اہم نکات (خلاصہ) تقریب کا انعقاد: لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) حیدرآباد کے ٹراما سینٹر میں عالمی یومِ آرتھرائٹس کے موقع پر آرتھوپیڈک شعبے کے زیرِ اہتمام آگاہی سیمینار اور ریلی منعقد کی گئی۔ بروقت علاج کی اہمیت: وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن کے مطابق جوڑوں کا درد معمولی بیماری نہیں، بروقت تشخیص نہ ہونے سے انسان دائمی معذوری کا شکار ہو سکتا ہے۔ عوامی رویے پر تشویش: ماہرینِ جراحت نے نشاندہی کی کہ لوگ دل و دماغ کی بیماریوں کا فوری علاج کراتے ہیں لیکن جوڑوں اور گھٹنوں کے امراض کو جان لیوا نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جامع احتیاطی تدابیر: ماہرین نے وزن میں کمی، مناسب فزیوتھراپی، متوازن ورزش اور معالج کے مشورے کے بغیر گھٹنوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالنے کی ہدایت کی۔ جامشورو / حیدرآباد (خصوصی رپورٹ: محمد نصیر ساگر) عالمی یومِ جوڑوں کے امراض (ورلڈ آرتھرائٹس ڈے) کے عالمی دن کی مناسبت سے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن کی خصوصی ہدایات پر ٹراما سینٹر لمس حیدرآباد میں ایک شاندار اور جامع آگاہی سیمینار اور واک/ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا بنیادی مقصد عوام الناس میں ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض، ان کی مختلف اقسام، بروقت تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے شعور و آگاہی بیدار کرنا تھا۔ ریلی اور سیمینار میں شعبہ آرتھوپیڈک سرجری کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فہیم میمن، سینئر اساتذہ، ماہرینِ جراحت اور طبی عملے سمیت مریضوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر طبی ماہرین نے عوام کو جوڑوں کے امراض سے جڑے تمام پہلوؤں پر تفصیلی و سائنسی معلومات فراہم کیں۔ صحت مند معاشرہ اور طبی آگاہی: وائس چانسلر کا پیغام وائس چانسلر لمس پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن نے اس اہم موقع پر اپنے جاری کردہ پریس بیان میں طبی آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صحت مند اور متحرک معاشرے کی تشکیل کے لیے بیماریوں کے علاج سے زیادہ ان سے بچاؤ اور عوام میں طبی شعور کا فروغ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں عام طور پر جوڑوں اور ہڈیوں کی تکلیف کو بڑھاپے کے ساتھ منسوب کر کے یا معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ وائس چانسلر کے مطابق: “جوڑوں کی بیماریوں کی اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص نہ کی جائے اور علاج میں غفلت برتی جائے تو یہ مریض کی روزمرہ کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے مستقل معذوری کے دائرے میں دھکیل سکتی ہیں۔ لمس جامشورو عوام کو اعلیٰ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف مہلک اور پیچیدہ بیماریوں سے بچاؤ کی آگاہی مہمات جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔” معاشرتی رویے اور جوڑوں کے امراض کا المیہ سیمینار سے اپنے کلیدی اور فکر انگیز خطاب میں شعبہ آرتھوپیڈک سرجری ٹراما سینٹر لمس حیدرآباد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فہیم میمن نے معاشرے کے منفی طبی رویوں اور ترجیحات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں جب کسی شخص کو دل کا دورہ پڑتا ہے یا دماغ کی کوئی پیچیدہ بیماری لاحق ہوتی ہے تو لوگ فوری طور پر حرکت میں آتے ہیں اور اپنا گھر یا جائیداد تک بیچ کر علاج کروانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، گھٹنوں اور جوڑوں کے امراض کو محض اس لیے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہتا ہے کہ یہ بیماریاں فوری طور پر جان لیوا ثابت نہیں ہوتیں۔ پروفیسر فہیم میمن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غیر سنجیدہ رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں مریض بروقت اور علاج کے ذریعے ٹھیک ہونے کے بجائے مسلسل شدید درد، تکلیف اور معذوری کو اپنی تقدیر سمجھ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جوڑوں کے امراض: اقسام، علامات اور تشخیصی وسائل طبی ماہرین نے سیمینار میں جوڑوں کے امراض کی مختلف اقسام اور ان کی علامات کا تفصیلی احاطہ کیا۔ ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ جوڑوں کی بیماریاں صرف ایک نوعیت کی نہیں ہوتیں بلکہ ان کی مختلف طبی ساخت ہوتی ہے: 1. بیماریوں کی اہم اقسام جوڑوں کی گھسائی (Osteoarthritis): عمر بڑھنے کے ساتھ یا زیادہ دباؤ سے جوڑوں کے درمیان موجود قدرتی چکنائی اور کارٹیلیج کا ختم ہو جانا۔ جوڑوں کی سوزش (Rheumatoid Arthritis): جوڑوں کے اندرونی حصے میں سوزش، ورم اور شدید درد کی لہریں۔ قوتِ مدافعت کی بیماریاں (Autoimmune Diseases): جب جسم کا اپنا مدافعتی نظام ہی جوڑوں کے بافتوں (Tissues) پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ 2. نمایاں علامات اور تشخیصی طریقہ کار پروفیسر ڈاکٹر فہیم میمن اور دیگر ماہرین کے مطابق مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے پر فوراً محتاط ہو جانا چاہیے: جوڑوں اور گھٹنوں میں مسلسل درد اور سوجن (ورم) ہونا۔ صبح کے وقت یا بستر سے اٹھتے وقت جوڑوں کا شدید اکڑاؤ۔ اٹھنے، بیٹھنے، سیڑھیاں چڑھنے یا چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا۔ ماہرین نے بتایا کہ ان امراض کی بروقت اور درست تشخیص کے لیے ابتدائی طبی معائنہ، متاثرہ حصے کا ایکسرے (X-Ray)، اور مخصوص خون کے تشخیصی ٹیسٹ انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تشخیص اور علاج کے بنیادی مراحل: طبی معائنہ ➔ ایکس رے و بلڈ ٹیسٹ ➔ تشخیص ➔ فزیوتھراپی/ادویات ➔ فعال زندگی احتیاطی تدابیر، ورزش اور فزیوتھراپی کی اہمیت سیمینار کے دوران ماہرینِ جراحت نے مریضوں کے لیے احتیاطی تدابیر پر گفتگو کرتے ہوئے کچھ اہم غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر فہیم میمن نے وضاحت کی کہ گھٹنوں کے شدید درد یا جوڑوں کی ٹوٹ پھوٹ میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ وہ ماہر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بار بار سیڑھیاں چڑھنے، بہت زیادہ پیدل چلنے یا گھٹنوں پر اضافی وزن ڈالنے والی سرگرمیوں سے پرہیز کریں، کیونکہ اس سے جوڑ مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر مریض کے لیے مکمل طور پر بستر پر آرام کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بیماری کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے: وزن میں کمی: جسم کے اضافی وزن کو کم کر کے گھٹنوں اور کمر کے جوڑوں پر دباؤ میں ڈرامائی کمی لائی جا سکتی ہے۔ فزیوتھراپی: ماہر فزیوتھراپسٹ کی دیکھ بھال میں مخصوص ورزشیں جوڑوں کے پٹھوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ مناسب ورزش: ہلکی اور باقاعدہ ورزش سے جوڑوں کی کارکردگی اور لچک کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ عالمی و قومی پس منظر اور طبی تجزیہ پاکستان میں ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ عالمی ادارے برائے صحت (WHO) اور طبی سروے کے مطابق ملک میں غیر متوازن غذائیت، وٹامن ڈی کی شدید کمی، تحرک سے خالی (سست) طرزِ زندگی اور موٹاپے کی وجہ سے 40 سال سے زائد عمر کے افراد کی ایک بڑی تعداد جوڑوں کے مسائل کا شکار ہو رہی ہے۔ بالخصوص خواتین میں ہڈیوں کے بھر بھرے پن (Osteoporosis) کے مسائل وقت کے ساتھ سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ حیدرآباد اور جامشورو جیسے تعلیمی و طبی مراکز میں “لمس” کی جانب سے اس قسم کی آگاہی تقاریب کا انعقاد ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ اس کا اثر نہ صرف حیدرآباد بلکہ گرد و نواح کے دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں پر بھی پڑے گا جو اکثر معلومات کے فقدان اور تاخیر کی وجہ سے اپنے معالج تک اس وقت پہنچتے ہیں جب جوڑ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ تقریب کا اختتام اور سینئر ڈاکٹروں کی شرکت آگاہی سیمینار اور واک کے اختتام پر تمام شرکاء نے عوام میں طبی شعور کو عام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس پروقار سیمینار میں آرتھوپیڈک اور دیگر شعبہ جات کے نامور ماہرین نے شرکت کی جن میں: پروفیسر عباس میمن پروفیسر اشرف خاصخیلی ڈاکٹر ارشاد بھٹو ڈاکٹر نصرت نثار ڈاکٹر اے ڈی میمن ڈاکٹر احمد علی میمن تقریب میں موجود تمام سینئر معالجین اور طبی عملے نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مریضوں کو مسلسل درد، ورم یا چلنے پھرنے میں رکاوٹ کی صورت میں فوری طور پر مستند ماہرِ آرتھوپیڈک سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ مرض کو ابتداء ہی میں روک کر مریض کو ایک خوشگوار اور متحرک زندگی کی طرف واپس لایا جا سکے۔ Post navigation پی ٹی ایف کا مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی جلوس۔ تاریخی و ثقافتی ورثے کا تحفظ: ڈپٹی کمشنر جامشورو کا سندھالوجی کا دورہ، میوزیم اور لائبریری کا معائنہ