خلاصہ (اہم نکات) احتجاجی مظاہرہ: ضلع جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو کے علاقے دوداپور میں ہاری جدوجہد کمیٹی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے زیرِ اہتمام کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ریلی نکالی گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مرکزی قیادت: مظاہرے کی قیادت مختیار علی کھوسو، مولانا مولاداد کھوسو اور دیگر مقامی سیاسی و سماجی رہنما کر رہے تھے، جنہوں نے ریلی سے خطاب بھی کیا۔ آبادگاروں کے درپیش چیلنجز: گرانفروشی، بیج و کھاد کی بلیک مارکیٹنگ، مہنگی زرعی ادویات اور فصلوں کی انتہائی کم سرکاری و مارکیٹ قیمتوں کے باعث کسان ہر سال لاکھوں روپے کے مالی نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ بنیادی مطالبات: کسان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی پالیسیوں میں فوری اصلاحات لائی جائیں، کھاد و ادویات پر سبسڈی دی جائے اور فصلوں کی مناسب قیمتِ خرید مقرر کی جائے۔ دوداپور میں کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ اور پس منظر جیکب آباد (نامہ نگار): اندرونِ سندھ میں زرعی شعبے کی ابتر صورتحال، بیج و کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور فصلوں کی مناسب قیمتیں نہ ملنے کے خلاف کسانوں اور ہاریوں کا احتجاج شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ضلع جیکب آباد کی تحصیل گڑھی خیرو کے قصبے دوداپور میں کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ‘ہاری جدوجہد کمیٹی’ اور ‘جمعیت علمائے اسلام’ (جے یو آئی) کے مشترکہ اہتمام میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت ہاری رہنما مختیار علی کھوسو، جے یو آئی کے رہنما مولانا مولاداد کھوسو اور دیگر مقامی قائدین کر رہے تھے۔ اس موقع پر ہاریوں، آبادگاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کسان دشمن پالیسیوں کے خاتمے اور آبادگاروں کے حقوق کے حق میں نعرے درج تھے۔ شمالی سندھ کا علاقہ جیکب آباد اور اس سے ملحقہ گڑھی خیرو کی بیلٹ بنیادی طور پر زرعی معیشت پر منحصر ہے۔ یہاں کی اہم ترین فصلیں چاول (دھان)، گندم اور سرسوں ہیں۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں، زرعی اخراجات میں بی تحاشا اضافے اور غیر منصفانہ سرکاری پالیسیوں نے مقامی آبادگاروں کو شدید معاشی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ “زراعت تباہی کی جانب گامزن ہے” — رہنماؤں کا خطاب احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنما مختیار علی کھوسو اور مولانا مولاداد کھوسو نے زرعی پالیسیوں اور انتظامی عدم توجہی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس تیار کرنے والا کسان خود فاقہ کشی پر مجبور ہو چکا ہے جبکہ مڈل مین اور گرانفروش عناصر ہاریوں کی محنت پر منافع کما رہے ہیں۔ رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا: “آج کسان اور آبادگار خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ایک طرف مہنگے بیج، کیمیاوی کھادیں (ڈی اے پی اور یوریا) اور مہنگی زرعی ادویات نے کسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، تو دوسری طرف جب فصل تیار ہو کر منڈی پہنچتی ہے تو تاجر اور مڈل مین اسے کوڑیوں کے دام خریدتے ہیں۔ حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے باعث پورا زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسانوں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ نہ ملا اور زرعی ادویات پر کنٹرول نہ کیا گیا تو علاقے کے ہزاروں ہاری زراعت کا پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر ملک کی خوراک کی سیکیورٹی پر پڑے گا۔ آبادگاروں کو درپیش معاشی مسائل اور اعداد و شمار سندھ کے زرعی اضلاع میں کسانوں کو جن مالی و انتظامی مشکلات کا سامنا ہے، ان کا جائزہ درج ذیل اشاریوں کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے: زرعی پیداواری لاگت میں اضافہ: ڈیزل، بجلی کے بلوں، بیج، یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں پچھلے چند سالوں کے دوران 100 سے 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ سالانہ مالی نقصان: فصلوں کا مناسب ریٹ نہ ملنے کے باعث ایک عام درمیانے درجہ کا آبادگار ہر سال لاکھوں روپے کے قرض تلے دب جاتا ہے۔ بلیک مارکیٹنگ: کھاد کے بحران کے دنوں میں یوریا کھاد کی بوری سرکاری نرخوں کے بجائے منافع خوروں کی جانب سے دگنی قیمت پر بلیک میں فروخت کی جاتی ہے۔ سرکاری خریداری کے مراکز کی عدم دستیابی: پاسکو یا صوبائی حویلیاں کی جانب سے خریداری مراکز کے قیام میں تاخیر کے باعث کسان اپنی فصلیں نجی تاجروں کو سستے داموں بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ زراعت پر منفی اثرات اور علاقائی معیشت کا تناظر سندھ بالخصوص جیکب آباد اور گڑھی خیرو میں زراعت صرف کسانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ نہیں بلکہ پورے خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جب کسان نقصان میں جاتا ہے تو اس کا اثر مقامی بازاروں، دکانداروں، اور مزدور طبقے پر بھی پڑتا ہے۔ چیلنج / مسئلہموجودہ اثراتکسانوں کا مجوزہ مطالبہگرانفروش کھاد و بیجپیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہبلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ اور سبسڈائزڈ بیج و کھادکم قیمتِ خریدکسانوں کا مسلسل معاشی نقصانگندم اور دھان کی سپورٹ پرائس میں اضافہنکاسیِ آب اور پانی کا بحراننہری پانی کی غیر منصفانہ تقسیمنہروں کی بھال اور آخری سرے (ٹیل) تک پانی کی فراہمی مظاہرین کے بنیادی مطالبات اور آئندہ کا لائحہ عمل دوداپور میں منعقدہ اس مشترکہ احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر ہاری جدوجہد کمیٹی اور جے یو آئی کی جانب سے حکومتِ سندھ اور وفاقی وزارتِ زراعت کے سامنے درج ذیل بنیادی مطالبات رکھے گئے: کسان دشمن پالیسیوں کا فوری خاتمہ: تمام غیر منصفانہ زرعی قوانین اور ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے۔ فصلوں کی معقول قیمتیں: گندم، چاول اور دیگر فصلوں کے سرکاری نرخ آبادگاروں کی پیداواری لاگت کو مدنظر رکھ کر مقرر کیے جائیں۔ کھاد اور زرعی ادویات کی مانیٹرنگ: ضلعی انتظامیہ کھاد اور زرعی ادویات کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کرے۔ زرعی قرضوں میں رعایت: پسماندہ اضلاع کے کسانوں کے لیے بلا سود زرعی قرضوں کی فراہمی اور سابقہ قرضوں کی اقساط میں نرمی کی جائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر فوراً عمل درآمد نہ کیا گیا اور کسانوں کے معاشی استحصال کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار پورے ضلع جیکب آباد تک پھیلائیں گے اور قومی شاہراہوں پر دھرنا دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ایڈیٹوریل نوٹ (صحافتی و معروضی جائزہ) بطور ایک نیوز ایڈیٹر اور صحافی، یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسان اور ہاری معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔ شمالی سندھ اور بالخصوص جیکب آباد کے کسانوں کے مطالبات محض ایک سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہیں جس کی بنیادی وجہ زرعی مداخل (Inputs) کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مارکیٹ کے غیر متوازن میکانزم ہیں۔ صوبائی حکومت اور محکمہ زراعت کی یہ آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل کا فوری نوٹس لیں، کھاد کی بلیک مارکیٹنگ پر قابو پائیں اور فصلوں کی شفاف خریدو فروخت کا نظام وضع کریں تاکہ کسانوں کا معاشی قتل عام روکا جا سکے اور ملک میں زرعی خودکفالت قائم رہ سکے۔ Post navigation اندرونِ سندھ انتظامی یونٹس کا قیام اور وڈیرہ شاہی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت: راشد علی بلیدی کا قوم سے لائیو خطاب