اہم نکات: ایم ڈبلیو ایم کی اہم پہل: مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے جکرانی برادران کے مابین بڑھتے ہوئے تنازع کے حل کے لیے فوری سیز فائر اور مذاکرات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جرگے اور وفد کی تشکیل: اتحاد و امن کے قیام کے لیے ضلعی معززین، سیاسی، مذہبی اور قبائلی رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی مصالحتی وفد (میڑ) جکرانی برادران کے پاس بھیجنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وسیع پیمانے پر مشاورت: علامہ مقصود ڈومکی کی قیادت میں وفد نے جیکب آباد چیمبر آف کامرس، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، اساتذہ تنظیموں اور دیگر قبائلی شخصیات سے اہم ملاقاتیں کر کے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے۔ علاقائی امن پر اثرات: سابق ایم این اے میر بابل خان جکھرانی کے فرزندوں کے درمیان دوریوں کو شہر کے امن اور سماجی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے تحمل اور افہام و تفہیم پر زور دیا گیا ہے۔ پس منظر: جکرانی خاندان کا سیاسی و قبائلی اثر و رسوخ اور موجودہ کشیدگی سندھ کا سرحدی ضلع جیکب آباد ہمیشہ سے صوبائی اور قومی سیاست میں ایک کلیدی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ اس خطے کی سیاسی، سماجی اور قبائلی ساخت میں جکرانی قبیلے اور خصوصاً سابق رکن قومی اسمبلی میر بابل خان جکھرانی (مرحوم) کے خاندان کا گہرا اثر و رسوخ رہا ہے۔ اس خاندان نے نہ صرف جیکب آباد کی ترقی بلکہ مقامی قبائلی معروضی حالات کو سنبھالنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، حالیہ کچھ عرصے کے دوران میر بابل خان جکھرانی کے فرزندوں یعنی موجودہ ایم این اے میر اعجاز حسین خان جکھرانی، میر خالد حسین خان جکھرانی، میر آزاد خان جکھرانی اور میر رافع حسین خان جکھرانی کے درمیان بعض سیاسی، ذاتی اور انتظامی امور پر اختلافات نے جنم لیا۔ رفتہ رفتہ ان غلط فہمیوں اور دوریوں نے ایک شدید کشیدگی کی صورت اختیار کر لی، جس کے اثرات صرف ایک خاندان تک محدود رہنے کے بجائے پورے جیکب آباد شہر اور اس کے گرد و نواح کے امن و امان کی صورتحال پر مرتب ہونے لگے۔ قبائلی ڈھانچے میں جب کسی بااثر سیاسی خاندان میں اس نوعیت کی محاذ آرائی جنم لیتی ہے، تو اس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں غیر یقینی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اسی صورتحال کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے علاقائی رہنماؤں نے اس معاملے میں فوری مداخلت کی ضرورت محسوس کی ہے۔ جامعہ المصطفیٰ میں پریس کانفرنس: علامہ مقصود علی ڈومکی کا موقف جیکب آباد کی موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے جامعہ المصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جکرانی برادران کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ طاقت اور محاذ آرائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “اختلافات ہمیشہ طاقت یا محاذ آرائی سے نہیں بلکہ گفتگو، افہام و تفہیم اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال پر ہمیں سخت تشویش ہے۔ ہم تمام فریقین کے خیرخواہ کی حیثیت سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر سیز فائر کیا جائے، کشیدگی ختم کی جائے اور امن و مصالحت کے لیے کوشش کرنے والے افراد کو معاملات کے حل کے لیے مناسب موقع فراہم کیا جائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ میر بابل خان جکھرانی کے فرزندوں کے درمیان یہ تنازع نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے جیکب آباد کے مفاد کے خلاف ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین جذبات کے بجائے عقل و دانش، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ ┌────────────────────────────────────────┐ │ جکرانی برادران تنازع اور مصالحتی پہل │ └───────────────────┬────────────────────┘ │ ┌───────────────────────┴───────────────────────┐ ▼ ▼ ┌───────────────────────────┐ ┌───────────────────────────┐ │ تنازع کے اہم فریقین │ │ مصالحتی اپیل کے نکات │ ├───────────────────────────┤ ├───────────────────────────┤ │ • میر اعجاز حسین جکھرانی │ │ • فوری سیز فائر کا مطالبہ │ │ • میر خالد حسین جکھرانی │ │ • محاذ آرائی کا فوری خاتمہ │ │ • میر آزاد خان جکھرانی │ │ • میڑ (جرگہ) کی پیشکش │ │ • میر رافع حسین جکھرانی │ │ • پرامن مذاکرات پر زور │ └───────────────────────────┘ └───────────────────────────┘ اتحاد و مصالحت کا فریم ورک: “میڑ” اور قبائلی جرگے کا روایتی طریقہ کار سندھ اور بالخصوص بالا سندھ کے قبائلی معاشرے میں “میڑ” کا طریقہ کار تنازعات کے حل کے لیے انتہائی محترم اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ جب معززین، مذہبی شخصیات اور دیگر قبیلوں کے سردار کسی فریق کے گھر “میڑ” (مصالحتی وفد) لے کر جاتے ہیں، تو قبائلی روایات کے تحت اس کی پیشکش کو رد کرنا انتہائی ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ وہ شہر کے دیگر معززین اور قبائلی رہنماؤں سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد ایک جامع اور بااثر وفد لے کر جکرانی برادران کے پاس جائیں گے۔ اس پہل کا مقصد دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر ان کے تحفظات سننا اور ایک باوقار، منصفانہ اور پرامن حل نکالنا ہے۔ پریس کانفرنس میں شریک اہم شخصیات اس اہم پریس کانفرنس کے دوران مذہبی اور قبائلی اتحاد کی ایک واضح تصویر سامنے آئی۔ موقع پر موجود نمایاں شخصیات کا تعلق درج ذیل اہم طبقہ ہائے فکر سے تھا: مذہبی و سیاسی قیادت: مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی مشیر سید کامران علی شاہ بخاری اور مجلس علمائے مکتب اہل بیتؑ کے ضلعی صدر علامہ سیف علی ڈومکی۔ قبائلی و سماجی نمائندگان: آل ڈومکی اتحاد کے مرکزی رہنما رحمدل خان ٹالانی، حاجی داد خان ڈومکی اور ضلعی صدر منصب علی ڈومکی۔ ڈومکی قبیلے کے معززین: خطے کے متعدد سینئر اور بااثر شخصیات۔ پرامن جیکب آباد کے لیے وسیع تر مشاورت اور اتحاد کی تشکیل شہر میں امن و امان کے قیام اور اس تنازع کے مستقل حل کے لیے علامہ مقصود علی ڈومکی نے صرف پریس کانفرنس تک محدود رہنے کے بجائے مختلف سیاسی و سماجی دھاروں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ سید کامران علی شاہ بخاری اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ انہوں نے جیکب آباد کی درج ذیل اہم شخصیات سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں: میر احمد علی خان بروہی: صدر، جیکب آباد چیمبر آف کامرس (تاجر برادری کی نمائندگی)۔ استاد انتظار حسین چھلگری: سابق صدر پ ٹ الف سندھ اور رہنما سندھ دوست اتحاد۔ میر راجہ خان جکھرانی: صوبائی نائب صدر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جکھرانی قبیلے کی معزز شخصیت۔ حاجی دیدار علی لاشاری: امیر، جماعت اسلامی جیکب آباد۔ استاد محمد عالم کھوسہ: ممتاز سماجی و تعلیمی شخصیت۔ ان تمام ملاقاتوں میں موجودہ صورتحال کی گٹھلیوں کو کھولنے، کشیدگی کو ختم کرنے اور اکابرین کے ذریعے ثالثی کا راستہ ہموار کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تمام رہنماؤں نے اس مصالحتی عمل کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ آئندہ کا لائحہ عمل اور توقعات علامہ مقصود علی ڈومکی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیکب آباد ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اور یہاں امن، بھائی چارہ اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری تمام مذہبی، سیاسی اور قبائلی رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشاورتی عمل کے اگلے مرحلے میں وہ خطے کی مزید بااثر شخصیات اور سینیٹرز سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں درج ذیل سرفہرست ہیں: سردار چنگیز خان پنہور سینیٹر محمد اسلم ابڑو سردار سخی عبدالرزاق کھوسہ سردار شفقت حسین جکھرانی ڈاکٹر اے جی انصاری صحافتی تجزیہ: تنازع کے حل کے علاقائی اثرات ایک صحافتی اور ایڈیٹوریل نقطہ نظر سے، جکرانی برادران کا تنازع محض ایک خاندانی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ جیکب آباد کے انتظامی، سیاسی اور تجارتی ماحول پر راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر سیاسی و مذہبی قیادت بروقت اس تنازع کا پرامن حل نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اس سے نہ صرف جیکب آباد میں امن و امان برقرار رہے گا بلکہ قبائلی روایات کے ذریعے سیاسی اختلافات کو حل کرنے کی ایک مثبت اور صحتمند مثال بھی قائم ہوگی۔ سول سوسائٹی اور مقامی شائقینِ سیاست کی نظریں اب آئندہ دنوں میں تشکیل پانے والے اعلیٰ سطحی “میڑ” وفد اور جکرانی برادران کے مثبت ردِعمل پر لگی ہوئی ہیں۔ Post navigation شاہین سپورٹس کلب اور نیورنگاہ سپورٹس میں مصالحت: سکردو میں جاری تنازع کا خوش اسلوبی سے خاتمہ، جلد سیمی فائنل میچ کی راہ ہموار اسلام آباد پولیس میں بڑے پیمانے پر انتظامی اصلاحات: آئی جی کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کا تمام سابق افسران کے کانٹریکٹس منسوخ کرنے کا فیصلہ