اہم نکات: التربہ پر حوثی کنٹرول: یمن کے جنوب مغربی صوبے تعز میں حوثی جنگجوؤں نے پیشقدمی کرتے ہوئے حکومت کے زیرِ اثر اہم و حکمتِ عملی سے پر شہر التربہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلا مزاحمت پیشقدمی: مقامی سیکیورٹی حکام کے مطابق سرکاری افواج کو میدانِ جنگ میں درپیش ناکامیوں کے بعد پسپائی اختیار کرنا پڑی، جس کے بعد حوثی فورسز بغیر کسی بڑی لڑائی کے شہر میں داخل ہو گئیں۔ حکومتی جوابی کارروائی کا اعلان: یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے زیرِ تسلط علاقوں کو دوبارہ واگزار کرانے کے لیے ایک بڑے ملٹری آپریشن کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ خطے پر اثرات: اس پیشرفت سے تعز کا محاصرہ مزید سخت ہونے اور جنوبی بندرگاہی شہر عدن کو جانے والی رسد کی لائنوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پس منظر: یمن کی خانہ جنگی اور تعز صوبے کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت یمن میں جاری خانہ جنگی گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کے بدترین انسانی و عسکری بحرانوں میں شمار ہوتی ہے۔ سنہ 2014 میں جب حوثی تحریک (انصار اللہ) نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا، تو اس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو ملک کے جنوبی علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔ صوبہ تعز یمن کی آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس اور اہمیت کا حامل خطہ رہا ہے۔ یہ صوبہ شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تعز کا مرکز اور اس کے گرد و نواح کے اضلاع کئی سالوں سے حوثی فورسز اور سرکاری افواج کے درمیان ایک شدید میدانِ جنگ بنے ہوئے ہیں۔ ‘التربہ’ کا شہر تعز صوبے کے جنوب میں واقع ایک انتہائی اہم اور حکمتِ عملی کے حامل (Strategic) مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ شہر تعز کو ملک کے عبوری دارالحکومت ‘عدن’ سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔ اس شہر پر حکومت کا کنٹرول تعز میں محصور عوام تک انسانی امداد، غذائی اجناس اور عسکری رسد پہنچانے کے لیے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا تھا۔ التربہ پر حوثی پیشقدمی اور سرکاری افواج کی پسپائی حالیہ سیکیورٹی پیشرفت کے مطابق، حوثی جنگجوؤں نے تعز کے جنوب مغربی علاقوں میں اپنے کنٹرول کو وسیع کرتے ہوئے التربہ کے اہم سرکاری مرکز کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ مقامی سیکیورٹی حکام اور ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حوثی فورسز بلا کسی بڑی مسلح پیش قدمی اور خونریزی کے شہر میں داخل ہوئیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ سرکاری افواج کو قریبی محاذوں پر یکے بعد دیگرے شدید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد عسکری قیادت نے مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے اپنی فورسز کو پیچھے ہٹنے اور شہر سے پسپا ہونے کا حکم دیا۔ ┌────────────────────────────────────────┐ │ تعز میں حوثی پیشقدمی کا خاکہ │ └───────────────────┬────────────────────┘ │ ┌───────────────────────┴───────────────────────┐ ▼ ▼ ┌───────────────────────────┐ ┌───────────────────────────┐ │ التربہ کی اہمیت │ │ حکومتی پسپائی کے عوامل │ ├───────────────────────────┤ ├───────────────────────────┤ │ • تعز - عدن روٹ پر واقع │ │ • محاذِ جنگ پر پیشگی ناکامی │ │ • عسکری و لاجسٹک مرکز │ │ • حکمتِ عملی کے تحت پسپائی│ │ • جنوبی یمن کا گیٹ وے │ │ • حوثیوں کا بلا مزاحمت داخلہ│ └───────────────────────────┘ └───────────────────────────┘ شہر میں داخلے کے بعد حوثی جنگجوؤں نے سرکاری دفاتر، چیک پوسٹوں اور اہم انتظامی عمارتوں پر اپنی تحویل قائم کر لی ہے، جس سے خطے میں عسکری توازن حوثیوں کے حق میں جھکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ یمنی حکومت کا بڑا ملٹری آپریشن شروع کرنے کا عزم التربہ کے ہاتھ سے نکل جانے کے فوری بعد یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور صدارتی قيادت کونسل نے اعلیٰ سطحی عسکری اجلاس طلب کیا۔ حکومت کی جانب سے ایک بڑے اور جامع ملٹری آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے جس کا مقصد حوثیوں کے زیرِ تسلط جانے والے تمام علاقوں کو واپس حاصل کرنا ہے۔ حکومتی ترجمان اور عسکری حکام کے مطابق: فورسز کی ری آرگنائزیشن: پسپا ہونے والی فورسز کو دوبارہ منظم کیا جا رہا ہے اور انہیں جدید ہتھیار اور اضافی نفری فراہم کی جا رہی ہے۔ عرب اتحاد کا تعاون: حکومت کو امید ہے کہ سعودیہ اور اماراتی قیادت والے عرب اتحاد کی جانب سے فضائی و لاجسٹک معاونت فراہم کی جائے گی۔ جوابی حکمتِ عملی: تعز کے جنوبی محاذ کو مضبوط بنانے کے لیے نئی دفاعی لائنیں قائم کی جا رہی ہیں تاکہ حوثیوں کو مزید جنوب کی طرف پیشقدمی سے روکا جا سکے۔ انسانی و عسکری اثرات: تعز کا محاصرہ اور عدن کی سیکیورٹی التربہ پر حوثیوں کے قبضے کے یمن کی مجموعی جنگی صورتحال اور عوام پر انتہائی شدید اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ 1. تعز کا مکمل محاصرہ: تعز شہر پہلے ہی گزشتہ کئی سالوں سے حوثیوں کے جزوی محاصرے میں ہے۔ التربہ روٹ واحد محفوظ راستہ تھا جہاں سے شہر کے لاکھوں محصور باشندوں کو خورا ک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت پہنچائی جاتی تھیں۔ اس روٹ کے بند یا حوثی کنٹرول میں جانے سے تعز میں انسانی بحران کے شدید تر ہونے کا خدشہ ہے۔ 2. عدن کے لیے سیکیورٹی چیلنج: التربہ پر حوثی فورسز کا قائم ہونا عبوری دارالحکومت عدن کے لیے ایک براہِ راست سیکیورٹی خطرہ ہے۔ عدن سے اس علاقے کا فاصلہ نسبتاً کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حوثی اب جنوبی پٹی کے اور بھی قریب پہنچ چکے ہیں۔ 3. باب المندب اور بحری تجارتی راستے: یہ علاقہ بحیرہ احمر (Red Sea) اور آبنائے باب المندب کے قریب تر واقع ہے۔ تعز کی ساحلی پٹی اور جنوبی اضلاع پر حوثیوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بین الاقوامی بحری تجارت اور بحری جہازوں کی آمد و رفت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایڈیٹوریل جائزہ: امن مذاکرات کی معطلی اور بڑھتا ہوا تصادم ایک غیر جانبدارانہ اور صحافتی تجزیے کی روشنی میں، یمن میں حالیہ عسکری پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے جاری پرامن حل کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے نئے علاقوں پر قبضہ اور حکومت کا جواباً بڑے عسکری آپریشن کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ خطہ ایک بار پھر شدید خونریزی اور محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر یمن کی بین الاقوامی حکومت اپنے اعلان کے مطابق مؤثر جوابی کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو جنوب مغربی یمن میں حوثیوں کی گرفت اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ امن مذاکرات میں ان کا پوزیشن کاپڑا انتہائی بھاری رہے گا۔ دوسری جانب، اس تمام تر سیاسی و عسکری کھینچ تان کا سب سے بڑا خمیازہ یمن کے معصوم اور جنگ زدہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو گزشتہ دہائی سے بنیادی انسانی حقوق اور امن کے منتظر ہیں۔ Post navigation اسلام آباد پولیس میں بڑے پیمانے پر انتظامی اصلاحات: آئی جی کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کا تمام سابق افسران کے کانٹریکٹس منسوخ کرنے کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں سیاسی و سیکیورٹی کشیدگی: وفاقی حکومت کا متعدد آئینی اختیارات اور اقدامات کے ملاپ پر غور