Preloader
Female maid brutally tortured by Shahdara Police in Lahore

اہم نکات:

  • تھانے میں تشدد کا واقعہ: لاہور کے شاہدرہ ٹاؤن تھانے میں تفتیش کے نام پر ایک گھریلو ملازمہ کو مرد اہلکاروں کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنانے کی دردناک رپورٹ سامنے آئی ہے۔
  • خلافِ قانون اقدامات: ملازمہ کو کمرے میں بند کر کے بستر سے باندھا گیا اور مبینہ طور پر جسمانی اذیت دی گئی، جس سے پولیس کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔
  • انسانی حقوق کی خلاف ورزی: واقعے نے پولیس تھانوں میں خواتین کی حفاظت، تفتیش کے دوران قانون کی پاسداری اور لیڈی پولیس افسران کی عدم موجودگی کے معاملے کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔
  • عوامی اور قانون سازوں کا مطالبہ: اعلیٰ حکام سے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحتیقات، ملوث اہلکاروں کی معطلی اور ان کے خلاف فوری پرچہ درج کرنے کا مطالبہ۔

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن کے تھانے سے ایک انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں تفتیش کے نام پر ایک گھریلو ملازمہ کو پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کردہ تفصیلات کے مطابق، شاہدرہ ٹاؤن تھانے کے مرد پولیس اہلکاروں نے کارروائی کے نام پر خاتون کو ایک کمرے میں بند کیا، اسے بستر سے باندھا اور مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ واقعہ نہ صرف قانون کی بالادستی پر ایک سوالیہ نشان ہے بلکہ اس نے پولیس اصلاحات اور تھانوں میں عام شہریوں، بالخصوص خواتین اور معاشی طور پر کمزور طبقات کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں کے متعلق عوامی تشویش کو شدید بڑھا دیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات اور تفتیش کا تناظر

ذرائع اور موصولہ تفصیلات کے مطابق، متاثرہ خاتون ایک مقامی گھر میں بطور ملازمہ کام کرتی تھی۔ کسی مبینہ چوری یا تنازع کی شکایت پر پولیس نے اسے شاہدرہ ٹاؤن تھانے منتقل کیا۔ تاہم، قانون کے مطابق خواتین سے تفتیش کے لیے لیڈی پولیس اہلکاروں کی موجودگی اور طے شدہ قانونی ضوابط (Protocols) کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔

تھانے کے اندر خاتون کو ایک الگ کمرے میں محبوس رکھا گیا، جہاں مرد پولیس اہلکاروں نے زبردستی اعترافِ جرم کروانے کے لیے تشدد کا سہارا لیا۔ خاتون کو بستر سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے اس عمل کی خبر سامنے آتے ہی علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔

متاثرہ خاتون کے لواحقین کا کہنا ہے کہ غریب اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور پولیس انتظامیہ معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

قانونی ضوابط اور پولیس کوڈ آف کنڈکٹ کی دھجیاں

پاکستان کے تعزیراتی قوانین اور پولیس آرڈر 2002 کے تحت کسی بھی خاتون ملزمہ یا مشتبہ شخص کے ساتھ تفتیش کے واضح اور سخت اصول و ضوابط موجود ہیں:

  1. لیڈی آفیسرز کی لازمی موجودگی: کسی بھی خاتون کو تھانے منتقل کرنے، حراست میں رکھنے یا اس سے تفتیش کرنے کے لیے لیڈی پولیس اہلکار کا ہونا آئینی و قانونی طور پر لازمی ہے۔
  2. غیر قانونی حراست کی ممانعت: سورج غروب ہونے کے بعد قانونی اجازت کے بغیر خاتون کو تھانے میں رکھنا یا رات کے وقت حراست میں تشدد کرنا سنگین جرم ہے۔
  3. جسمانی اذیّت کی ممانعت: تعزیراتِ پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے مطابق تشدد (Custodial Torture) کے ذریعے اعترافِ جرم کروانا قانوناً ممنوع ہے۔

شاہدرہ ٹاؤن کے واقعے میں ان تمام بنیادی اور انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے، جو کہ پولیسنگ کے نظام میں موجود انتظامی اور اخلاقی خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے۔

اعداد و شمار: حراستی تشدد اور ملازمین کا استحصال

پاکستان میں گھریلو ملازمین اور بالخصوص پولیس حراست میں تشدد کے واقعات کے حوالے سے حقوقِ انسانی کے اداروں کے جمع کردہ اعداد و شمار تشویشناک صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں:

  • حراستی تشدد کے واقعات: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی سالانہ رپورٹس کے مطابق، تھانوں میں تفتیش کے دوران تشدد اور ناروا سلوک کی شکایتوں میں سے 60 فیصد سے زائد کا تعلق سماجی طور پر کمزور اور غریب طبقات سے ہوتا ہے۔
  • گھریلو ملازمین کی معاشی و قانونی بیچارگی: لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں کام کرنے والے گھریلو ملازمین میں سے 70 فیصد سے زائد اپنے بنیادی قانونی حقوق اور پولیس کے دائرہ کار سے ناواقف ہوتے ہیں، جس کا فائدہ اکثر بااثر مالکان اور بدعنوان عناصر اٹھاتے ہیں۔
  • خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات: تھانوں میں لیڈی اہلکاروں کی کمی کا تناسب یہ ہے کہ کل پولیس فورس میں خواتین کی شرح 2 سے 3 فیصد کے قریب ہے، جس کی وجہ سے خواتین سے تفتیش کے دوران اکثر قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

پس منظر: تھانہ کلچر اور اصلاحات کا ادھورا خواب

پنجاب میں ‘تھانہ کلچر’ کی تبدیلی اور پولیس کو عوام دوست بنانے کے دعوے اور اعلانات طویل عرصے سے کیے جا رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ماڈل تھانوں کے قیام اور ‘خزمت مراکز’ جیسے اقدامات متعارف کروائے گئے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ نچلی سطح پر رویوں کی تبدیلی کا عمل اب بھی سست روی کا شکار ہے۔

شاہدرہ ٹاؤن جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب تک تھانوں میں احتساب کا سخت نظام (Internal Accountability Mechanism) قائم نہیں ہوگا اور قانون توڑنے والے پولیس اہلکاروں کو فوری سزائیں نہیں ملیں گی، تب تک شہریوں کا اعتماد بحال ہونا ممکن نہیں۔

خصوصاً گھریلو ملازمین جو کہ اکثر زبردستی کے جھوٹے مقدمات اور بااثر افراد کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں، ان کے تحفظ کے لیے کوئی جامع اور فعال قانونی چھتری موجود نہیں ہے۔

عوامی اور سول سوسائٹی کا ردِعمل

اس واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور وکلا برادری کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف سماجی رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  1. فوری ایف آئی آر: واقعے میں ملوث مرد پولیس اہلکاروں کے خلاف حراستی تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ (FIR) درج کیا جائے۔
  2. غیر جانبدارانہ طبی معائنہ: متاثرہ خاتون کا فوری میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنہ کروایا جائے تا کہ تشدد کی نوعیت کا قانونی ثبوت پیش کیا جا سکے۔
  3. اعلیٰ سطحی انکوائری: واقعے کی شفاف تحتیقات کے لیے ایس پی یا اس سے اعلیٰ درجے کے افسر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔
  4. حفاظت کی ضمانت: متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کو پولیس کی جانب سے ممکنہ انتقامی کارروائی یا دباؤ سے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

ایڈیٹوریل جائزہ

لاہور کے شاہدرہ ٹاؤن تھانے کا یہ واقعہ محض ایک انفرادی جرم نہیں بلکہ پولیس کے محکمے میں گہرے جڑے ہوئے نظامی نقائص کا آئینہ دار ہے۔ کسی بھی تہذیب یافتہ اور قانون پسند معاشرے میں تفتیش کے نام پر کسی شہری، بالخصوص عورت، کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر جسمانی اذیت دینا ہرگز قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔

عدل و انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود سب سے پہلے قانون کے پابند بنیں۔ اگر شاہدرہ ٹاؤن واقعے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری اور عبرتناک کارروائی نہ کی گئی تو اس سے ناصرف پولیس فورس کا امیج مزید متاثر ہوگا بلکہ عوام کا قانونی نظام سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔ اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہم یقینی بنائیں۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔