اہم نکات عوامی دورہ و تعزیتیں: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے انتخابی حلقے بھان سیدآباد کا ایک روزہ دورہ کیا اور مختلف مقامات پر تعزیتی بیٹھکوں میں شرکت کی۔ سیاسی مذاکرات پر موقف: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پیپلز پارٹی کے جمہوریت پر یقین اور بلاول بھٹو زرداری کی حکومت-اپوزیشن مذاکراتی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ ترقیاتی منصوبے و انتظامی غفلت: حیدرآباد-سکھر موٹروے پر عملی پیش رفت پر زور دیا اور شہروں میں کھلے گٹروں جیسے حادثات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ مقامی مسائل اور بجلی کا بحران: دورے کے دوران گاؤں کرمپور سمیت اطراف کے علاقوں میں بجلی کی معطلی پر عوام کی شدید شکایات سامنے آئیں۔ جامشورو (خاص رپورٹ: محمد نصیر ساگر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے انتخابی حلقے بھان سیدآباد کا ایک روزہ تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے حلقے کی اہم شخصیات، قریبی سوگوار خاندانوں اور شہریوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کا بنیادی مقصد تعزیت اور احوال پرسی تھا، تاہم اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، وفاقی روڈ نیٹ ورک، اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ دورے کی شروعات پر بھان سیدآباد پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری اور ایس ایس پی محمد ظفر صدیق چھانگا نے انتظامی و پولیس افسران کے ہمراہ وزیراعلیٰ کا رسمی استقبال کیا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان وزیراعلیٰ کا قافلہ حلقے کے مختلف دیہات کی جانب روانہ ہوا۔ تعزیتی ملاقاتیں اور عوامی احوال پرسی وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے دورے کے دوران سب سے پہلے گاؤں مناہیوں کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اپنے دیرینہ و قریبی دوست شمن راہپوٹو سے ان کے کزن عثمان راہپوٹو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ مراد علی شاہ نے مرحوم کی المغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں، انہوں نے درج ذیل مقامات پر تعزیتی بیٹھکوں میں شرکت کی: ویہڑ شریف: پیر آف ویہڑ شریف شفیق احمد ویہڑائی سے ملاقات کی اور ان کے ماموں کی رحلت پر غم کا اظہار کیا۔ ٹلٹی: ایڈووکیٹ عبدالسلام راہپوٹو سے ان کے بھائی عبدالحمید راہپوٹو کے انتقال پر تعزیت کی۔ گاؤں آبساںی: وڈیرے ذوالفقار پنہور کے رہائش گاہ پہنچے اور ان کے رشتہ دار کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی۔ ان تمام ملاقاتوں کا مقصد اپنے حلقے کے ووٹرز اور معززین کے ساتھ مشکل گھڑی میں یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ سیاسی صورتحال، مذاکرات اور جمہوری اصول گاؤں مناہیوں میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) روز اول سے جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی اور افہام و تفہیم پر یقین رکھتی ہے۔ “پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔ تمام تر سیاسی تناؤ کے باوجود ہماری قیادت نے جمہوری اور سیاسی راستے کو کبھی ترک نہیں کیا۔” — سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ سندھ انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھلانے اور بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھانے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکراتی نشستوں کے نتیجے میں بعض پیچیدہ مسائل پر مثبت پیش رفت ہوئی، تاہم بات چیت کے نتائج تمام تر شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو غیر معمولی اور نامناسب اقدامات کے بجائے آئینی و سیاسی بات چیت کے ذریعے ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست کو ضرورت کے مطابق سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ حیدرآباد-سکھر موٹروے اور روڈ نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ وفاقی وزیر علیم خان کے حالیہ بیانات اور مواصلاتی منصوبوں پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سڑکوں اور قومی شاہراہوں کا قائم ہونا سندھ کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے حیدرآباد-سکھر موٹروے (M-6) کی تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے اعلانات اور افتتاحی تقاریب ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ کاغذی کارروائیوں اور محض افتتاحی تختیاں لگانے کے بجائے زمینی سطح پر سڑک کی تعمیر کا عملی کام شروع کیا جائے۔ سندھ کے لیے یہ موٹروے محض ایک سڑک نہیں بلکہ لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے جو کراچی کی بندرگاہ کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے۔ شہری اور انتظامی غفلت: گٹر کے حادثات پر برہمی صوبائی حکومت کے سربراہ نے شہری مسائل اور میونسپل اداروں کی نااہلی پر کھل کر بات کی۔ سندھ کے مختلف شہروں بالخصوص کراچی، سیہون اور بھان سیدآباد میں کھلے گٹروں اور نالوں میں معصوم بچوں کے گرنے کے افسوسناک واقعات پر گہری تشویش اور برہمی کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اس طرح کے حادثات انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہیں اور حکومت کسی بھی صورت میں ایسے واقعات کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ بلدیاتی اداروں اور ڈسٹرکٹ کونسلز کو احکامات جاری کیے کہ اپنے اپنے علاقوں میں تمام کھلے گٹروں پر فوری طور پر ڈھکن لگائے جائیں اور انتظامی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ عوامی مسائل: بجلی کا بحران اور کرمپور کے رہائشیوں کی شکایات جہاں ایک طرف وزیراعلیٰ سندھ اپنے سیاسی اور انتظامی پیغامات دے رہے تھے، وہیں دورے کے دوران عوامی سطح پر انتظامی کوتاہیوں کی نشان دہی بھی ہوئی۔ گاؤں کرمپور سمیت اطراف کے مختلف علاقوں میں وزیراعلیٰ کی موجودگی کے باوجود طویل عرصے سے بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ مقامی شہریوں اور رہائشیوں نے اس صورتحال پر سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرمی اور حبس کے موسم میں ساراسارا دن بجلی غائب رہنا معمول بن چکا ہے۔ کرمپور کے مکینوں نے حیسکو (HESCO) اور مقامی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے انتخابی حلقے کے بنیادی مسائل بالخصوص لوڈشیڈنگ اور بجلی کے لوکل ٹرانسفارمرز کی خرابی کا فوری نوٹس لیں۔ تجزیہ و پیش منظر: عوامی توقعات اور حکومتی چیلنجز صحافتی اور سیاسی نقطہ نظر سے مراد علی شاہ کا یہ دورہ اپنے ووٹرز سے رابطہ بحال رکھنے کا ایک ذریعہ تو تھا، لیکن اس نے سندھ کے بنیادی انفراسٹرکچر کے گہرے مسائل کو بھی نمایاں کیا ہے۔ ایک طرف جہاں صوبائی قیادت وفاق سے حیدرآباد-سکھر موٹروے جیسے بڑے منصوبوں کی جلد مکمل ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے، وہیں مقامی سطح پر بنیادی سہولیات جیسے کہ بجلی کی فراہمی، صاف پانی اور گٹروں کا مناسب نظام نہ ہونا عوامی سطح پر تشویش کا سبب ہے۔ وزیراعلیٰ کے اس دورے کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا مقامی انتظامیہ اور وفاقی ادارے ان اٹھائے گئے مسائل اور عوامی شکایات پر فوری عملی اقدامات کرتے ہیں یا یہ دعوے بھی محض روایتی دوروں تک محدود رہیں گے۔ Post navigation کوٹری: ڈی ایچ کیو اسپتال میں اصلاحات اور مریضوں کے حقوق کے لیے ایس ٹی پی کا 13 اکتوبر کو پیدل ریلی کا اعلان خيبرپختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز اور احتجاجی تحرک: گورنر فیصل کریم کنڈی کا اعلیٰ سطح اجلاس، اہم ہدایات جاری