Preloader
forcibly recruiting boys as young as 15

اہم نکات:

  • شمالی ایتھوپیا میں کشیدگی: تیگرائے کے خطے میں دوبارہ سے مسلح تصادم بھڑک اٹھنے کی وجہ سے شدید انسانی بحران کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
  • جبری بھرتی کے واقعات: مسلح گروہوں کے نئے اتحاد کی جانب سے گلی محلوں سے مردوں اور کمسن لڑکوں کو زبردستی اٹھا کر فوج میں شامل کرنے کی تشویشناک اطلاعات۔
  • شہریوں کی نقل مکانی: پکڑ دھکڑ اور جنگ کے خوف سے ہزاروں سویلینز اور خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف فرار ہونے پر مجبور۔
  • عالمی برادری کی تشویش: اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں اور حقوقِ انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہرے تحفظات۔

ادیس ابابا / میکیلے: افریقہ کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک ایتھوپیا کے شمالی خطے تیگرائے میں جنگ کی راکھ سے ایک بار پھر تشدد کی ہولناک چنگاریاں نکلنے لگی ہیں۔ خطے میں مسلح گروہوں کے ایک نئے اتحاد کے وجود میں آنے اور لڑائی میں شدت کے بعد انسانی بحران کی ایک اور سنگین لہر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک اطلاعات تیگرائے کی گلیوں اور سڑکوں سے آ رہی ہیں، جہاں مسلح جنگجوؤں کی جانب سے مردوں اور نوعمر لڑکوں کو زبردستی پکڑ کر اپنے صفوں میں شامل کرنے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔

ان واقعات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے اور عام شہری، بالخصوص نوجوان، گرفتاری اور جنگ کا ایندھن بننے سے بچنے کے لیے گھروں کو تالے لگا کر نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔

سڑکوں سے دھر پکڑ اور جبری بھرتیوں کی بھیانک صورتحال

مقام مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی رپورٹس کے مطابق، تیگرائے کے مختلف قصبوں اور دیہاتوں میں حالت انتہائی کشیدہ ہے۔ مسلح گروہوں کا نیا اتحاد گلیوں، مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں میں چھاپے مار رہا ہے جہاں 15 سے 40 سال کی عمر کے مردوں اور کمسن لڑکوں کو زبردستی گاڑیوں میں بھر کر نامعلوم مقامات پر قائم تربیتی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جو لوگ یا خاندان اس جبری بھرتی کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال نے نوجوانوں کو اپنے گھروں میں چھپنے یا رات کی تاریکی میں دشوار گزار راستوں سے دوسرے محفوظ علاقوں یا ہمسایہ ممالک کی سرحدوں کی طرف فرار ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

ایک مقامی شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:

“یہاں کا ماحول خوفناک ہے۔ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی نوجوان لڑکا ہے تو مسلح افراد کسی بھی وقت دروازہ توڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن راستے بند ہیں۔”

پس منظر: تیگرائے تنازعہ کا تاریخی تسلسل

تیگرائے کے اس خونی تنازعے کا آغاز نومبر 2020ء میں اس وقت ہوا تھا جب ایتھوپیا کی وفاقی حکومت اور تیگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ (TPLF) کے درمیان شدید مسلح جنگ چھڑ گئی۔ دو سال تک جاری رہنے والی اس خونریز جنگ نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا اور لاکھوں افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔

اگرچہ نومبر 2022ء میں جنوبی افریقہ میں دونوں فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا تھا، لیکن اس کے مکمل نفاذ میں تاخیر، مقامی عسکری گروہوں کی عدم اطمینان، اور زمینی سطح پر وسائل کے تنازعات نے امن کے عمل کو مفلوج کر دیا۔ اب ایک نئے مسلح اتحاد کے ابھرنے نے امن معاہدے کے اثرات کو زائل کر کے ایک بار پھر خطے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

انسان دوست بحران اور اعداد و شمار کی سنگینی

تازہ ترین تصادم اور جبری نقل مکانی کے باعث پہلے سے نازک انسانی صورتحال انتہائی دردناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ متعدد بنیادی خدمات معطل ہیں اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

تازہ ترین رپورٹ شدہ ڈیٹا کے مطابق صورتحال کی ابتری درج ذیل ہے:

  • متاثرہ آبادی: شمالی ایتھوپیا میں 50 لاکھ سے زائد افراد کو فوری طور پر خوراک اور طبی امداد کی ضرورت ہے۔
  • نئے بے گھر افراد: حالیہ جھڑپوں اور جبری بھرتی کے ڈر سے گزشتہ چند ہفتوں میں 1 لاکھ سے زائد شہری نئے سرے سے بے گھر ہوئے ہیں۔
  • قحط کا خطرہ: فصلوں کی تباہی اور امدادی راستوں کی بندش سے خطے کے 30 فیصد سے زائد حصے میں قحط کی صورتحال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
  • تعلیمی اداروں پر اثر: جبری بھرتی کے خوف سے 80 فیصد کے قریب ہائی سکول کے طلبہ نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے اور عمارتیں ویران پڑی ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کا ردِعمل

اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے ایتھوپیا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کریں اور کمسن بچوں اور سویلینز کی جبری بھرتی کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں۔

عالمی برادری کی جانب سے مندرجہ ذیل مطالبات سامنے آئے ہیں:

  1. جبری بھرتیوں پر پابندی: تمام مسلح گروہ بچوں اور عام شہریوں کو زبردستی جنگ میں دھکیلنا بند کریں۔
  2. امدادی راہداریوں کی بحالی: متاثرہ علاقوں تک خوراک اور طبی سامان کی بلا تعطل منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔
  3. امن معاہدے کی پاسداری: 2022ء کے پریٹوریا امن معاہدے کے تمام نکات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا دائرہ کار مزید پھیلا تو افریقہ کے اس پورے خطے (شاخِ افریقہ / Horn of Africa) کا استحکام شدید متاثر ہوگا جس کے اثرات سرحد پار دیگر ممالک تک محسوس کیے جائیں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ اور درپیش خدشات

ایتھوپیا کے اس تازہ بحران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صرف کاغذات پر دستخط کر دینے سے پائیدار امن قائم نہیں ہوتا جب تک کہ علاقے کے بنیادی مسائل اور عسکری گروہوں کے خاتمے پر توجہ نہ دی جائے۔ جبری بھرتی کا یہ نیا سلسلہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی تباہی کا سبب بھی بن رہا ہے۔

اگر ایتھوپیا کی وفاقی حکومت اور علاقائی طاقتوں نے فوری طور پر مداخلت کر کے صورتحال کو کنٹرول نہ کیا اور مظلوم شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کیا، تو تیگرائے میں ایک بار پھر انسان دوست تباہی کا نیا باب رقم ہو سکتا ہے جس کا خمیادہ دہائیوں تک عام سویلینز کو بھگتنا پڑے گا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔