Preloader
District Apex committee met for NAP

(رپورٹ: محمد نصیر ساگر)

اہم نکات

  • اعلیٰ سطحی اجلاس: جامشورو میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری کی صدارت میں ڈی سی آفس کے دربار ہال میں منعقد ہوا۔
  • جامع جائزہ: اجلاس میں ضلع بھر میں سیکیورٹی، غیر قانونی سرگرمیوں، نان کسٹم پیڈ سامان، بجلی چوری، اور غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
  • شاہراہوں کے حوالے سے ہدایت: موٹروے اور ضلعی پولیس کو ہائی ویز پر چیکنگ سخت کرنے، غیر قانونی یوٹرنز ختم کرنے اور بھکاریوں کی روک تھام کا حکم دیا گیا۔
  • ادارتی کوآرڈینیشن: ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کے باہمی تعاون کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ماہانہ کارکردگی رپورٹس صوبائی و وفاقی سطح پر بھیجی جا رہی ہیں۔

ڈی سی آفس جامشورو میں ایپکس کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس

ضلع جامشورو میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن ایپکس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ڈی سی آفس کے دربار ہال میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد ضلع جامشورو میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، قانون کی بالادستی، اور مختلف سرکاری و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گزشتہ ماہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔

اجلاس میں سول، سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکاء میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر-II محمد طارق کاکا، مہران یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر اور ایپکس کمیٹی کے رکن پروفیسر فرمان علی شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اللہ بچایو لاکو، اور ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سیف ہاؤس انچارج سیدہ قرۃ العین شاہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، محکمہ زراعت، محکمہ خوراک، حیسکو (HESCO)، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، موٹروے پولیس، ضلعی پولیس، پاکستان رینجرز اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

غیر قانونی سرگرمیوں اور نان کسٹم پیڈ اشیاء کے خلاف یکساں کارروائی

اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے گزشتہ ماہ کے دوران ضلع میں جرائم پیشہ عناصر، نان کسٹم پیڈ اشیاء، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ لی۔ صوبائی اور وفاقی اداروں کے افسران نے اپنے اپنے شعبوں میں پیش رفت اور حاصل شدہ نتائج کی رپورٹس پیش کیں۔

ضلعی پولیس کی جانب سے امن و امان کو برقرار رکھنے اور مجرمانہ عناصر کو نکیل ڈالنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ بغیر کسی تفریق کے نمٹا جائے اور ضلع میں سیکیورٹی کے تمام انتظامات کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔

شاہراہوں اور ٹریفک کا نظام: موٹروے پولیس کے لیے سخت احکامات

جامشورو کیونکہ سندھ کا ایک اہم جغرافیائی مرکز ہے جہاں سے موٹروے اور قومی شاہراہیں گزرتی ہیں، اس لیے شاہراہوں کی حفاظت اور روانی پر بالخصوص غور کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے موٹروے پولیس اور ضلعی پولیس کو ہدایت کی کہ:

  • ٹریفک قوانین کا نفاذ: ہائی ویز پر ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور گاڑیوں کی مؤثر چیکنگ کی جائے۔
  • غیر قانونی یوٹرنز کا خاتمہ: حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہائی ویز پر قائم تمام غیر قانونی اور خود ساختہ یوٹرنز فوری ختم کیے جائیں۔
  • ٹریفک کی روانی اور بھکاریوں کی روک تھام: شاہراہوں اور اہم چوراہوں پر بھکاریوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔

مدارس، ذخیرہ اندوزی اور بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن

اجلاس کے دوران قومی سلامتی اور معاشی نظم و ضبط کے حوالے سے بھی اہم امور پر غور کیا گیا:

  1. غیر رجسٹرڈ مدارس: نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں ضلع کے غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور ان کے اندراج کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
  2. گندم کی ذخیرہ اندوزی: محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا نقطہ وار جائزہ لیا گیا۔
  3. بجلی چوری اور کنڈا مافیا: حیسکو حکام نے بجلی چوری کے خلاف جاری مہم اور کنڈا مافیا کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات پیش کیں، جس پر ڈپٹی کمشنر نے اس کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرنے کی تاکید کی۔

اجلاس کے اہم فیصلات اور حکومتی و ادارے جاتی امور کی بریفنگ (ڈیٹا کے مطابق)

شعبہ / ادارہجائزہ و احکامات
قانون نافذ کرنے والے ادارےجرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور سیکیورٹی کی بہتری
موٹروے و ضلعی پولیسہائی ویز پر چیکنگ، غیر قانونی یوٹرنز کا خاتمہ اور بھکاریوں کی روک تھام
محکمہ خوراکگندم کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف اقدامات
حیسکو (HESCO)بجلی چوری اور کنڈا مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی تسلسل
ضلعی انتظامیہغیر رجسٹرڈ مدارس کے ڈیٹا اور رجسٹریشن کا جائزہ

ادارتی کوآرڈینیشن اور احتساب: ڈپٹی کمشنر کا خطاب

اجلاس کے اختتام پر اپنے صدارتی خطاب میں ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ، امن کا قیام اور جرائم کا خاتمہ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تمام اداروں کے درمیان مربوط رابطے (Inter-agency Coordination) کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ:

“ضلع میں قانون کی بالادستی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے اداروں کے درمیان بہترین کوآرڈینیشن ناگزیر ہے۔ کسی بھی ادارے یا افسر کی جانب سے اپنے فرائض میں غفلت یا لاپرواہی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن ایپکس کمیٹی کے اجلاس ہر ماہ باقاعدگی سے دو بار منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان اجلاسوں کی تفصیلی رپورٹس اور اداروں کی کارکردگی کی سمری صوبائی اور وفاقی ایپکس کمیٹیوں کو ارسال کی جاتی ہے تاکہ ضلع جامشورو میں قانون کی بالادستی اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نتائج کو اعلیٰ سطح پر مانیٹر کیا جا سکے۔

پس منظر، موجودہ صورتحال اور اثرات (ایڈیٹوریل تجزیہ)

پس منظر: نیشنل ایکشن پلان کا قیام ملک میں دہشت گردی، جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا، جس کے تحت اضلاع کی سطح پر ایپکس کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی ادارے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر فیصلے کر سکیں۔ جامشورو چونکہ ایک تعلیمی اور صنعتی ضلع ہونے کے ساتھ ساتھ سندھ اور دیگر صوبوں کو ملانے والی مرکزی شاہراہوں کا سنگم ہے، اس لیے یہاں امن و امان اور ٹریفک کنٹرول انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

موجودہ صورتحال: ایپکس کمیٹی کے باقاعدہ ماہانہ انعقاد سے ضلعی انتظامیہ، پولیس، حیسکو اور دیگر محکموں کے درمیان باہمی رابطہ مضبوط ہوا ہے۔ حالیہ اقدامات کے بعد جہاں ایک طرف بجلی چوری اور نان کسٹم اشیاء کے خلاف کارروائیاں تیز ہوئی ہیں، وہیں شاہراہوں پر ٹریفک کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مستقبل کے اثرات:

  • جرائم میں کمی: سیکیورٹی اور پولیس کی مؤثر چیکنگ سے ضلع میں جرائم کی شرح میں کمی متوقع ہے۔
  • حادثات سے بچاؤ: ہائی ویز سے غیر قانونی یوٹرنز کے خاتمے سے ٹریفک حادثات پر قابو پایا جا سکے گا۔
  • معاشی و انتظامی بہتری: بجلی چوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف ایکشن سے عام عوام اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔
  • شفافیت: اداروں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے صوبائی و وفاقی سطح پر رپورٹ ہونا تمام محکموں کو ان کے کام کا جوابدہ بناتا ہے۔