اہم نکات (خلاصہ) حملوں کی بحالی کا فیصلہ: یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ کیئو (یوکرین) روس کی آئل ریفائنریوں اور توانائی کی تنصیبات پر اپنے ڈرون و میزائل حملے دوبارہ شروع کر رہا ہے۔ روس پر الزامات: زیلنسکی کے مطابق، یوکرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ ‘توانائی بندی’ (Energy Ceasefire) کے تحت تین دن کے لیے حملے روکے تھے، لیکن روس نے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے۔ واشنگٹن سے نالائقی: فائنینشل ٹائمز (Financial Times) کو دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے سے متعلق حالیہ فیصلوں پر شدید مایوسی اور تحفظات کا اظہار کیا۔ جیو پولیٹیکل اثرات: توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے اس سلسلے سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں، خطے میں جنگ کے دائرہ کار اور ایندھن کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ روس اور یوکرین جنگ میں توانائی کا محاذ: ایک نیا موڑ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اب ایک انتہائی حساس اور معاشی نقطہ نظر سے تباہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ کیئو روسی حدود کے اندر واقع آئل ریفائنریوں، تیل کے ذخائر اور ایندھن کے بنیادی ڈھانچے پر اپنے حملے دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی کا یہ اہم اور سخت بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر، بالخصوص واشنگٹن کی جانب سے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے پر حملے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ تاہم زیلنسکی کے مطابق، ماسکو کی جانب سے مسلسل حملوں اور معاہدوں کی عدم پاسداری نے کیئو کو اپنا دفاع کرنے اور جوابی کارروائی کا راستہ دوبارہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فائنینشل ٹائمز کا انٹرویو: عارضی وقفے اور ٹرمپ کی تجویز کی تفصیلات بین الاقوامی معتبر اخبار ‘فائنینشل ٹائمز’ (Financial Times) کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں یوکرینی صدر نے انکشاف کیا کہ یوکرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی ‘توانائی کی حد تک جنگ بندی’ کی تجویز کا احترام کرتے ہوئے عارضی طور پر روسی توانائی کے اہداف پر حملے معطل کر دیے تھے۔ زیلنسکی کا کہنا تھا: “ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر حسنِ نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل تین دنوں کے لیے روسی آئل ریفائنریوں اور توانائی کے مراکز پر تمام حملے مکمل طور پر روک دیے تھے۔ ہمارا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کیا ماسکو بھی اس رویے کا مثبت جواب دیتا ہے یا نہیں۔” تاہم یوکرینی صدر کے مطابق، روس نے اس عارضی وقفے کا کوئی احترام نہیں کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماسکو نے اس دوران بھی یوکرینی شہروں، پاور گرڈز، حرارتی بجلی گھروں اور بجلی کے نظام کو مسلسل نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں یوکرینی شہری سخت سردی میں بجلی اور حرارت کی سہولت سے محروم ہو گئے۔ روس کی آئل ریفائنریوں پر حملوں کی حکمتِ عملی اور اثرات یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا بنیادی مقصد روس کی معاشی اور عسکری طاقت کو کمزور کرنا ہے۔ جنگ کی شروعات سے اب تک یوکرین نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ذریعے روس کے اندرونی علاقوں میں واقع متعدد اہم ریفائنریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی حملوں کی سٹریٹجک اہمیت کے اہم نکات: روسی معیشت کو نقصان: تیل اور ایندھن کی برآمدات روس کی جنگی معیشت اور مالیاتی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ریفائنریوں پر حملوں سے ماسکو کی برآمدی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ عسکری ایندھن کی قلت: روسی فوج کے ٹینکوں، جیٹ طیاروں اور جنگی گاڑیوں کو ایندھن کی فراہمی کے خطوط (Supply Lines) کو قطع کرنا اس حکمتِ عملی کا اہم جزو ہے۔ عالمی مارکیٹ پر اثر: روس دنیا کا ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ جب اس کی پروسیسنگ کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے، تو عالمی سطح پر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکدم اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ روسی دفاعی نظام پر دباؤ: ان حملوں نے روس کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز کو فرنٹ لائن سے ہٹا کر ملک کے اندر واقع صنعتی تنصیبات کی حفاظت پر تعینات کرے۔ واشنگٹن کے فیصلوں پر کیئو کی تشویش اور تحفظات فائنینشل ٹائمز کو دیے گئے اس انٹرویو میں زیلنسکی نے نہ صرف روس کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ امریکہ کے ساتھ اپنے روابط اور حالیہ پالیسی تبدیلیوں پر بھی کھل کر بات کی۔ یوکرینی صدر نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کی فوجی صلاحیتوں اور مہیا کیے جانے والے ہتھیاروں کے استعمال پر لگائی جانے والی بعض پابندیوں پر گہری تشویش اور ناخوشی کا اظہار کیا۔ زیلنسکی کے مطابق، امریکہ کے بعض حالیہ فیصلے یوکرین کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کا سبب بن رہے ہیں، جس سے میدانِ جنگ میں مساوات متاثر ہو رہی ہے۔ یوکرین طویل عرصے سے واشنگٹن سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اسے امریکی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں (مثلاً ATACMS) کو روسی سرزمیں کے اندرونی فوجی اہداف پر داغنے کی مکمل اجازت دی جائے۔ کیئو کا موقف ہے کہ جب تک اسے روس کے اندرونی عسکری و صنعتی مراکز کو تباہ کرنے کی کھلی آزادی نہیں ملتی، تب تک وہ روس کے حملوں کا مؤثر جواب نہیں دے سکتا۔ روس کا موقف اور توانائی کی جنگ میں شدت دوسری جانب، ماسکو نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یوکرینی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے حملے فوجی مقاصد کے لیے کیے جاتے ہیں، کیونکہ یوکرینی فوج اپنے آپریشنز کے لیے ملک کے قومی پاور گرڈ اور ایندھن کے نیٹ ورک کا استعمال کرتی ہے۔ روس کا یہ بھی دعویٰ رہا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملے غیر ملکی سویلین تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں جو کہ ایک اشتعال انگیز اقدام ہے۔ تاہم دونوں طرف سے ایک دوسرے کے توانائی کے شعبوں کو نشانہ بنانے کے اس سلسلے نے جنگ کو ایک ایسے ‘معاشی اور توانائی کے دلدل’ میں بدل دیا ہے جہاں سے نکلنے کی تمام سفارتی کوششیں فی الحال ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ ایڈیٹوریل تجزیہ: سفارتی بحران اور مستقبل کے امکانات یوکرینی صدر زیلنسکی کا حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عارضی یا جزوی جنگ بندی کی کوششیں اتنی آسانی سے کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اس قدر شدید ہے کہ کوئی بھی فریق پہلا قدم اٹھانے پر تیار نظر نہیں آتا۔ آنے والے دنوں میں روس کی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں میں شدید تیز رفتاری دیکھی جا سکتی ہے، جس کے جواب میں روس کی جانب سے یوکرینی شہروں پر مزید ہولناک میزائل اور ڈرون حملوں کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف دونوں ممالک میں انسانی اور معاشی بحران شدید تر ہوگا بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایندھن اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ایک کٹھن چیلنج بن جائے گا۔ نوٹ: یہ خبر بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں اور فائنینشل ٹائمز (Financial Times) کو دیے گئے صدر ولودی میر زیلنسکی کے باضابطہ انٹرویو کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ Post navigation دہلی احتجاجی پابندی کیس: بھارتی وزارتِ داخلہ کی سپریم کورٹ میں ‘غیر مشروط معافی’ پر وضاحت، باقاعدہ طریقہ کار قرار جعلسازوں کے خلاف ڈرپ کا بڑا کریک ڈاؤن: پاکستان میں ادویات کی خرید و فروخت کے لیے ‘ٹو ڈی بار کوڈ’ اور سیریل نمبرز لازمی قرار