خبر کے اہم نکات (خلاصہ) احتجاجی تحریک کا اعلان: سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) جامشورو نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کوٹری میں نامناسب انتظامات اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف 13 اکتوبر کو ایڈمور پمپ سے اسپتال تک پرامن پیدل ریلی کا اعلان کر دیا ہے۔ عدالتی فیصلہ اور موقف: ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال کی جانب سے پارٹی رہنماؤ کے خلاف دائر پٹیشن کی عدالتی مستردگی کو ایس ٹی پی نے اپنے مطالبات کی حقانیت اور عوامی جدوجہد کی فتح قرار دیا ہے۔ پیرا میڈیکل اسٹاف سے اپیل: ایس ٹی پی کی قیادت نے اسپتال کے پیرا میڈیکل اسٹاف پر زور دیا ہے کہ وہ اسپتال میں مبینہ بدعنوانی، انتظامی بدنظمی اور درپیش مسائل کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس اصلاحاتی تحریک کا حصہ بنیں۔ موقف اور مقصد: رہنماؤ کے مطابق ان کا مقصد کسی سے ذاتی عناد رکھنا نہیں بلکہ اسپتال کے انتظامی و طبی نظام میں بہتری لا کر عام اور غریب مریضوں کو بلا تعطل اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ جامشورو / کوٹری (رپورٹ: محمد نصیر ساگر) سندھ کے ضلع جامشورو اور اس کے گرد و نواح کی عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے اہم مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کوٹری کی موجودہ انتظامی صورتحال اور طبی نظام پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) نے اسپتال میں بنیادی اصلاحات کے نفاذ اور مریضوں کے حقوق کی بحالی کے لیے اپنی احتجاجی اور پرامن جدوجہد کو تیز کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ ایڈمور ہوٹل کوٹری میں منعقدہ ایک پرہجوم اور اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ٹی پی ضلع جامشورو کے صدر یونس اوٹھو، تعلقہ صدر ارشاد پنہور، ساقی منصور کھوسو، خالد مہرانی اور علی شیر ہنگورو نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ڈی ایچ کیو اسپتال کوٹری کا نظام مکمل طور پر شفاف، فعال اور عوام دوست نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ان کی آئینی اور پرامن جدوجہد بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی۔ رہنماؤں نے اس موقع پر 13 اکتوبر کو شہر کے اہم نقطے “ایڈمور پمپ” سے لے کر “ڈی ایچ کیو اسپتال کوٹری” تک ایک پرامن پیدل ریلی نکالنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ پریس کانفرنس اور مرکزی قیادت کا موقف پریس کانفرنس کے دوران ایس ٹی پی رہنماؤ نے اپنے نقطہ نظر کو تفصیل سے پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی یہ تحریک کسی فردِ واحد، سرکاری اہلکار یا اسپتال انتظامیہ کے خلاف ذاتی نوعیت کی کوئی خصومت نہیں ہے۔ ان کا واحد مقصد یہ ہے کہ ضلع جامشورو اور گرد و نواح کے علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں غریب مریضوں کو وہ تمام صحت کی بنیادی سہولیات میسر آئیں جن کا آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کے تحت ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کا قیام اس لیے عمل میں لایا جاتا ہے تاکہ مفلوک الحال اور پسے ہوئے طبقات کو مفت علاج، ادویات اور تشخیصی ٹیسٹ کی سہولیات مل سکیں۔ تاہم، ڈی ایچ کیو اسپتال کوٹری اس وقت انتظامی بے حسی، ادویات کی قلت اور طبی عدم توجہی کا شکار نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ “ہماری جنگ کسی شخص یا کرسی سے نہیں، بلکہ اس بوسیدہ نظام سے ہے جس نے غریب سے اس کی بنیادی طبی سہولت بھی چھین لی ہے۔ جب تک ہر مریض کو عزّت اور علاج نہیں مل جاتا، ہماری پرامن آواز دبائی نہیں جا سکتی۔” — یونس اوٹھو (صدر ایس ٹی پی ضلع جامشورو) عدالتی فیصلہ اور مطالبات کی حقانیت خبر کے تناظر میں ایک اہم اور کلیدی پہلو ڈی ایچ کیو اسپتال کوٹری کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی جانب سے دائر کی گئی وہ پٹیشن تھی جو انہوں نے ایس ٹی پی رہنماؤں کی اصلاحاتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے عدالت عالیہ میں جمع کرائی تھی۔ پریس کانفرنس کے دوران پارٹی قیادت نے اس بات کا خصوصاً ذکر کیا کہ معزز عدالت کی جانب سے ایم ایس کی اس پٹیشن کو مسترد کیا جانا دراصل حق اور سچائی کی فتح ہے۔ رہنماؤں کے مطابق، عدالت کے اس فیصلے سے واضح ہو چکا ہے کہ ایس ٹی پی کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام مطالبات مکمل طور پر آئینی، قانونی اور عوامی مفاد پر مبنی ہیں۔ عدالتی کارروائی کی مستردگی نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اسپتال کی بہتری اور اصلاحات کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک ناگزیر اور جائز جدوجہد ہے۔ [ ڈی ایچ کیو اسپتال کوٹری کی موجودہ صورتحال ] │ ├─► انتظامی بدنظمی اور ادویات کی قلت ├─► عدالت کی جانب سے ایم ایس کی پٹیشن کا مسترد ہونا └─► ایس ٹی پی کا 13 اکتوبر کی پیدل ریلی کا اعلان اسپتال کا پس منظر اور موجودہ انتظامی و طبی بحران ڈی ایچ کیو اسپتال کوٹری نہ صرف کوٹری شہر بلکہ جامشورو، صنعتی زونز اور قریبی دیہی علاقوں کی ایک بڑی آبادی کے لیے علاج و معالجے کا واحد بڑا سرکاری ذریعہ ہے۔ صنعتی علاقہ ہونے کے باعث یہاں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں محنت کش اور دہاڑی دار طبقے کے لوگ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ حکومت سندھ کی جانب سے محکمۂ صحت کے لیے خطیر رقم کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے، عوام کو درپیش بنیادی مسائل درج ذیل اہم نکات کی صورت میں کھل کر سامنے آتے ہیں: ضروری ادویات کا فنڈز کے باوجود نہ ملنا: اسپتال آنے والے غریب مریضوں کو اکثر اوقات ادویات باہر کی نجی میڈیکل اسٹورز سے خریدنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جبکہ سرکاری بجٹ کا بڑا حصہ انتظامی امور میں صرف ہو جاتا ہے۔ تشخیصی سہولیات اور لیبارٹری کی غیر فعالی: اسپتال میں بنیادی ایکس رے، الٹراساؤنڈ اور خون کے ضروری ٹیسٹوں کی سہولت یا تو نفاذ کے لحاظ سے مفلوج ہے یا پھر گھنٹوں کی قطاروں کے باعث مریضوں کی پہنچ سے دور ہے۔ ایمرجنسی اور ٹراما سینٹر کی بدحالی: صنعتی اور شاہراہوں سے متصل علاقہ ہونے کے سبب ایمرجنسی میں آنے والے زخمیوں کو اکثر ابتدائی طبی امداد کے بعد فوراً حیدرآباد يا کراچی ریفر کر دیا جاتا ہے، جس سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی عدم حاضری: اسپتال میں بعض طبی عملے اور ماہرین کی غیر حاضری کے باعث آنے والے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیرا میڈیکل اسٹاف سے اپیل اور مل جل کر کام کرنے کا عزم پریس کانفرنس کے دوران ایس ٹی پی کے رہنماؤں نے اسپتال میں فرائض سرانجام دینے والے پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسنگ عملے اور ذیلی شعبہ جات کے ملازمین پر زور دیا کہ وہ اس جدوجہد کو اپنے خلاف نہ سمجھیں۔ انہوں نے عملے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپتال میں جاری مبینہ بدعنوانی، کرپشن اور انتظامی خرابیوں کے خلاف آگے آئیں اور اصلاحات کی اس پرامن تحریک میں عوام کا ساتھ دیں۔ رہنماؤں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اکثر و بیشتر نیچے طبقے کے ملازمین بھی خراب انتظامی ڈھانچے کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر پیرا میڈیکل اسٹاف اور عوام ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اصلاحات کی بات کریں گے تو اس سے نہ صرف اسپتال کا ماحول بہتر ہوگا بلکہ ملازمین کو کام کرنے کا سازگار ماحول بھی میسر آئے گا۔ اہم نقطہ / شعبہدرپیش چیلنجایس ٹی پی کا مطالبہادویات کی فراہمیباہر سے خریداری کا دباؤاسپتال کی ڈسپنسری سے مفت و معیاری ادویات کا قیامایمرجنسی سہولیاتحیدرآباد و کراچی کی جانب ریفرلٹراما سینٹر کی مکمل فعالی اور لائف سپورٹ کا قیاملیبارٹری و ٹیسٹغیر فعال مشینری اور تاخیرتمام تشخیصی ٹیسٹوں کی بلا تاخیر مفت فراہمیانتظامی شفافیتبدعنوانی کے مبینہ الزاماتآزادانہ انکوائری اور کرپشن سے پاک نظام کا نفاذ 13 اکتوبر کی پیدل ریلی کے خد و خال اور لائحہ عمل ایس ٹی پی جامشورو نے اپنے لائحہ عمل کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ 13 اکتوبر کو ایڈمور پمپ کوٹری سے ایک تاریخی اور پرامن پیدل ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس ریلی کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں: پرامن اجتماع: یہ ریلی مکمل طور پر جمہوری، آئینی اور پرامن حدود کے اندر رہتے ہوئے نکالی جائے گی تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی آمد و رفت میں دشواری نہ ہو۔ عوامی اور سیاسی شمولیت: ریلی میں نہ صرف ایس ٹی پی کے کارکنان بلکہ کوٹری کی سول سوسائٹی، تاجر برادری، محنت کشوں اور عام شہریوں کو بڑی تعداد میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اربابِ اختیار کی توجہ: اس پیدل مارس کا بنیادی مقصد سندھ حکومت، محکمۂ صحت سندھ اور ضلع جامشورو کی انتظامیہ کی توجہ اس سنگین عوامی معاملے کی طرف مبذول کرانا ہے۔ مستقبل کے امکانات اور سماجی اثرات کوٹری اور جامشورو میں صحت کا شعبہ عرصے سے عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔ ایک صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے کوٹری کو ایک بہترین صحت کے مرکز کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ایس ٹی پی کی یہ تحریک متعلقہ حکام کو ٹھوس اقدامات کرنے پر مجبور کرتی ہے تو اس سے ہزاروں خاندانوں کو ریلیف مل سکتا ہے۔ صحافتی تجزیے کے مطابق، اگر صوبائی حکومت اور محکمۂ صحت نے بروقت اس احتجاج کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا اور اسپتال کی انتظامی حالت میں سدھار لانے کے لیے فوری عملی قدم نہ اٹھائے، تو یہ معاملہ مزید طول پکڑ سکتا ہے اور آئندہ دنوں میں عوام اور انتظامیہ کے درمیان تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایس ٹی پی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے اختتام پر اپنے اس عزم کو دوہرایا کہ وہ کوٹری کے عوام کو ان کا حقِ صحت دلوانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور 13 اکتوبر کی ریلی اس جدوجہد کا ایک نیا باب ثابت ہوگی۔ Post navigation ہنزہ کے مقام ششکٹ گوجال میں خوفناک ٹریفک حادثہ: ٹی زیڈ گاڑی گھائی میں جا گری، ایک شخص جاں بحق