اہم نکات (مختصر خلاصہ) سرکاری گاڑیوں کا نا جائز استعمال: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی عاطف خان پر صوبائی حکومت کی 15 سرکاری گاڑیاں اپنے رشتہ داروں اور سیکرٹریوں میں تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چندے اور فنڈز میں بے ضابطگیاں: اسلام آباد احتجاج کے نام پر پارٹی کارکنان اور مقامی قیادت سے 2 کروڑ روپے سے زائد کا فنڈ جمع کرنے کا دعویٰ۔ ٹھیکوں اور صحت کارڈ میں پارٹنرشپ: عاطف خان کے خصوصی سیکرٹریز اور قریبی افراد پر صحت کارڈ اور سرکاری ٹھیکوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے کرنے کے الزامات۔ بے نامی اور گرانقدر جائیدادیں: اسلام آباد، گلگت بلتستان، مردان اور ٹاپ سٹی میں اربوں روپے کی جائیدادوں کی موجودگی کا دعویٰ۔ مردان/پشاور: پی ٹی آئی رہنما عاطف خان پر مالی بے ضابطگیوں کے شدید الزامات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے مردان سے رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) عاطف خان کے خلاف مالیاتی بے ضابطگیوں، سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن سے متعلق سنگین داغ سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی متنازع رپورٹس کے مطابق عاطف خان پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ 13 سالوں کے دوران اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے غیر معمولی اثاثے اور جائیدادیں بنائیں۔ خبر کے مطابق، عاطف خان نے خیبر پختونخوا حکومت کے تحت آنے والی 15 انتہائی قیمتی اور سرکاری گاڑیاں اپنے نجی سیکرٹریوں، قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کو فراہم کر رکھی تھیں۔ ان گاڑیوں میں: 02 عدد وگو ڈبل کیبن 01 عدد بی ایم ڈبلیو (BMW) 02 عدد ٹویوٹا پریمیو 03 عدد فورچونر 06 عدد دیگر چھوٹی و درمیانی گاڑیاں رپورٹ کے مطابق نہ صرف یہ گاڑیاں غیر قانونی طور پر ان کے حوالے کی گئی تھیں بلکہ ان تمام گاڑیوں کے پٹرول، آئل اور ڈرائیوروں کی ماہانہ تنخواہیں بھی خیبر پختونخوا کے صوبائی خزانے سے ادا کی جا رہی تھیں۔ احتجاجی فنڈز اور ٹھیکیداروں سے شراکت داری کے الزامات رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی طرف پی ٹی آئی کے احتجاجی پروگرامز اور ریلیوں کی تیاریوں کے سلسلے میں عاطف خان نے مردان اور گردونواح کی مقامی قیادت اور پارٹی کارکنان سے دو کروڑ روپے (20 ملین) سے زائد کے فنڈز جمع کیے، جن کے مالیاتی آڈٹ کا کوئی حساب میسر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پرائیویٹ و خصوصی سیکرٹریز پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مختلف سرکاری ٹھیکیداروں کے ساتھ پارٹنرشپ (شراکت داری) کے نام پر اربوں روپے وصول کیے اور مختلف منصوبوں میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ صحت کارڈ اور اربوں روپے کے پراپرٹی اثاثے خبر میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایم این اے عاطف خان کے پانچ انتہائی قریبی معتمدین اور سیکرٹریز نے صوبائی حکومت کی “صحت کارڈ” اسکیم کے تحت ہسپتالوں کے پینلائزیشن اور دیگر معاشی ٹھیکوں کے ذریعے اربوں کا سرمایاجما کیا۔ عاطف خان کے نام اور ان کے مبینہ بے نامی اثاثوں سے متعلق جن جائیدادوں کا ذکر سامنے آیا ہے، ان میں شامل ہیں: اسلام آباد: گرانقدر رہائشی و تجارتی پراپرٹیز ٹاپ سٹی (اسلام آباد): کمرشل اور رہائشی پلاٹس گرین ایکڑ (مردان): قیمتی اراضی اور فارم ہاؤسز گلگت بلتستان: مختلف سیاحتی و تجارتی جائیدادیں عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ احتساب کا نظام مکمل فعال ہوا تو ہی یہ حقائق منظرِ عام پر آ سکیں گے کہ محض 13 سال کے عرصے میں کس طرح اتنے بڑے پیمانے پر جائیدادیں اور مالیاتی اثاثے تشکیل دیے گئے۔ توازن اور ایڈیٹوریل ملاحظہ نوٹ: یہ مضمون شائع شدہ الزامات اور رپورٹس کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ پاکستان کے قانونی و آئینی ضوابط کے تحت جب تک عدالت يا احتسابی ادارے (مثلاً نیب یا اینٹی کرپشن) کسی فرد پر جرم ثابت نہیں کر دیتے، اس وقت تک کسی بھی شخص کو قانونی طور پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مذکورہ الزامات کے حوالے سے عاطف خان یا ان کی ٹیم کے باضابطہ قانونی دفاعی موقف کو آئندہ آنے والی رپورٹوں کا حصہ بنایا جائے گا۔ Post navigation محکمہ اطلاعات سندھ میں 23 ملازمین کی ترقیاں: نچلے درجے کے عملے کے لیے کیریئر میں پیش رفت اور ادارہ جاتی بہتری کی جانب اہم قدم یونیورسٹی آف بلتستان سکردو: محض 5 کلومیٹر سڑک کی عدم تعمیر، ہزاروں طلبہ کا مستقبل گرد و غبار کی نذر