Preloader
Emergency is not for just 12 districts of KP

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • ایمرجنسی کا دائرہ کار: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ کردہ ایمرجنسی صرف 12 متاثرہ اضلاع تک محدود نہیں بلکہ پورے خیبر پختونخوا پر لاگو ہوتی ہے۔
  • خاص میکانزم کا قیام: دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع کے لیے ایک خصوصی سیکرٹریٹ اور انتظامی فریم ورک قائم کیا گیا ہے جو چیف ایگزیکٹو کی زیر نگرانی معاونت فراہم کرے گا۔
  • دہشت گردی کے اعداد و شمار: وفاقی حکومت کے مطابق 2020 سے 2024 کے مقابلے میں 2024 سے 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد کا سنسنی خیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں حملوں کی تعداد 2,900 سے بڑھ کر 8,600 تک پہنچ گئی۔
  • یکساں انسداد دہشت گردی پالیسی: وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ ملک میں دو مختلف انسداد دہشت گردی پالیسیاں نہیں چل سکتی ہیں؛ وفاق اور صوبوں کا ایک ہی صفحے پر ہونا قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس: آئینی و انتظامی اقدامات کی وضاحت

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ وزراء نے واضح کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ملک کے صوبے خیبر پختونخوا میں جو ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، اس کا اطلاق تمام ضلعوں پر یکساں طور پر ہوتا ہے، تاہم دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع کے لیے بالخصوص ایک الگ انتظامی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ امن و امان کی انتہائی بگاڑ اور سیکورٹی اداروں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر وفاقی حکومت آئینی ذمہ داریوں سے آنکھیں نہیں چرا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو کے تحت ایک باضابطہ سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے جو ان 12 اضلاع میں امدادی اور سیکورٹی اقدامات کو براہ راست مانیٹر کرے گا تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ: سنسنی خیز اعداد و شمار

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر پریشان کن اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سالوں کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں غیر معمولی اور نگران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حکومتی ڈیٹا کے مطابق صورتحال کا موازنہ درج ذیل اہم پوائنٹس کے ذریعے کیا جا سکتا ہے:

  • دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ: گزشتہ سالوں کے مقابلے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
  • حملوں کی مجموعی تعداد: سال 2020ء سے 2024ء کے درمیان صوبے میں 2,900 دہشت گردانہ حملے ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ 2024ء سے 2026ء کے عرصے میں یہ تعداد خوفناک حد تک بڑھ کر 8,600 سے تجاوز کر گئی۔
  • نشانہ بننے والے ادارے: خیبر پختونخوا پولیس، صوبے میں تعینات مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ سوینز اور عام شہری بھی بڑی تعداد میں جاں بحق ہوئے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ جب سیکورٹی فورسز اور عام شہری مسلسل حملوں کی زد میں ہوں اور رپورٹیں مسلسل خطرے کی نشاندہی کر رہی ہوں، تو کسی بھی ذمہ دار حکومت کے لیے خاموش تماشائی بنے رہنا ممکن نہیں رہتا۔

یکساں انسدادِ دہشت گردی پالیسی اور وفاق کا موقف

وفاقی وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کو ایک مربوط اور یکساں پالیسی کی ضرورت ہے۔ ایک ہی ریاست میں وفاق اور کسی صوبے کی الگ الگ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا بیان: “آپ ایک ایسے ملک کا تصور کیسے کر سکتے ہیں جہاں دو مختلف انسدادِ دہشت گردی پالیسیاں چل رہی ہوں؟ کوئی بھی ایسی حکومت برداشت نہیں کی جا سکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتی ہو، ان کی پشت پناہی کرتی ہو یا ایسی نرم پالیسی اپنائے جس سے دہشت گردوں کو کارروائیوں کا موقع ملے۔”

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی یہ مسلمہ اصول ہے کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ہم آہنگی اور ہم آئنگی ہونی چاہیے۔ جب تک تمام ادارے ایک سمت میں کام نہیں کریں گے، تب تک پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کی حکمت عملی اور باہمی رابطہ کاری پر تنقید

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی سابقہ/پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے روئیے کو “غیر سنجیدہ” قرار دیا۔ وزراء کا کہنا تھا کہ وفاق نے صوبائی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کی۔

وفاقی وزراء نے اپنے نقطہ نظر کو یوں بیان کیا:

  1. سیاسی ترجیحات: وفاق کے مطابق صوبائی حکومت نے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے مقابلے میں اپنی سیاسی ترجیحات اور ایجنڈے کو مقدم رکھا۔
  2. وفاق پر چڑھائی کا الزام: وزیر قانون نے یاد دہانی کرائی کہ پی ٹی آئی نے صوبائی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی، تاہم اس وقت گورنر راج یا ایمرجنسی کی بات نہیں کی گئی تھی لیکن موجودہ سیکورٹی صورتحال نے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
  3. عوامی ردعمل: وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے وفاق کے اس فیصلے اور ایمرجنسی و گورنر راج کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے انہیں تحفظ کی ایک امید ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام پی ٹی آئی کے موقف کے ساتھ ہوتے تو آج لاکھوں لوگ سڑکوں پر ہوتے۔

آئینی پس منظر: آرٹیکل 232 اور 234 کا استعمال

پاکستان کے آئین میں جیو پولیٹیکل اور اندرونی امن و امان کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے مخصوص دفعات شامل کی گئی ہیں۔ آئین بنانے والوں نے آرٹیکل 232 (ایمرجنسی کا نفاذ) اور آرٹیکل 234 (صوبائی آئینی مشینری کی ناکامی پر اقدامات) کو انہی استثنائی حالات کے لیے متن میں شامل کیا تھا۔

آئینی شقوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

  • قانون کی حکمرانی کا خاتمہ: وفاق کا موقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کا نظام مکمل طور پر فلج ہو چکا تھا اور صوبائی حکومت سیکورٹی برقرار رکھنے میں مکمل ناکام رہی۔
  • ریاستی کیپیسٹی کی بحالی: ایمرجنسی کے نفاذ سے وفاقی اداروں کو براہ راست یہ صلاحیت مل جاتی ہے کہ وہ صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر یا خود امن و امان کی بحالی کے لیے ہنگامی فیصلے کر سکیں۔

تحزیہ اور مستقبل کے اثرات: معروضیت اور درپیش چیلنجز

صحافتی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور 12 مخصوص اضلاع کے لیے اسپیشل سیکرٹریٹ کے قیام سے خطے میں سیکورٹی آپریشنز میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ تاہم، اس اقدام کے سیاسی و انتظامی اثرات بھی گہرے ہوں گے۔

انتظامی و سیاسی پہلووفاقی موقفدرپیش چیلنجز / ممکنہ اثرات
سیکورٹی صورتحالدہشت گردی کا یکسوئی سے خاتمہ اور فورسز کا تحفطمقامی آبادی میں بے چینی کم کرنا اور بلا تاخیر امن قائم کرنا
صوبائی خودمختاریآئینی آئٹم کے تحت ہنگامی اور عارضی قدموفاق اور صوبائی سیاسی قوتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
عام شہریوں کی سیکیورٹی12 اضلاع کو خصوصی امداد اور مانیٹرنگبے گھر ہونے والے یا متاثرہ افراد کی بحالی اور دیکھ بھال

ایڈیٹوریل نوٹ

خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال بلاشبہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف جہاں روز بروز بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملے اور سیکورٹی فورسز کا جانی نقصان تشویش ناک ہے، वहीं دوسری طرف آئینی اقدامات کے نفاذ کے وقت تمام سیاسی فریقین کا قومی مفاد کو مقدم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وفاق کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کا بنیادی مقصد عوام کے جانی و مالی مال کا تحفظ ہونا چاہیے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ آئینی اقدامات اور قائم کردہ نیا سیکرٹریٹ خیبر پختونخوا کے بالخصوص ان 12 اضلاع میں امن قائم کرنے اور دہشت گردی کے گراف کو نیچے لانے میں کس حد تک کارگر ثابت ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام تر کارروائیاں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بلا تفریق کی جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔