Preloader
IGP visit roof collapsed school

📌 اہم نکات (خلاصہ)

  • خستہ حال عمارت کا حادثہ: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی خستہ حال عمارت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پیش آیا۔
  • اعلیٰ حکام کا فوری دورہ: انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے دیگر اعلیٰ افسران کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔
  • مالک کی گرفتاری اور قانونی کارروائی: عمارت کو سیل کر کے سکول مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
  • تحقیقاتی کمیٹی کا قیام: ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو حادثے کے تمام محرکات اور حقائق کا تعین کرے گی۔

حادثے کی تفصیلات اور موجودہ صورتحال

پشاور (رپورٹ: انورزیب خان): صوبائی دارالحکومت پشاور کے گنجان آباد علاقے دیر کالونی میں قائم ایک نجی سکول کی خستہ حال عمارت کے اچانک زمین بوس ہو جانے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد، ریسکیو 1122 اور پشاور پولیس نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ملبے تلے دبے افراد کو باہر نکالا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے دیگر اعلیٰ پولیس حکام کے ہمراہ متاثرہ مقام کا فوری دورہ کیا۔ آئی جی پی کے ہمراہ ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) پشاور ڈاکٹر زاہد اللہ اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

دورے کے دوران ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے آئی جی پی کو وقوعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی پیشرفت اور ذمہ داران کے خلاف اب تک کی گئی قانونی کارروائیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

آئی جی پی کا ردعمل: “بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا”

متاثرہ عمارت کا معائن کرنے کے بعد میڈیا اور دیگر حکام سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پی ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ سکول کی عمارت انتہائی خستہ حال اور بوسیدہ تھی، جس میں معصوم بچوں کی تعلیم جاری رکھنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام تھا۔

“معصوم بچوں اور شائقینِ علم کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں۔ اس دردناک واقعے کے تمام ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔” — ذوالفقار حمید (آئی جی پی خیبرپختونخوا)

آئی جی پی نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ غمزدہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

ابتدائی تحقیقات، مالک کی گرفتاری اور کمیٹی کا قیام

واقعے کی ابتدائی رپورٹ اور مقامی آبادی سے ملنے والی معلومات کے مطابق، چند مقامي افراد نے پہلے بھی سکول انتظامیہ اور مالک کو عمارت کی خستہ حالی اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے شدید تشویش سے آگاہ کیا تھا، تاہم اس پر کوئی عملدرآمد نہ کیا گیا۔

پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے درج ذیل اہم قدم اٹھائے ہیں:

  1. عمارت کی سیلنگ: منہدم ہونے والی سکول کی عمارت اور اس سے ملحقہ خطرناک حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
  2. مالک کی حراست: سکول کے مالک کو پولیس نے فوری طور پر حراست میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
  3. تحقیقاتی کمیٹی: حادثے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو اس بات کا تعاقب کرے گی کہ آیا متعلقہ اداروں کی جانب سے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا یا نہیں۔

پشاور پولیس اور ٹریفک وارڈنز کی پیشہ ورانہ خدمات کی تعریف

آئی جی پی ذوالفقار حمید نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والی ٹیموں بالخصوص پشاور پولیس اور ٹریفک وارڈنز کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد ٹریفک پولیس نے ہسپتالوں کو جانے والے تمام راستوں پر ٹریفک کی روانی کو بحال رکھا تاکہ زخمیوں کو بلا تاخیر طبی امداد مل سکے۔ پولیس کی اس پیشہ ورانہ مہارت اور فوری جوابی کارروائی (Quick Response) کی بدولت ریسکیو کا کام تیزی سے مکمل کیا جا سکا۔

آئی جی پی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس نہ صرف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے میدانِ عمل میں ہے بلکہ قدرتی آفات اور ناگہانی حادثات جیسی ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار اور مستعد ہے۔

نجی سکولوں کی عمارتوں کی حفاظت: پس منظر اور اہم سوالات

پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں نجی تعلیمی اداروں کی تعداد میں گزشتہ دہائی کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، ان میں سے بیشتر سکول رہائشی مکانات یا پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں زلزلے، آگ لگنے یا عمارت گرنے کی صورت میں ایمرجنسی ایگزٹ (Emergency Exit) یا حفاظتی تدابیر کا شدید فقدان ہوتا ہے۔

یہ حادثہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے معیار اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز و بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

اہم سوالات جو زیرِ بحث ہیں:

  • کیا سکول کی عمارت کو رجسٹر کرتے وقت اس کا بلڈنگ سیفٹی کاشف (Safety Audit) کیا گیا تھا؟
  • مقامی آبادی کی نشاندہی کے باوجود بلڈنگ مالکان اور انتظامیہ نے بروقت مرمت یا عمارت کی منتقلی کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟
  • کیا صوبائی سطح پر تمام نجی و سرکاری سکولوں کا سیفٹی آڈٹ کرنے کا کوئی جامع میکانزم موجود ہے؟

آئندہ کا لائحہ عمل اور عوام کی توقعات

دیر کالونی کے اس افسوسناک حادثے کے بعد عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ تمام نجی تعلیمی اداروں کا فوری طور پر سیکیورٹی و بلڈنگ سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔ عوام اور والدین یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومت اور پولیس صرف زبانی تعزیت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس واقعے کو ایک مثال بناتے ہوئے آئندہ ایسے تمام خستہ حال تعلیمی اداروں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں گے تاکہ معصوم بچوں کے مستقبل اور زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔