اہم نکات (خلاصہ) سرکاری دورہ: ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے یونیورسٹی آف سندھ کے معروف تحقیقی و ثقافتی ادارے ‘سندھالوجی’ کا دورہ کر کے لائبریری اور میوزیم کا جائزہ لیا۔ جامع بریفنگ: ڈائریکٹر سندھالوجی فیاض لطیف چانڈیو نے ڈپٹی کمشنر کو ادارے کے مختلف شعبوں، تاریخی نوادرات، مجسموں اور نادر کتب کے ذخیرے کے بارے میں تفصیلی آراستگی فراہم کی۔ تحقیق اور مطالعے کی اہمیت: ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ لائبریریاں طلبہ کی فکری صلاحیتوں کو نکھارنے اور علم کے فروغ کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ثقافتی پاسبانی: سندھالوجی کا میوزیم سندھ کی ہزاروں سال قدیم تاریخ، تہذیب اور شاندار روایات کو محفوظ کر کے نئی نسل تک منتقل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ جامشورو (خاص رپورٹ: محمد نصیر ساگر) ضلع جامشورو کی انتظامیہ اور تعلیمی و ثقافتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کے ممتاز تحقیقی و تاریخی ادارے “انسٹٹیوٹ آف سندھالوجی” (سندھالوجی) کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ادارے کے تعلیمی و تحقیقی شعبوں، مرکزی لائبریری اور تاریخی میوزیم کا معائنہ کیا اور وہاں موجود نایاب اشیاء اور تحقیقی مواد کی دیکھ بھال کا جائزہ لیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد علمی اور ثقافتی اداروں کی سرپرستی کو یقینی بنانا اور سندھ کے وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب سے جڑے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کو سراہنا تھا۔ سندھالوجی کی تاریخ، لائبریری اور میوزیم پر تفصیلی بریفنگ دورے کے موقع پر ڈائریکٹر سندھالوجی فیاض لطیف چانڈیو نے ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں ادارے کے طریقہ کار، خدمات اور تاریخ پر تفصیل سے بریفنگ دی۔ ڈائریکٹر سندھالوجی نے بتایا کہ سندھالوجی صرف ایک عمارت یا میوزیم کا نام نہیں بلکہ یہ سندھ کی تاریخ، ادب، موسیقی اور آثارِ قدیمہ کا ایک عظیم الشان خزانہ ہے، جہاں ہر سال ہزاروں طلبہ، محققین اور سیاح آتے ہیں۔ بریفنگ کے دوران درج ذیل امور اور شعبہ جات کی کارکردگی کو نمایاں کیا گیا: مرکزی لائبریری: سندھالوجی کی لائبریری میں تاریخ، تہذیب، ادب، فلسفے اور سیاسی و سماجی علوم پر ہزاروں نایاب اور قدیم کتب موجود ہیں۔ یونیورسٹی آف سندھ اور دیگر اداروں کے طلبہ یہاں سے اعلیٰ تعلیم اور پی ایچ ڈی (PhD) لیول کی تحقیق کے لیے مستند معلومات حاصل کرتے ہیں۔ تاریخی میوزیم: میوزیم میں سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، ثقافت، روایتی لباس، فنِ تعمیر، موسیقی کے قدیم آلات اور تاریخی شخصیات کی عکاسی کرنے والے انتہائی خوبصورت اور حقیقی پیشکش والے مجسمے (Galvanized Statues & Wax Figures) نصب ہیں۔ نوادرات اور تاریخی اثاثے: یہاں موئن جو دڑو سے لے کر اسلامی اور برطانوی ادوار تک کے تاریخی سکے، خطاطی کے نمونے اور نایاب دستاویزی مواد محفوظ کیا گیا ہے، جو آنے والے سیاحوں اور طلبہ کے لیے دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ لائبریریاں اور کتابوں کا مطالعہ: فکری نکھار کا ذریعہ سندھالوجی کے لائبریری سیکشن کے معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے طلبہ سے گفتگو کی اور مطالعے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کے ذرائع تیز ہو چکے ہیں، وہاں کتابوں سے حقیقی رشتہ برقرار رکھنا اور لائبریریوں کو آباد رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا: “لائبریریاں کسی بھی معاشرے میں علم، سائنسی تحقیق، اور فکری شعور کے فروغ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کتابوں کا باقاعدہ مطالعہ نہ صرف طالب علموں کی علمی وسعت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ان کی فکری و تنقیدی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں کتب بینی کی عادت کو مزید بیدار کریں۔” تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ میں سندھالوجی کا کردار میوزیم کی مختلف گیلریوں اور نوادرات کا جائزہ لیتے ہوئے غضنفر علی قادری نے سندھالوجی انتظامیہ کی کاوشوں کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی سرزمین علم، ادب، صوفیانہ فکر اور ایک عظیم تاریخ کی امین ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھالوجی جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے ہمارے قومی اثاثے ہیں۔ میوزیم کے ذریعے جدید نسل کو اپنی جڑوں اور اپنے آباؤ اجداد کی عظیم تہذیبی میراث سے جوڑنے میں مدد ملتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامشورو جو کہ سندھ کا تعلیمی مرکز (Educational Hub) کہلاتا ہے، وہاں انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ طالب علموں اور عام شہریوں کو ان تعلیمی و ثقافتی سائٹس تک بلا تعطل اور بہتر سہولیات کے ساتھ رسائی حاصل ہو۔ پس منظر اور تجزیہ: سندھالوجی کی علمی و ثقافتی اہمیت انسٹٹیوٹ آف سندھالوجی (جامشورو) کا قیام 1960ء کے عشرے میں عمل میں آیا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ سندھ کی تاریخ، لوک داستانوں، زبان اور ثقاقت پر تحریر و تحقیق کا سب سے معتبر مرکز بن کر ابھرا۔ اہم خصوصیات اور چیلنجز: تحقیقی مواد: اس ادارے نے سندھ کی تاریخ اور ادب پر سیکڑوں کتابیں اور مقالے شائع کیے ہیں۔ ثقافتی سیاحت: یہ میوزیم نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے آنے والے سفارت کاروں، محققین اور سیاحوں کے لیے ایک اہم ترین تعلیمی و سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ ضرورت: ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں نایاب نسخوں کی سیکیورٹی، تحفظ اور کیٹلاگ سازی (Cataloging) کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانا اور سرکاری سطح پر اس کی سرپرستی برقرار رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس پس منظر میں ضلاعی انتظامیہ کے سربراہ کا یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی ادارے تعلیمی اور تاریخی مراکز کی دیکھ بھال اور وہاں موجود نوادرات کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات اور نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مستقبل کے امکانات اور اختتامی کلمات دورے کے اختتام پر ڈائریکٹر سندھالوجی فیاض لطیف چانڈیو نے ڈپٹی کمشنر جامشورو کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ادارے کی جانب سے یادگاری تحائف اور کتابیں پیش کیں۔ ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے یقین دہانی کرائی کہ ضلاعی انتظامیہ جامشورو یونیورسٹی اور سندھالوجی جیسے تاریخی و تعلیمی اداروں کی ترقی، سلامتی اور بہتری کے لیے تمام تر ممکنہ تعاون جاری رکھے گی تاکہ آنے والی نسلیں اپنے شاندار تاریخی ورثے سے مستفید ہوتی رہیں۔ Post navigation عالمی یومِ آرتھرائٹس: جوڑوں کے امراض کو نظر انداز کرنا مستقل معذوری کا سبب بن سکتا ہے، لمس میں آگاہی سیمینار و ریلی اسلام آباد میں زندگی معمول پر آنے لگی: ایک ماہ سے کھڑے کنٹینرز ہٹانے کا عمل شروع، پولیس اور شہریوں کو بڑی راحت