین انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ملازمین کے 12 بنیادی اور جائز مطالبات کی تفصیلات

یونیورسٹی انتظامیہ کو جمع کرائی گئی باضابطہ درخواست اور پریس بیان کے مطابق، ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے ملازمین کے جن بنیادی اور جائز مسائل کے فوری حل کا مطالبات کا چارٹر پیش کیا ہے، وہ درج ذیل ہیں:

  1. پروموشن اور اپگریڈیشن: ملازمین کی جنرل اور ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC)، سلیکشن بورڈ اور ایناملی کمیٹی سے منظور شدہ اپگریڈیشن اور پروموشن کے احکامات فوری جاری کیے جائیں۔
  2. پے فکسیشن: جن ٹیکنیکل ملازمین کے پروموشن آرڈرز جاری ہو چکے ہیں، ان کی فوری طور پر پے فکسیشن کی جائے۔
  3. پنشن اور فوت شدہ ملازمین کی رقم: ریٹائرڈ اور فوت شدہ ملازمین کو ان کے واجب الادا پنشن کنٹری بیوشن کی رقم فی الفور ادا کی جائے۔
  4. کوٹہ کے تحت ملازمتیں: فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو سرکاری پالیسی کے تحت ملازمت کے باضابطہ آرڈرز فراہم کیے جائیں۔
  5. میڈیکل بلز اور ایڈوانس: میٹنگز سے منظور شدہ میڈیکل بلز کی رقم کا اجراء، جمع شدہ تمام بلز کے لیے فوری میٹنگ کا انعقاد اور میڈیکل ایڈوانس کی درخواستوں پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
  6. کچے ملازمین کی ریگولرائزیشن: ایڈہاک اور کچے ملازمین کو پہلی سنڈیکیٹ کی منظور شدہ 3 سالہ پالیسی کے تحت بلا تاخیر ریگولر کیا جائے۔
  7. الاؤنسز اور بقایاجات: ملازمین کو مختلف مد میں روکی گئی تنخواہوں، پروموشن ڈفرنس اور ریمونریشن کے تمام بقایاجات فوری طور پر دیے جائیں۔
  8. وردی الاؤنس کا دائرہ کار: گریڈ 01 سے 04 تک کے ملازمین کی طرز پر باقی تمام مستحق ملازمین کو بھی وردی الاؤنس دیا جائے۔
  9. دیگر پالیسیوں کی بحالی: ٹرانسپورٹ پالیسی، ایگزام ریمونریشن اور ویلفیئر لون کی فوری بحالی کی جائے۔
  10. انتقامی کارروائیوں کا خاتمہ: ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے خلاف نکالے گئے تمام لیٹرز، سرکولرز اور عہدیداران و ملازمین پر قائم کی گئی انکوائریز کے نوٹسز فوری واپس لیے جائیں۔

6 رکنی جوائنٹ کمیٹی کی تشکیل اور تحریک کا ٹائم لائن

ملازمین کی تمام دھڑے بندیوں کو ختم کرتے ہوئے اتحاد قائم کرنے کی غرض سے الیکشن میں حصہ لینے والے تمام گروپس کو ملا کر 6 رکنی ‘جوائنٹ کمیٹی’ تشکیل دے دی گئی ہے جو آنے والی تمام احتجاجی کارروائیوں کی قیادت کرے گی۔

جوائنٹ کمیٹی کے ارکان کے نام:

  • سراج احمد بھٹو (سربراہ/چیئرمین)
  • عبدالجبار چانڈیو
  • شکیل احمد گھانگھرو
  • غلام مصطفیٰ اوڈھو
  • مظفر علی گاڈھی
  • ساجد علی بھٹو

احتجاجی تحریک کی حکمتِ عملی اور اہم تاریخیں:

  • 05 اکتوبر 2026: اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے اہم بیٹھک، جس میں مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
  • 06 اکتوبر 2026 (بروز منگل): انتظامیہ کو تمام جائز مطالبات کی منظوری اور احکامات جاری کرنے کی حتمی تاریخ (ڈیڈ لائن)۔
  • 07 اکتوبر 2026 (بروز بدھ): مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں یونیورسٹی بھر میں باضابطہ اور مکمل احتجاجی تحریک کا آغاز۔

تعلیمی اداروں میں بے چینی کے اثرات اور پس منظر

اعلیٰ تعلیم کی سائنس اور آرٹس سے منسلک اداروں میں اس طرح کی کشیدگی اور بائیکاٹ کے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ سندھ کی جامعات میں مالی و انتظامی بحران ایک عمومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اساتذہ اور ملازمین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ہزاروں طلباء و طالبات کا تعلیمی مستقبل بھی داؤ پر لگ جاتا ہے۔

کلاسز کے بائیکاٹ کی وجہ سے سمسٹر سسٹم، امتحانات کا شیڈول اور این سی سی/ریسرچ کے کام شدید التواء کا شکار ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب ملازمین کا موقف ہے کہ جب تک ان کی روزی روٹی، بنیادی الاؤنسز اور پروموشنز کا تحفظ نہیں ہوگا، اس وقت تک وہ پرامن انداز میں فرائض منصبی ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

ایڈیٹوریل اپیل: ادارے کے وسیع تر مفاد میں فوری حل کی ضرورت

اس تمام تضاد اور کشیدہ صورتحال کے پیش نظر، یہ انتہائی ضروری ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور بالخصوص وائس چانسلر ڈاکٹر نیک محمد شیخ صاحب ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے افہام و تفہیم کا مظاہرہ کریں۔

خبر کے معروضی تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر 06 اکتوبر تک بات چیت کے ذریعے ان مسائل کو حل نہ کیا گیا تو 07 اکتوبر سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نہ صرف لاڑکانہ یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کو مزید خراب کرے گی بلکہ دیگر صوبائی جامعات تک بھی اس کی انچ پہنچ سکتی ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے پرخلوص اور صحافتی اپیل ہے کہ وہ اس عظیم مادرِ علمی کے وسیع تر مفاد اور طلباء کے روشن مستقبل کی خاطر اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کے تمام جائز و قانونی مطالبات کو فوری منظور کریں، تاکہ ادارے میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو اور تعلیم و تحقیق کا باوقار ماحول بحال ہو سکے۔