خلاصہ (اہم نکات) اندرونِ سندھ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ: قومی امن کونسل (R) کے سینٹرل چیئرمین راشد علی بلیدی نے عوامی مسائل کے حل اور معاشی ترقی کے لیے اندرونِ سندھ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وڈیرہ سسٹم اور جاگیردارانہ نظام پر کڑی تنقید: راشد علی بلیدی نے وڈیرہ شاہی کو سندھ کی پسماندگی، ہاریوں و مزدوروں کی استحصال اور عدمِ انصاف کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلح افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین: انہوں نے ملک میں قیامِ امن اور دفاعِ وطن کے لیے پاک فوج کے شہداء، غازیوں اور گمنام ہیروز کی لازوال قربانیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ حکومتی اپیل: راشد علی بلیدی نے حکومتِ پاکستان اور تمام سیاسی دھاروں سے نفرت و تقسیم کی سیاست ختم کر کے امن، بھائی چارے اور ترقی کے فروغ پر زور دیا۔ اندرونِ سندھ میں انتظامی اصلاحات کی آواز: پس منظر اور موجودہ صورتحال جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ): پاکستان بالخصوص صوبہ سندھ میں انتظامی امور کی بہتری، آبادی کے بے پناہ پھیلاؤ اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل پر مباحثہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ قومی امن کونسل (R) ہیومن رائٹس کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی آف پاکستان کے سینٹرل چیئرمین راشد علی بلیدی نے ایک خصوصی لائیو خطاب کے ذریعے اس اہم قومی و علاقائی معاملے پر اپنا مفصل بیانیہ جاری کیا ہے۔ پاکستان کی موجودہ انتظامی ساخت میں صوبہ سندھ کا جغرافیائی اور آبادی کا حجم انتہائی وسیع ہے۔ دارالحکومت کراچی اور بالائی یا زیریں سندھ کے دور دراز اضلاع (جیسے جیکب آباد، کشمور، گوٹھکی اور تھرپارکر) کے باشندوں کو اپنے بنیادی شہری و قانونی مسائل کے حل کے لیے درپیش مشکلات ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ انتظامی بنیادوں پر اضلاع کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی گفتگو کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں مختلف زوایوں سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ “نئے یونٹس کی تشکیل کسی کی تقسیم نہیں بلکہ عوامی ضرورت ہے” اپنے خطاب کے دوران چیئرمین قومی امن کونسل راشد علی بلیدی نے واضح کیا کہ اندرونِ سندھ نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مقصد کسی قسم کی سیاسی یا لسانی تقسیم نہیں بلکہ یہ خالصتاً ایک انتظامی اور معاشی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام اور حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “ساتھیو! انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بننا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب نئے یونٹس بنیں گے تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے، مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے اور دہائیوں سے پسماندہ چلے آنے والے علاقے ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ ہم کسی کی تقسیم کی بات نہیں کر رہے، ہم صرف انتظامی بہتری اور عام شہری کی سہولت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔” راشد علی بلیدی کا ماننا تھا کہ اختیارات کی عدم مرکزیت (Decentralization) سے عام غریب شہری کو ڈویژنل یا صوبائی دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی اذیت سے نجات ملے گی۔ فرسودہ وڈیرہ سسٹم اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف واضح موقف خطاب کے دوسرے اور سب سے اہم حصے میں چیئرمین راشد علی بلیدی نے صوبہ سندھ میں قائم دہائیوں پرانے وڈیرہ سسٹم اور جاگیردارانہ ساخت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے سندھ کی تاریخی پسماندگی اور عوام کی محرومی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وڈیرہ شاہی نے سندھ کے غریب ہاریوں، کسانوں اور محنت کشوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے غریب کے بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں، انہیں صحت اور روزگار کی بنیادی سہولیات میسر نہیں اور عدالتوں یا پولیس کے نظام میں ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔ انتظامی و سماجی پہلوموجودہ وڈیرہ شاہی نظام کے اثراتمجوزہ اصلاحات و متبادل حلتعلیم و صحتسکولوں اور ہسپتالوں پر ڈیروں کا قبضہ اور ناپرسیتعلیمی اداروں کی بحالی اور عوام کی آزادانہ رسائیعوامی معیشتغریب ہاری کا معاشی استحصال اور کم اجرتزرعی اصلاحات اور کسانوں کے حقوق کی قانونی ضمانتعدل و انصافنجی جیلیں اور مقامی اثر و رسوخ کے فیصلوں کا جکڑاؤقانون کی حاکمیت اور بلاتفریق انصاف کا قیام انہوں نے اعلان کیا کہ قومی امن کونسل مظلوم عوام اور غریب ہاریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس فرسودہ و ظالمانہ نظام کا خاتمہ کیے بغیر سندھ میں حقیقی امن و ترقی ممکن نہیں۔ پاک فوج کی قربانیوں کو سلام اور قومی سلامتی کا دفاع راشد علی بلیدی نے اپنے لائیو پیغام میں پاکستان کی مسلح افواج اور سیکورٹی اداروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اج ہم جن حالات میں سکون سے سانس لے رہے ہیں، یہ پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کا مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے کہا: “اس ملک میں جو آج امن و امان قائم ہے، یہ پاک فوج کی بے شمار قربانیوں کی بدولت ہے۔ ہماری پاک فوج دن رات سرحدوں پر دشمن کا مقابلہ کر رہی ہے اور ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ہے، تب ہی ہم اپنے گھروں میں سکون سے سوتے ہیں۔ ہم افواجِ پاکستان کے شہداء، غازیوں اور تمام گمنام ہیروز کو لال سلام اور عقیدت پیش کرتے ہیں۔” نفرت کی سیاست کا خاتمہ اور حکومتی اداروں سے اپیل خطاب کے اختتام پر راشد علی بلیدی نے حکومتِ پاکستان، تمام سیاسی قیادت اور اربابِ اختیار سے اپیل کی کہ ملک میں پھیلی نفرت، انتشار اور تقسیم کی سیاست کا سدِ باب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی و بین الاقوامی معاشی حالات میں پاکستان مزید کسی سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی و سماجی دھاروں کو چاہیے کہ وہ نفرت کے بجائے بھائی چارے، باہمی احترام اور عوامی فلاح کی سیاست کو فروغ دیں۔ جب تک ملک کے غریب طبقات کو ان کے حقوق نہیں ملتے اور جاگیردارانہ سوچ کا خاتمہ نہیں ہوتا، ترقی کا سفر نامکمل رہے گا۔ ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی و معروضی جائزہ) بطور ایک نیوز ایڈیٹر اور سینئر صحافی، یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں انتظامی یونٹس کی تشکیل اور جاگیردارانہ نظام پر بحث ایک دیرینہ اور حساس موضوع ہے۔ سندھ میں وڈیرہ شاہی کے خاتمے اور روزگار کی منصفانہ فراہمی کے مطالبات پسماندہ طبقات کی حقیقی آواز کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے تمام سیاسی دھاروں کی آئینی و قانونی رضامندی اور قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے مربوط قانون سازی ناگزیر ہے۔ راشد علی بلیدی اور قومی امن کونسل کا یہ بیانیہ عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کرتا ہے، جس پر پائیدار نتائج کے لیے سنجیدہ سیاسی و حکومتی مشاورت کی ضرورت قائم رہے گی۔ Post navigation بنوں: پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف بڑا اقدام، فائرنگ کے تبادلے کے بعد بدنامِ زمانہ مجرمِ اشتہاری زخمی حالت میں گرفتار، آئس اور پستول برآمد جیکب آباد: گڑھی خیرو میں کسان دشمن پالیسیوں اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف ہاری جدوجہد کمیٹی اور جے یو آئی کا شدید احتجاج