اہم نکات: مبارکپور سے مرکزی چوک تک احتجاج: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے مبارکپور کی جامع مسجد سے مین چوک تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جہاں سینکڑوں کارکنان نے دھرنا دیا۔ حرمین شریفین کی حرمت پر اتحاد: مظاہرین نے حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کے خلاف ہر قسم کی سازش یا جارحیت کی شدید مذمت کی اور تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ سندھ کی وحدت کا تحرک: جے یو آئی قیادت نے نیا صوبہ یا انتظامی تقسیم کے منصوبوں کو مسترد کرتے ہوئے سندھ کی تاریخی اور جغرافیائی وحدت کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ حکمرانی اور وسائل کی مساوی تقسیم: مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ کے حقیقی مسائل کا حل جغرافیائی تقسیم کے بجائے بہتر حُسنِ انتظام، بنیادی سہولیات اور وسائل کی منصفانہ فراہمی میں پنہاں ہے۔ مبارکپور سے مین چوک تک عوامی مارچ اور نعرے بازی جیکب آباد کے نواحی علاقے مبارکپور میں مذہبی و سیاسی حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کی ضلع جیکب آباد شاخ کی جانب سے ایک وسیع احتجاجی ریلی اور دھرنے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ احتجاج بنیادی طور پر حرمین شریفین پر ممکنہ جارحیت یا سازشوں کی مذمت اور صوبہ سندھ کی تاریخی و جغرافیائی وحدت کے دفاع کے لیے منعقد کیا گیا۔ احتجاجی ریلی کا آغاز جامع مسجد مبارکپور سے ہوا، جس میں جے یو آئی کے کارکنان، علماء کرام اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر حرمین شریفین کی عظمت و سلامتی کے حق میں اور سندھ کی تقسیم کے خلاف واضح مطالبات درج تھے۔ ریلی شہر کی مختلف اہم شاہراہوں اور بازاروں سے گزرتی ہوئی مین چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں مظاہرین نے دھرنا دے کر ٹریفک کی روانی کو کچھ دیر کے لیے معطل کر دیا اور قیادت نے تفصیلی خطابات کیے۔ مرکزی قیادت اور مظاہرین کی شرکت اس بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت جے یو آئی کے جید علماء اور مقامی و ضلعی رہنما کر رہے تھے۔ اس موقع پر ضلعی و مقامی سطح کے مرکزی عہدیداروں نے عوامی مجمع کو متحرک کیا اور اپنے مطالبات حکومت اور عالمی برادری کے سامنے رکھے۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے اہم رہنما: ڈاکٹر اے جی انصاری (امیر جے یو آئی، ضلع جیکب آباد) حاجی محمد عباس بنگلانی محکم الدین بروہی صوفی اللہ یار بروہی حافظ محمد عثمان بھٹو رشید احمد بھٹو قاری ریاض احمد ٹانوری خالد حسین چنہ مولانا ہمت علی بروہی، مولانا منظور احمد چنہ، مولانا ارشاد احمد اور دیگر مقامی عہدیداران۔ ان رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ کے مذہبی جذبات اور سندھ کے عوام کے جغرافیائی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حرمین شریفین کی حرمت اور عالمی مسلم یکجہتی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کی قیادت نے حرمین شریفین (کعبۃ اللہ شریف اور مسجد نبوی ﷺ) کی اسلامی تاریخ اور مسلم ایمانیات میں مرکزی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین صرف ایک جغرافیائی خطہ یا سرحد نہیں بلکہ دنیا بھر کے دو ارب کے قریب مسلمانوں کے عقیدے اور روح کا مرکز ہیں۔ علماء کرام نے زور دیا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور تحفظ کے لیے امتِ مسلمہ کا ہر فرد اپنی جان، مال اور وقت کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اسلامی مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت، سازش یا معاندانہ کارروائی کے خدشات کو مسلم امہ کبھی برداشت نہیں کرے گی۔ جے یو آئی کے رہنماؤں نے بین الاقوامی اداروں اور اسلامی ممالک کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ان مقدسات کی سلامتی اور احترام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ سندھ کی جغرافیائی وحدت کا دفاع اور انتظامی یونٹس پر تحفظات احتجاجی مظاہرے کا دوسرا اہم اور بنیادی محور سندھ کی تاریخی اور جغرافیائی وحدت کا مسئلہ تھا۔ حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف سیاسی و انتظامی حلقوں میں نئے صوبوں کی تشکیل، انتظامی یونٹس کی حد بندی اور صوبوں کی تقسیم پر چلنے والی بحث کے تناظر میں جے یو آئی نے اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سندھ ہزاروں سال پرانی تہذیب، ثقافت اور ایک ناقابلِ تقسیم جغرافیائی اکائی کا نام ہے۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا صوبوں کی تقسیم کے نام پر سندھ کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش سندھ کے عوام اور باالخصوص جے یو آئی کے لیے نا قابلِ قبول ہے۔ مقررین نے کہا کہ سندھ کے سرحدی حدود اور جغرافیے کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ عوام میں తీవ్ర بے چینی اور عدم استحکام کا سبب بنے گی۔ انتظامی اصلاحات بمقابلہ جغرافیائی تقسیم: مسائل کا حقیقی حل جے یو آئی کی قیادت نے اپنے خطاب میں اس بات پر خاص زور دیا کہ کسی صوبے کے مسائل کا حل اس کی زمین کو تقسیم کرنے میں نہیں بلکہ اس کے گورننس اور نظامِ حکومت کو بہتر بنانے میں مضمر ہے۔ انہوں نے سندھ کی موجودہ سماجی و اقتصادی صورتحال کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے اہم نکات پر بات کی: وسائل کی مساوی تقسیم: صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان وسائل اور بجٹ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ بنیادی سہولیات کی فراہمی: تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار کی فراہمی پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے تاکہ عوام کی محرومیاں ختم ہوں۔ بہتر حکمرانی (Good Governance): مسائل کی بنیادی وجہ انتظامی ناہلی اور بدعنوانی ہے، جسے قانون کی حکمرانی کے ذریعے درست کیا جانا چاہیے۔ عوامی یکجہتی: تمام لسانی اور مقامی اکائیوں کو باہم دست و گریباں کرنے کے بجائے انہیں برابر کے حقوق دیے جائیں۔ مقررین کا موقف تھا کہ جب تک عوام کو بنیادی حقوق اور بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر نہیں ملیں گی، تب تک صرف سرحدیں بدلنے یا نئے اضلاع و صوبے بنانے سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ سیاسی اور سماجی اثرات: آیندہ کا لائحہ عمل جیکب آباد کے اس مظاہرے کو اندرونِ سندھ میں بڑھتے ہوئے مذہبی اور سیاسی تحرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جے یو آئی کے اس قدم سے واضح ہوتا ہے کہ مذہبی جماعتیں نا صرف بین الاقوامی اور دینی امور پر متحرک ہیں بلکہ صوبائی و علاقائی سیاسی و انتظامی مسائل پر بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، حرمین شریفین کے تحفظ اور سندھ کی وحدت کے بیانیے کو ایک ساتھ جوڑ کر جے یو آئی نے عوام کی بڑی تعداد کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مظاہرے کے ذریعے حکومت وقت اور مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سندھ میں انتظامی حد بندیوں سے متعلق کسی بھی غیر معمولی فیصلے کی صورت میں شدید سیاسی و عوامی مقاومت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نتیجہ اور مطالبات مبارکپور سے شروع ہونے والا یہ احتجاج مین چوک پر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، تاپہم رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر کان نہ دھرے گئے اور عوامی خدشات کو دور نہ کیا گیا تو جے یو آئی اپنے احتجاج کا دائرہ کار پورے ضلع اور بعد ازاں پورے صوبے تک پھیلانے پر مجبور ہو گی۔ مظاہرین نے آخر میں حرمین شریفین کی سلامتی، سندھ کی ترقی اور ملکی استحکام کے لیے اجتماعی دعا کی اور پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ Post navigation سکردو: فٹبال میچ کے دوران گراؤنڈ سے غائب ہونے والی ٹرافی واپس مل گئی، مومن چور جی بی فلیکس کے باہر چھوڑ گیا