اہم نکات (خلاصہ) تقریب کا انعقاد: جیکب آباد کے مولانا عبیداللہ سندھی ہال میں جمعیت طلبہ اسلام (جے ٹی آئی) کا 57واں یومِ تاسیس شاندار انداز میں منایا گیا۔ اصلی پیغام: تعلیم کا مقصد محض ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ فکر، کردار، اخلاق اور شخصیت میں مثبت اور انقلابی تبدیلی لانا ہے۔ اسلاف کا مشن: رہنماؤں نے مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلنے کا عزم دہرایا۔ جدید چیلنجز کا مقابلہ: تعلیمی اداروں میں لادینیت اور اخلاقی زوال کے مقابلے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور اسلامی تعلیمات کے امتزاج کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ جیکب آباد (خاص رپورٹ: اے جی بلوچ) ملک بھر کی طرح سندھ کے تاریخی شہر جیکب آباد میں بھی جمعیت طلبہ اسلام (جے ٹی آئی) کا 57واں یومِ تاسیس نہایت جوش و خروش، تجدیدِ عزم اور وقار کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں ایک پروقار اور عظیم الشان تقریب کا انعقاد مولانا عبیداللہ سندھی ہال میں کیا گیا، جس میں جے یو آئی کے صوبائی و ضلاعی رہنماؤں، طلبہ نمائندگان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران رہنماؤں نے طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت، تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اسلاف کی تاریخ و قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ یومِ تاسیس: عزم، فخر اور تجدیدِ عہد کا دن تقریب سے اپنے اہم اور بصیرت افروز خطاب میں جمعیت علماء اسلام سندھ کے ممتاز رہنما ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا کہ جمعیت طلبہ اسلام صرف ایک طلبا تنظیم کا نام نہیں، بلکہ یہ نوجوانوں کی ایک ایسی منظم انقلابی تحریک ہے جس نے گزشتہ ساڑھے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے میں طلبا کے دلوں میں ایمان، انصاف، اسلامی اقدار، انسانیت اور اپنے وطن سے محبت کا جذبہ بیدار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن نوجوان نسل کے لیے محض ایک تقریب کا دن نہیں بلکہ یہ فخر، عزم اور تجدیدِ عہد کا دن ہے، جس میں ہم تنظیم کی 57 سالہ تاریخ، لازوال قربانیوں اور عظیم الشان مقاصد کو یاد کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انصاری کا مزید کہنا تھا: “جمعیت طلبہ اسلام کا بنیادی نصب العین طلبہ میں دینی شعور، اعلیٰ اخلاقی تربیت، علمی و تحقیقی صلاحیت اور انقلابی فکر پیدا کرنا ہے۔ ہم اپنے عظیم اسلاف—حضرت مجدد الف ثانی، امام شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا حسین احمد مدنی، اور سید تاج محمود امروٹی—کے فکر و مشن کے امین ہیں، جنہوں نے اپنی تمام تر زندگیاں دین اسلام اور وطنِ عزیز کی بلا لوث خدمت کے لیے وقف کر دیں۔” انہوں نے زور دیا کہ ان اکابرین نے سخت ترین حالات اور قید و بند کی صعوبتوں میں بھی حق و صداقت کا پرچم بلند رکھا اور کسی بھی باطل طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی زوال اور جے ٹی آئی کا کردار جمعیت طلبہ اسلام سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری وقار احمد بھٹو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں میں اخلاقی زوال، مادیت پرستی اور لادینیت کے رجحانات کا سامنا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے طلبہ کی دینی و روحانی تربیت انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ وقار احمد بھٹو نے واضح کیا کہ جے ٹی آئی کا مقصد ایک ایسا تعلیمی اور تحصیلی ماحول قائم کرنا ہے جہاں جدید سائنسی، سائنسی اور تکنیکی علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات، اعلیٰ اخلاقی قدروں اور انسانی ہمدردی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ہمارے اسلاف نے مالٹا کی جیلوں میں سخت ترین تکالیف کا سامنا کیا لیکن حق کے راستے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔ آج کے نوجوانوں کو بھی انہی روشن روایات کو اپناتے ہوئے علم، ایمان، اور کردار کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا ہوگا۔ تعلیم کا اصل مقصد: ڈگری نہیں بلکہ کردار اور مثبت تبدیلی جمیعت علماء اسلام کی مرکزی کونسل کے رکن مولانا عبدالجبار رند نے نوجوانوں اور بالخصوص طالب علموں کی توجہ تعلیم کے حقیقی مفہوم کی طرف مبذول کروائی۔ انہوں نے کہا کہ محض نصابی کتب کا مطالعہ کر لینا، کلاسوں میں حاضری لگا دینا، امتحانات پاس کرنا اور ڈگریاں حاصل کر لینا تعلیم کا حتمی مقصد ہرگز نہیں ہے۔ مولانا عبدالجبار رند کے مطابق: شخصیت سازی: تعلیم کا اصل مقصد انسان کی سوچ، فکر اور کردار میں مثبت، مثبت اور پائیدار تبدیلی لانا ہے۔ جدید ذرائع کی دستیابی: آج کے ڈیجیٹل دور میں طلبہ کے پاس یوٹیوب، آن لائن کورسز، ڈیجیٹل لائبریریاں اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسے جدید ترین ذرائع موجود ہیں۔ صلاحیتوں میں اضافہ: نوجوان ان جدید ذرائع کو تعمیری اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال کر کے اپنی سائنسی اور علمی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ جدید تعلیمی ضروریات: حفظ سے آگے تحقیق اور تخلیق کا سفر جے ٹی آئی ضلع جیکب آباد کے صدر محکم الدین بروہی نے موجودہ دور کے تعلیمی نظام پر تنقیدی اور اصلاحی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا بنیادی اور اہم ترین سوال یہ نہیں ہے کہ طلبہ کو “کیا” پڑھایا جا رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں “کس انداز” میں سکھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے تعلیمی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات پیش کیے: طریقہ تدریس میں تبدیلی: طلبہ کو صرف نوٹس لکھنے اور رٹا لگانے تک محدود نہ رکھا جائے۔ عملی تجربات: کلاس روم، لیبارٹری، جدید سافٹ ویئر اور عملی تجربات کے ذریعے علم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ تنقیدی سوچ: تعلیمی ماحول میں تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں، جدید ٹیکنالوجی، اور تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو بنیادی جگہ دی جائے۔ اسی تسلسل میں جے ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں—تاج محمود انصاری (نائب صدر و ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر)، مولاداد کھوسو، منیب الرحمٰن بروہی، مولانا محمد امین جکرانی، تقریب کے صدر فضل الرحمٰن مہر، محمد مزمل سومرو، محمد قاسم رند، اور مجاہد ثناء اللہ—نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ اگر تعلیمی اداروں اور جامعات میں تعلیم کو محض بلیک بورڈ اور چاک تک محدود رکھا گیا تو ہم 21ویں صدی کے تقاضوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ معیاری تعلیم وہ ہے جو طالب علم میں سوال پوچھنے، دلیل کے ساتھ بات کرنے، اور نئے خیالات پیدا کرنے کی ہمت پیدا کرے۔ پس منظر اور تجزیہ: طلبا تحریکوں کی اہمیت اور درپیش چیلنجز پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں طلبا تنظیموں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی اور اسلامی تشخص کی حفاظت تک، طلبا تحریکوں نے ہر دور میں ہراول دستے کا کام کیا ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی تکنیکی تبدیلیاں اور ڈیجیٹل انقلاب جہاں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع لا رہے ہیں، وہیں فکری انتشار، اخلاقی زوال اور مقصدیت کی کمی جیسے سنگین چیلنجز بھی پیدا کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں جمعیت طلبہ اسلام کا 57واں یومِ تاسیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روایتی دینی تنظیمیں بھی اب جدید دور کے چیلنجز، جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، تحقیق اور تکنیکی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہیں۔ جمعیت طلبہ اسلام کا بنیادی مقصد ایک ایسی متوازن اور باشعور نسل تیار کرنا دکھائی دیتا ہے جو: اپنے دینی عقائد اور اخلاقی اقدار پر مضبوطی سے قائم رہے۔ جدید سائنسی علوم اور تکنیکی مہارتوں سے مکمل آراستہ ہو۔ اپنے معاشرے اور ملک کے درپیش مسائل کو گہرائی سے سمجھے اور ان کا حل پیش کر سکے۔ اختتامی پیغام: نوجوانوں کے نام رہنمائی تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر اے جی انصاری نے حاضرین اور بالخصوص نوجوانوں کو ایک جذباتی اور حکمت سے بھرپور پیغام دیا: “اے نوجوانو! آپ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی امت کے مستقبل کے وارث، دین کے محافظ اور وطنِ عزیز پاکستان کے حقیقی معمار ہیں۔ آپ کا روشن مستقبل آپ کی علم سے محبت، مضبوط کردار، سخت محنت اور بیدار مغز شعور سے وابستہ ہے۔ جمعیت طلبہ اسلام کے اس مشنری قافلے میں شامل ہو کر دین و دنیا کی حقیقی کامیابی کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو علم کی اشاعت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیں اور اپنے اسلاف کی عظمت کو آگے بڑھائیں۔” تقریب کا اختتام ملک و ملت کی سلامتی، تعلیمی ترقی، اور نوجوان نسل کی ہدایت و کامیابی کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا۔ Post navigation گلگت بلتستان کے سرکاری ملازمین کے لیے بڑی راحت: ایڈہاک ریلیف اور ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی منظوری، نوٹیفکیشن جاری ہماری ریڈ لائن پاکستان افواجِ پاکستان ہے، پاک افواج کے تمام شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں