Preloader
Governor announced compensation for victims

(رپورٹ: انورزیب خان)

اہم نکات (خلاصہ)

  • مالی امداد کا اعلان: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 2 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے.
  • خستہ حال عمارت اور این او سی کی جانچ پڑتال: گورنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اس خستہ حال اور غیر محفوظ عمارت کو پچھلے دورِ حکومت میں این او سی (NOC) کس نے جاری کی تھی، اور اس معاملے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا.
  • اجتماعی نمازِ جنازہ اور سوگوار ماحول: سانحے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد اور اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی، جبکہ پورے صوبے میں سوگ کا سماں ہے.
  • ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم: انتظامیہ نے سکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ گورنر نے واضح کیا ہے کہ غفلت اور لاپرواہی برتنے والے کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا.

پشاور کا دل دہلا دینے والا سانحہ دیر کالونی

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آنے والا نجی اسکول کی چھت گرنے کا اندوہناک حادثہ ملکی تاریخ کے سیاہ ترین اور غمگین ترین ابواب میں شامل ہو چکا ہے. اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں درجنوں معصوم طلبہ اور اساتذہ جان کی بازی ہار گئے جبکہ دسیوں افراد شدید زخمی ہوئے.

واقعے کی اطلاع ملتے ہی تمام متعلقہ فلاحی اداروں، ریسکیو 1122، پاک فوج کے جوانوں اور ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ملبے تلے دبے بچوں کو باہر نکال کر قریبی ہسپتالوں (بالخصوص لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور نصیر اللہ بابر میموریل ہسپتال) منتقل کیا. اس المناک سانحے پر جہاں پورے ملک کی آنکھیں اشک بار ہیں، وہیں سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے.

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا دورہ اور مالی امداد کا اعلان

اس نازک گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ہسپتالوں کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا.

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور تقاریب میں خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے مالی امداد کا اعلان کیا جس کے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • شہداء کے لواحقین کے لیے: سانحے میں شہید ہونے والے ہر بچے کے اہل خانہ کو حکومتِ خیبرپختونخوا کی جانب سے 10 لاکھ روپے فی کس مالی امداد دی جائے گی.
  • زخمیوں کے لیے: حادثے میں زخمی ہونے والے تمام طلبہ کی بہتر دیکھ بھال اور مالی معاونت کے لیے 2 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا گیا ہے.
  • مفت علاج کی سہولت: زخمیوں کے تمام طبی اخراجات حکومت اٹھائے گی اور ہسپتالوں میں علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں.

خستہ حال عمارت اور این او سی (NOC) کے اجرا کی غیر جانبدارانہ تحقیقات

گورنر فیصل کریم کنڈی نے سانحے کے اسباب پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے. انہوں نے سخت الفاظ میں سوال کیا کہ اتنی خطرناک اور خستہ حال عمارت کو پچھلے دورِ حکومت میں تعلیمی سرگرمیوں کے لیے کس کی پشت پناہی اور کن اصولوں کے تحت این او سی دی گئی تھی?

گورنر نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ:

“اس اندوہناک واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں گی۔ اسکول کی عمارت کو غیر قانونی طور پر اجازت نامہ دینے والے اور اس غفلت میں ملوث جو بھی افسر یا فرد پایا گیا، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔”

یاد رہے کہ انتظامیہ نے پہلے ہی کارروائی کرتے ہوئے نجی اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے.

اجتماعی جنازے اور عوامی ردِعمل

دیر کالونی کے اس دلخراش واقعے کے بعد پورے پشاور میں کہرام مچا ہوا ہے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ قریب حیدر فٹ بال گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں سوگوار شہریوں، شہداء के لواحقین، سیاسی رہنماؤں اور عسکری حکام نے شرکت کی.

اجتماعی جنازے کے دوران فضا سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ صرف مالی امداد اس سانحے کا مداوا نہیں ہو سکتی، بلکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں کے معیار کو سختی سے مانیٹر کیا جائے تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود اس طرح اجڑنے نہ پائے.

ایڈیٹوریل تجزیہ: تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی سیکیورٹی کا سوال

پشاور کا یہ سانحہ ہمارے متعلقہ اداروں اور بالخصوص بلدیاتی و تعلیمی ریگولیٹری باڈیز کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے. گنجان آباد علاقوں اور تنگ گلیوں میں بغیر کسی پائیدار بنیادی ڈھانچے کے کثیر المنزلہ سکول چلانا اور متعلقہ محکموں کی جانب سے آنکھیں بند کر لینا صریحاً غفلت کے زمرے میں آتا ہے.

گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے این او سی جاری کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا حکم ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اسے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبہ بھر کے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کا بلڈنگ سیفٹی آڈٹ کیا جائے، خستہ حال عمارتوں کو فوری طور پر سیل کیا جائے، اور ذمہ دار عناصر کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ اسکول کے بچوں کا تعلیمی ماحول محفوظ بنایا جا سکے.

نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب سرکاری بیانات، گورنر خیبرپختونخوا کے اعلانات اور زمینی حقائق کی روشنی میں معروضی انداز میں مرتب کی گئی ہے۔